← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Dusri Misaal
Urdu · 10 min
دوسری مثال: ایک طرف ہٹلر کی یہ تاریخ ہے، دوسری طرف اسی یورپ میں برطانیہ کی ایک تاریخ ہے۔ برطانیہ میں اس کے بالکل برعکس انداز میں ایک پارٹی بنی جو عام طور پر "فیبین سوسائٹی" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا طریقۂ فکر اور اس کا انداز اس سے مختلف تھا جو ہٹلر کا اور اس کی نیشنل سوشلسٹ، یعنی نازی پارٹی کا تھا۔ فیبین سوسائٹی برطانیہ میں کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکی، مگر اس نے برطانیہ کے لیے جو کام کیا وہ نازی پارٹی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ اہم تھا۔
فیبین سوسائٹی لندن میں 1883 میں قائم ہوئی، اس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں کو دور کرنا تھا۔ اس سوسائٹی میں ابتداً جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک جارج برنارڈ شاہ، 1886 تا 1950 تھا۔ برنارڈ شاہ اپنے اندر عوام پسند تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، چنانچہ اس کی تقریروں نے اس تحریک کے گرد ایک بھیڑ جمع کر دی۔ نوجوان برنارڈ شاہ نے اس کے بعد عوامی مظاہرے کا منصوبہ بنایا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جلوس نکالا۔
اس جلوس میں زیادہ تر درمیانی طبقے کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جب مارچ کرتے ہوئے لندن کے ان علاقوں میں پہنچے جہاں بڑے بڑے دولت مند رہتے تھے، تو ان کے کچھ افراد تشدد پر اتر آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے۔ اس پہلے تجربے کے بعد ہی فیبین سوسائٹی کے رہنما جلوس اور مظاہرے کے سخت مخالف ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پرامن مظاہرے کا پابند رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو پرامن مظاہرے کا پابند رکھنا انتہائی حد تک مشکل ہے، اس لیے ہم اپنی اصلاحی جدوجہد کو مظاہرے کے بغیر چلائیں گے۔ اس کے بعد فیبین سوسائٹی پریس، اجتماعات، علمی ریسرچ وغیرہ جیسے غیر مظاہراتی طریقوں کی پابندی غیر مظاہراتی طریقوں کی پابند رہ کر کام کرنے لگی۔ فیبین سوسائٹی نے تدریجی طریقہ کار کی ناگزیرت، یعنی ان ایویٹیبلسنس آف گریجولزم، پر زور دیا۔ اس تحریک کے لوگ سوشلزم کو مانتے تھے، مگر وہ ارتقائی سوشلزم کا عقیدہ رکھتے تھے، نہ کہ انقلابی سوشلزم کا۔
The Fabinians put their faith in evolutionary socialism rather than in revolution. والیوم نمبر 4، پیج نمبر 20۔ غیر مظاہراتی طریقۂ عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ غیر مظاہراتی طریقۂ عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ موجودہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کام میں اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے، توسیع کے بجائے استحکام پر خانے ہونا پڑتا ہے۔ شہرت اور مقبولیت کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گمنامی میں دفن کرنے کے لیے راضی ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ فیبین سوسائٹی کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ فیبین سوسائٹی نے برطانیہ میں ایک زبردست تاریخ بنائی، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانوی عظمت کو قائم کرنے کے لیے اس کے رہنماؤں کو اپنی ذاتی عظمت سے دستبردار ہو جانا پڑا۔ اپنے معتدل طرز فکر اور اپنے غیر عوامی طریقہ کار، فیبین سوسائٹی کو یہ قیمت دینی پڑی کہ وہ کبھی برطانیہ کی مقبول عام تحریک نہ بن سکی۔ 1946 کا زمانہ اس کا عروج کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے، مگر اس عروج کے زمانے میں بھی فیبین سوسائٹی کے ممبرز کی تعداد 8400 سے زیادہ تھی۔ وہ ہمیشہ خواص کی تحریک شمار کی جاتی رہی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ فیبین سوسائٹی نے اپنی خاموش فکری سرگرمیوں کے ذریعے برطانیہ کے ذہین طبقے پر گہرا اثر ڈالا۔ ملک کی عام آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اگرچہ 1% سے زیادہ نہ تھی، مگر اعلیٰ ترین اذہان کی قابلِ لحاظ تعداد اس سے متاثر ہو گئی۔ چنانچہ اس کے ممبرز کی فہرست میں جارج برنارڈ شاہ، سڈنی ویب، اور کلیمنٹ اٹیلی جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ فیبین سوسائٹی کے ارکان اگلے مرحلے میں برطانیہ کی لیبر پارٹی میں شریک ہو گئے۔
یہ لوگ لیبر پارٹی میں اس حد تک داخل ہوئے کہ وہ اس کا دماغ بن گئے۔ چنانچہ 1945 کے انتخابات میں لیبر پارٹی برطانیہ میں برسر اقتدار آئی تو اس کے ممبران پارلیمنٹ کی نصف تعداد وہ تھی جو فیبین سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ پارٹی کے لیڈر کلیمنٹ اٹیلی بھی اس کے ایک ممبر تھے۔ فیبین سوسائٹی ملک کی مجموعی آزادی میں بمشکل 1% تھی، مگر حکمران پارٹی میں اس کی تعداد 50% تک پہنچ گئی۔
1945 سے پہلے برطانیہ میں سر ونسٹن چرچل کی پارٹی برسر اقتدار تھی۔ اس وقت برطانیہ کے نوآبادیاتی مخبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ بظاہر برطانیہ کی طاقت ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی، مگر چرچل نے برطانوی مخبوضات کو آزاد کرنے کا مطالبہ بے نیازانہ طور پر رد کر دیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ "ملک معظم کے وزیراعظم اس لیے نہیں بنے ہیں کہ وہ سلطنت برطانیہ کے خاتمے کی تخریب کی صدارت کریں۔
" "He had not become his Majesties' first minister to preside over the liquidation of his majorities' empire." ونسٹن چرچل کی پالیسی برطانیہ کو اسی قسم کے انجام کی طرف لے جانے والی تھی جہاں ہٹلر نے جرمنی کو پہنچایا تھا، یعنی اپنے مخبوضہ ممالک سے پرتشدد جنگ اور بالآخر ظلم کا ٹائٹل لے کر ان کی آزادی پر راضی ہونا۔ مگر 1945 میں جب لیبر پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس نے اپنے فیبین ممبرز کے زیرِ اثر پورے معاملے پر اثرِ نو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پسندانہ اندازِ فکر نے انہیں بتایا کہ نوآبادیاتی ممالک کو موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک اپنے قبضے میں رکھنا ناممکن ہے۔ جدید حالات کے نتیجے میں بہرحال ایک نہ ایک دن وہ آزاد ہو کر رہیں گے، لیکن اگر برطانیہ پرامن طور پر انہیں آزاد کر دے تو یہ اس کے لیے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔
یہ دراصل فیبین دماغ ہی تھا جس کے تحت برطانیہ نے 1947 میں یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کو اور اس کے بعد دوسرے ممالک کو پرامن طور پر آزاد کر دے۔ اس حقیقت پسندانہ فیصلے کا زبردست فائدہ برطانیہ کو ملا۔ ایک طرف اس کے عالمی اقتصادی فائدے بڑی حد تک محفوظ رہے، دوسری طرف برٹش کامن ویلتھ کی صورت میں اس نے مزید کم از کم نصف صدی تک اپنے عالمی سیاسی وقار کا تحفظ کر لیا۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 191۔