Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Hamar-e-liye Sabaq

Urdu · 2 min

ہمارے لیے سبق: ہندوستان کے حالات نے اگرچہ اس کی اجازت نہ دی کہ یہاں کوئی شخص ہٹلر بن سکے، مگر ایک اعتبار سے ہمارے اکثر لیڈر ہٹلر ہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے بیشتر لیڈر، خواہ وہ کمیونٹی لیڈر ہوں یا قومی لیڈر، یہی کرتے رہے ہیں کہ وہ فرقہ یا قوم کو پیش آنے والی کسی مصیبت کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ بگڑے ہوئے حالات کو پوری ذمہ داری وقت کی حکومت پر ڈال کر اس کے خلاف دھواں دھار تقریریں شروع کر دیتے ہیں، جلسہ جلوس، اخباری بیانات کے ہنگامہ، اخباری بیانات کا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے، اور ان سب کا رخ ہمیشہ حکومتِ وقت کی طرف ہوتا ہے۔ عوام اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر جوخ در جوخ ایسے لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں۔

ان کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وقت کی حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہو جاتے ہیں۔ کسی کا یہ قول اس قسم کے تمام انقلابات پر صادق آتا ہے کہ انقلاب اس بات کی ایک کامیاب کوشش ہے کہ ایک بری حکومت کو ختم کر کے اس سے زیادہ بہتر، اس سے بھی زیادہ بری حکومت کو اپنے اوپر مسلط کر لیا جائے۔ A revolution is a successful effort to get rid of a bad government and set up a worse.

کتاب: تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 194۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.