Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Tareekh ka Sabaq

Urdu · 3 min

تاریخ کا سبق: جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر 1889 تا 1945 ذاتی حفاظت کے لیے اپنے پاس ایک خاص پستول رکھتا تھا۔ اس پستول پر سونے کا کام تھا، اور اس کا دستہ ہاتھی دانت کا بنا ہوا تھا۔ یہ پستول دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی فوجیوں کو میونخ میں ہٹلر کے مکان میں ملا۔ اس وقت سے یہ پستول محفوظ رکھا ہوا تھا۔

تازہ اطلاع کے مطابق اس کو نیلام کر دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے اس کو 14,000 ڈالر میں خرید لیا۔ یہ پستول اور بندوق کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ قیمت ہے جو کسی ایک دستی ہتھیار کو ادا کی گئی۔ ٹیلی گراف: 22 نومبر 1987۔

دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہٹلر کو سابق متحدہ جرمنی میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی، حتیٰ کہ وہ ملک کا ڈکٹیٹر بن گیا۔ تاہم اس قائد اعظم نے جرمنی کو قومِ اصغر بنانے کے سوا اور کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ ہٹلر نے جو حالات پیدا کیے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمنی کا وسیع ملک تقسیم ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا۔ اور اس پر چار بیرونی طاقتوں، یعنی روس، برطانیہ، امریکہ، فرانس، کا غلبہ قائم ہو گیا۔

خود ہٹلر کا آخری انجام یہ ہوا کہ جس پستول کو وہ اپنی ذاتی حفاظت کے لیے ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد اس نے 30 اپریل 1945 کو اسی پستول سے اپنے آپ کو مار کر خودکشی کر لی۔ ہٹلر نے اپنی قوم کو بھی ہلاک کیا، اور بالآخر خود اپنے آپ کو بھی۔ کتاب: تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 189۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.