Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Tabdili ka Usool

Urdu · 5 min

تبدیلی کا اصول کائناتی پیٹرن کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں کا پورا نظام تبدیلی، یعنی کنورژن، کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں کسی چیز کی افادیت کا معیار یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر پوری اترے، مثلاً اس دنیا میں انسان کی سانس سے اور دوسرے اسباب سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ درخت اس کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ درخت کے اندر جو کاربن ڈائی آکسائیڈ داخل ہوتی ہے، اگر وہ دوبارہ اس کو کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی کی صورت میں نکالیں تو پوری فضا زہریلی ہو جائے، اور انسان اور حیوانات کے لیے اس دنیا میں زندہ رہنا ناممکن ہو جائے۔

مگر درخت اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مخصوص عمل کے ذریعے آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں، اور اس کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ وہ دوسروں سے زہریلی گیس لے کر دوسروں کو مفید گیس کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح، مثلاً گائے کو دیکھیے، گائے گویا قدرت کی انڈسٹری ہے، جو گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ کی صورت میں ہمیں لوٹاتی ہے۔ وہ انسان کے لیے ناقابلِ خوراک چیز کو قابلِ خوراک چیز میں کنورٹ کرنے کا قدرتی کارخانہ ہے۔

گائے اگر ایسا کرے کہ وہ گھاس کھا کر گھاس خارج کرنے لگے، تو وہ اپنی قیمت اور افادیت کھو دے گی۔ کنورژن یعنی تبدیلی کا یہ اصول جو بقیہ دنیا میں قائم ہے، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ بقیہ دنیا کی صحیح کارکردگی کا راز یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر کام کر رہی ہو۔ اسی طرح بہتر زندگی اور کامیاب انسانی سماج بنانے کا راز بھی یہی ہے کہ اس کے افراد اس صلاحیت کا ثبوت دے سکیں کہ وہ گھاس پائیں اور اس کو دودھ کی صورت میں دنیا والوں کی طرف لوٹا سکیں۔

قرآن میں سچے انسانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں، وَإِذَا مَا غَضَبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ یعنی دوسروں کی طرف سے انہیں ایسے سلوک کا تجربہ ہوتا ہے جو ان کے اندر غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکانے والا ہو۔ مگر وہ غصہ اور انتقام کی آگ کو اپنے اندر ہی اندر بجھا دیتے ہیں، اور دوسرے شخص کو جو چیز لوٹاتے ہیں وہ معافی اور درگزر کا سلوک ہوتا ہے، نہ کہ غصہ اور انتقام کا سلوک۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی قریبی دوست۔

سورہ نمبر 41 آیت 34۔ اس آیت کے بارے میں حضرت علی ابن ابی طالب نے فرمایا: أَمَرَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ تفسیر ابن کثیر، صفحہ 1817۔ اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں۔ کوئی جہالت کرے تو اس کو برداشت کریں، برائی کی جائے تو معافی اور درگزر کا طریقہ اختیار کریں۔

جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچائے گا، اور ان کے دشمن کو اس طرح جھکا دے گا کہ وہ ان کا قریبی دوست بن جائے۔ یہ وہی صفت ہے جس کو اوپر ہم نے کنورژن سے تعبیر کیا ہے۔ خدا پرست آدمی کی خدا پرستی اس کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ برائی کو بھلائی میں تبدیل کر سکے۔ جو لوگ اسے گالی دیں، ان کے لیے وہ دعا کرے۔

جو لوگ اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کریں، ان کے ساتھ وہ انسانی سلوک کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ اس سے کڑوا بول بولیں، ان کا استقبال وہ میٹھے بول سے کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ہماری کوششوں کا رخ کیا ہونا چاہیے۔ وہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم افراد کے اندر کنورژن کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

موجودہ دنیا میں صالح سماج اسی کنورژن کے ذریعے بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا صالح سماج بنانے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.