Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Tameer ki Taraf

Urdu · 16 min

تعمیر کی طرف: امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن 1913 تا 1994 میں اپنی کتاب "فتح بغیر جنگ" میں دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ ہندوستان کے سیاسی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "Those who believe India is not governed well should remember how miraculous it is that it is governed at all." رچرڈ نکسن، 1999۔ "Victory Without War" 1988۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اچھی حکومت قائم نہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خود کیسا عجیب معجزہ ہے کہ وہاں حکومت قائم ہے۔

انڈین ایکسپریس، 21 اپریل 1988۔ ہندوستان کے اجتماعی نظام کے بارے میں مسٹر نکسن کا یہ تبصرہ یقیناً بہت سخت ہے، مگر دانشمندی یہ ہے کہ اس پر شکایت کرنے کے بجائے اس کو ہم اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں۔ کہنے والے کے خلاف غصہ اتارنے کے بجائے ہم اپنی ساری توجہ ملک کی داخلی تعمیر میں لگا دیں۔ ہم ملک کو اتنا اونچا اٹھائیں کہ کسی نکسن کو ہمارے خلاف اس قسم کا ریمارک دینے کی ہمت نہ رہے۔

اس کی ایک مثال جاپان ہے؛ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جاپان دنیا کی نظر میں ایک حقیر ملک بن گیا تھا، مگر اس کے بعد 40 سالہ محنت کے ذریعے جاپان نے اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا لیا کہ اب کسی کو اس کے خلاف بولنے کی جرات نہیں ہوتی۔ ضرورت ہے کہ ہم عصرِ نو اپنے معاملے پر غور کریں، اور کسی تاخیر کے بغیر صحیح رخ پر اپنا سفر شروع کر دیں، تاکہ ہمارا مستقبل ہمارے حال کے مقابلے میں بہترین اور شاندار ہو سکے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس، 7 فروری تا 14 فروری 1987 میں ہندوستان کے سینئر جرنلسٹ ایس مل گاؤکر کا ایک آرٹیکل دو قسطوں میں چھپا تھا، جس کا عنوان یہ تھا: "Can Systemic Changes Provide the Entire Answer" یعنی "کیا ڈھانچے میں تبدیلی مکمل جواب ہے؟ " مضمون نگار نے اس میں کہا تھا کہ ہماری آزادی پر 40 سال بیت چکے ہیں، ہم نے کئی اعتبار سے ترقی بھی کی ہے، مگر ہمارے مسائل ابھی بہت زیادہ ہیں، اور مجموعی طور پر ہمارے مسائل ہماری ترقی سے بڑھے ہوئے ہیں۔

"Our problems are many and serious and on balance appear to outweight the progress." مسٹر مل گاؤکر نے ان لوگوں کی بات کو نہیں مانا تھا جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے "ڈھانچے میں تبدیلی" کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈھانچے کو آخر کار آدمی ہی تو چلاتے ہیں۔ جب آدمی اچھے نہ ہوں تو ڈھانچہ کیسے اچھا کام کرے گا؟ "In the final analysis, a system is only as good as those who operate it." مسٹر مل گاؤکر کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے۔

اس کو بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کو سیاسی بنیاد، یعنی پولیٹیکل بیس، دی۔ اس کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں اقتدار آیا، اور انہوں نے اس ملک کو صنعتی بنیاد، یعنی انڈسٹریل بیس، دی۔ اب ضرورت ہے کہ تیسری ضروری کام کیا جائے، اور وہ ہے اس ملک کو اخلاقی بنیاد، یعنی مورل بیس، دینا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری چیز، یعنی اخلاقیات، قومی زندگی میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تقریباً سبھی لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔ ملک کو اخلاقی بنیاد دینے کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ مشکل ترین کام ہے، اور اس کے لیے نہایت صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہے۔ لمبی، خاموش جدوجہد کے ذریعے ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی بیداری، یعنی مورل اویئرنس، پیدا کریں۔

قومی تعمیر کے سلسلے میں یہ بہت بنیادی بات ہے۔ اس اصلاحی کام میں ہمارا سفر ذہنی تعمیر، یعنی مینڈ بلڈنگ، سے شروع ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی ڈھانچے کے خلاف مظاہرہ اور ایجیٹیشن سے۔ اس مہم میں ہمارا نشانہ انسان کو بدلنا ہے، نہ کہ حکمرانوں کو بدلنا۔ اخلاقی بیداری کا لفظ یہاں میں کسی محدود معنی میں نہیں بول رہا ہوں، بلکہ وسیع معنی میں بول رہا ہوں۔

اس سے میری مراد خاص طور پر وہ چیز پیدا کرنے سے ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعمیری سوچ، یعنی کنسٹرکٹو تھنکنگ، کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ردعمل کا طریقہ چھوڑ کر مثبت طریقے کا پابند ہونا۔ مسائل کو لڑے بغیر حل کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسروں سے ٹکراؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرنا۔

ممکن چیز، یعنی پاسیبل، سے اپنا عمل شروع کرنا، نہ کہ اس چیز سے جو ناممکن، یعنی امپاسیبل ہے۔ یہی اصلاح کا حقیقی طریقہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں، وہ سب کھونے کے طریقے ہیں، وہ پانے کے طریقے نہیں۔ جاگ یا اویئرنس پیدا کرنے کا کام اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جبکہ وہ تعمیری انداز میں ہو۔

یعنی اس کا رخ اپنی طرف ہو، نہ کہ دوسروں کی طرف۔ دوسروں سے مانگ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا جائے۔ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ابھارا جائے۔ لوگوں کے اندر جذباتی اندازِ فکر، یعنی ایموشنل اپروچ، ختم کیا جائے۔

اور ان کے اندر عقلی اندازِ فکر، یعنی ریشنل اپروچ، پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ذہن بنایا جائے کہ لوگ معاملے کو دوسرے کے اوپر نہ ڈالیں، بلکہ اس کی ذمہ داری خود قبول کریں۔ جہاں معاملہ ایک سے زیادہ آدمیوں کا ہو، وہاں ذمہ داری خود قبول کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے۔ دوسروں کے اوپر ڈالنے سے کبھی مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔

اویئرنس پیدا کرنے کا یہ کام میجورٹی کمیونٹی اور مائنارٹی کمیونٹی دونوں کے درمیان کرنا ہے۔ دونوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ چھوڑیں اور اپنے آپ میں جھانک کر دیکھنے کا مزاج پیدا کریں۔ وہ ماضی کی باتوں کو بھلائیں اور مستقبل کے لحاظ سے اپنی منصوبہ بندی کریں۔ اسی کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو لیڈرشپ کی سطح پر مطلوب ہے۔

1947 سے پہلے ہمارے لیڈروں نے "انگریز ہٹاؤ" کا نعرہ دیا تھا۔ اس کے بعد مسز اندرا گاندھی نے "غریبی ہٹاؤ" کا نعرہ دیا۔ مسٹر راجیو گاندھی نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے 79ویں اجلاس، اپریل 1988 میں "بیکاری ہٹاؤ" کا نعرہ دیا ہے، مگر محض اس قسم کے نعروں سے ملک کا مسئلہ نہ اب تک حل ہوا ہے اور نہ آئندہ حل ہونے والا ہے۔ اصل نعرہ جس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے، وہ ہے "اپنے آپ کو ہٹاؤ"۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو سیاسی اعتبار سے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیڈر اگر ڈیگال بننے کا حوصلہ کریں تو سارے مسائل چند برسوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ نعروں کی صورت میں وہ سو برس میں بھی حل ہونے والے نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ زمانے میں فرانس کے چارلس ڈیگال، 1890 تا 1979، نے اس کی ایک مثال پیش کی ہے، اور ہندوستان کو آج اپنے حالات کے اعتبار سے اسی قسم کے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ ڈیگال 1958 میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ خاص طور پر الجزائر میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔

فرانس نے اس کو کچلنے کے لیے تقریباً 25 لاکھ لوگوں کو سزائیں دیں یا قتل کر دیا۔ اس کے باوجود الجزائر میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ صورتحال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویش ناک بن گئی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے الفاظ میں الجزائر کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس اس میں روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں، یعنی پازیٹو پالیٹکس، پازیٹو پالیٹیز، پازیٹو پالی پالیسیز کے بارے میں خاکہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں۔

جلد 7، صفحہ 964۔ فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ، یعنی پروونس، کہتا تھا۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی کہنے اور سمجھنے لگیں۔ مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا۔

عملاً یہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے۔ اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی، اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت، یعنی گریٹ پاور، ہونے کی حیثیت کھو دی۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مخالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں معنی ہو گئی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ایٹمی تحقیق کرے۔ چنانچہ ڈیگال نے الجزائر کو آزاد کر دیا، اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کر دی، جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے۔ جلد 4، صفحہ 905۔ ڈیگال نے معاملے کو قومی ساکھ یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا۔

ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس رائے پر پہنچے کہ اس مسئلے کا حقیقت پسندانہ حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے۔ تاہم فرانس کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ فرانس کے قومی عزت و وقار، یعنی نیشنل پریسٹیج، کا مسئلہ تھا۔ اور قومی وقار ایسی چیز ہے کہ قومیں لڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں، مگر وہ اپنے وقار کو کھونا برداشت نہیں کرتیں۔

یہ یقینی تھا کہ جو شخص اس معاملے میں قومی وقار کے خلاف فیصلہ کرے گا، وہ فرانس میں اپنی مقبولیت کو یکسر ختم کر دے گا۔ تاہم ڈیگال نے یہ خطرہ مول لیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں، ڈیگال نے الجزائر کے مسئلے کو اس وقت حل کر دیا جبکہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کو حل نہیں کر سکتا تھا۔ جلد 7، صفحہ 965۔

جنرل ڈیگال نے اس کے بعد الجزائر کے لیڈروں کو گفت و شنید کی دعوت دی۔ اس گفت و شنید کا فیصلہ عین منصوبے کے تحت الجزائر کے حق میں ہوا۔ یعنی حکومت فرانس اس پر راضی ہو گئی کہ الجزائر میں ریفرنڈم کرایا جائے، ریفرنڈم کرایا جائے، اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ فرانس کی ماتحتی پسند کرتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا۔

پیشگی اندازے کے مطابق الجزائر کے باشندوں نے آزاد الجزائر کے حق میں اپنی رائے دی، اور اس کا احترام کرتے ہوئے حکومت فرانس نے جولائی 1962 میں الجزائر کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجے میں چارلس ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں۔ ان کے اوپر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ اس کے بعد عوام کے دباؤ کے تحت ڈیگال نے فرانس میں ایک ریفرنڈم کرایا، جس میں ڈیگال کو شکست ہوئی۔

بالآخر انہوں نے 28 اپریل 1969 کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ 9 نومبر 1970 کو ان پر قلب کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈیگال ایک معمولی قبرستان میں اس طرح دفن کر دیے گئے کہ ان کے جنازے میں ان کے رشتے داروں اور چند دوستوں کے سوا کوئی اور شریک نہ تھا۔ ڈیگال خود مر گئے، مگر انہوں نے مر کر اپنی قوم کو دوبارہ زندگی دے دی۔

ڈیگال کے اس واقعے سے یورپ میں ایک اصطلاح بنائی گئی ہے جس کو گالزم کہا جاتا ہے۔ گالزم دراصل اپنی قیادت کی قیمت پر قوم کو بچانا ہے۔ برٹانیکا 1984 کے الفاظ میں، ڈیگال تنہا شخص تھے جس میں یہ حوصلہ تھا کہ وہ ایسے نازک فیصلے لے سکیں جن سے سخت قسم کے سیاسی اور شخصی خطرات، یعنی پولیٹیکل اینڈ پرسنل رسکس، وابستہ ہوتے۔ جلد 7، صفحہ 965۔

یہی گالزم قومی زندگی کا راز ہے۔ ہندوستان کو آج ایسے باحوصلہ سیاست دان کی ضرورت ہے جو ملکی حالات کے اعتبار سے گالزم کے اصول پر عمل کر سکے۔ جو اپنے ذاتی فائدے پر قوم کے فائدے کو مقدم کرے۔ جو اپنے مستقبل کو ہلاک کر کے قوم کے مستقبل کی تعمیر کر سکے۔

ہماری دعا ہے کہ ہندوستان کو اسی قسم کا ایک ڈیگال مل جائے۔ موجودہ بھنور سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ ہمارے موجود لیڈروں کو اصل خرابی یہ ہے۔ ہمارے موجود لیڈروں کی اصل خرابی یہ ہے کہ وہ ہر معاملے کو ووٹ کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، نہ کہ ملکی مفاد کے نقطہ نظر سے۔

حکمرانوں کی ایک نسل میں اگر یہ مزاج آ جائے کہ وہ ذات کے بجائے ملک کو مقدم کر سکیں، تو اس کے بعد فوراً ملکی تعمیر کا سفر شروع ہو جائے گا۔ اور جو سفر ایک بار شروع ہو جائے، وہ بہرحال اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 182۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.