Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Eik Misaal

Urdu · 4 min

ایک مثال: سچے انسان کو لوگوں کے درمیان کس طرح رہنا چاہیے، اس کی بہترین مکینیکل مثال شاک ابزروَر کی ہے۔ شاک ابزروَر کے لفظی معنی ہیں: جھٹکے کو سہنے والا۔ یہ ایک آلہ ہے جو کہ موٹر گاڑیوں میں لگایا جاتا ہے، اور ایکسل اور باڈی کے درمیان ایک قسم کے گدّے کا کام کرتا ہے۔ وہ سڑک کی سطح کے تموج سے پیش آنے والے جھٹکوں کو باڈی تک پہنچنے سے روکتا ہے۔

یہ ڈیوائس which on an automobile acts as a cushion between the axles and the body, and reduces the shocks on the body produced by undulations of the road surface. Volume 9, page 159. اگر آپ ٹریکٹر پر 50 کلومیٹر کا سفر کریں تو آپ اپنی منزل پر اس طرح پہنچیں گے کہ آپ تھکے ہوئے ہوں گے۔ اس کے برعکس، جب آپ ایک اچھی موٹر کار پر 50 کلومیٹر کا سفر کریں تو آپ منزل پر اس طرح اترتے ہیں کہ آپ بالکل تازہ دم ہوتے ہیں۔

دونوں گاڑیوں میں اس فرق کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب شاک ابزروَر ہے۔ کار جب چلتی ہے تو زیادہ تر اس کا پہیہ نیچے اوپر ہوتا ہے، باڈی نیچے اوپر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، جب ٹریکٹر چلتا ہے تو اس کا پہیہ اور باڈی دونوں نیچے اوپر ہوتے رہتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں، کار اس گاڑی کا نام ہے کہ جو جھٹکا گاڑی کو لگا وہ گاڑی تک رہ گیا، وہ مسافر تک نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس، ٹریکٹر اس گاڑی کا نام ہے کہ جو جھٹکا گاڑی کو لگا وہ گاڑی تک نہیں رکا، بلکہ وہ مسافر تک پہنچ گیا۔ سچا انسان دنیا میں کار کی طرح جیتا ہے، اور جھوٹا انسان ٹریکٹر کی طرح۔ سچے انسان کے سینے میں ایک شاک ابزروَر ہوتا ہے جو تمام جھٹکوں اور صدموں کو اندر ہی اندر سہتا رہتا ہے۔

اس کے برعکس، جھوٹے انسان کے اندر شاک ابزروَر نہیں ہوتا، وہ ہر جھٹکے کو دوسروں تک پہنچاتا رہتا ہے۔ اچھا سماج بنانا ہے تو سچے انسان بنائیے، کیونکہ یہ دراصل جھوٹے انسان ہی ہیں جو سماج کو بگاڑ اور فساد سے بھر دیتے ہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 179۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.