اک طرفہ طریقہ دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں میں نے ایک آرٹیکل پڑھا، اس کا عنوان تھا: "دو طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے"۔ "Bilateralism is best." یعنی دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو تو اس کو حل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں 50-50 پر راضی ہو جائیں، 50% ذمہ داری ایک فریق لے اور 50% ذمہ داری دوسرا فریق لے، اور اس طرح معاملے کو ختم کر دیا جائے۔ یہ بات گرامر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے، کیونکہ وہ موجودہ دنیا میں ناقابلِ عمل ہے۔ اس دنیا میں کوئی نزاع اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جبکہ ایک فریق اک طرفہ طور پر اس کو ختم کرنے پر راضی ہو جائے۔
اس لحاظ سے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اک طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ "Unilateralism is best." پیغمبر اسلام نے جھگڑوں اور شکایتوں کو ختم کرنے کا یہی طریقہ بتایا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ "أحسن إلى من أساء إليك" یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو۔ یعنی ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہ کرو، اور نہ اس کے انتظار کرو کہ دوسرا فریق 50% جھکے تو تم بھی 50% جھک جاؤ۔
اس کے برعکس خدا پرست انسان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اک طرفہ حسنِ سلوک کو طریقہ اختیار کرے۔ اسی اک طرفہ حسنِ اخلاق کا دوسرا نام صبر ہے، اور اسی صبر میں بہتر انسانی سماج کا راز چھپا ہوا ہے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.