Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Adna se Aala

Urdu · 5 min

ادنیٰ سے اعلیٰ۔ ایک درخت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ ادنیٰ کو اعلیٰ بنا سکتا ہے۔ وہ جامد مادّے کو نمو پذیر شے میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ باہر سے مٹی اور پانی اور گیس لیتا ہے، اور اس کو پتی اور پھول اور پھل کی صورت میں سامنے لے آتا ہے۔

اسی طرح کسی انسانی سماج کے بہتر سماج ہونے کا دارومدار تمام تر اس پر ہے کہ اس کے افراد یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ ادنیٰ سلوک کو اعلیٰ سلوک میں تبدیل کر سکیں۔ اس معاملے میں انسان کے نفسیاتی وجود کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ بنانے والے نے اس کے حیاتیاتی وجود کو بنایا ہے۔ انسان جو چیزیں کھاتا ہے، اس میں ایک جز شکر کا ہوتا ہے۔ شکر اپنی ابتدائی صورت میں انسان کے لیے بے فائدہ ہے۔

چنانچہ انسان کے جسم میں پینکریاز کا نظام رکھا گیا ہے، جس کا عمل سادہ طور پر یہ ہے کہ وہ شکر کو انرجی یعنی طاقت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی تبدیلی کی صلاحیت پر انسان کی طاقت اور صحت کا انحصار ہے۔ جس آدمی کے جسم کا یہ سسٹم بگڑ جائے، اس کے اندر داخل ہونے والی شکر انرجی میں تبدیل نہیں ہوگی، وہ یا تو خون میں شامل ہو جائے گی یا پیشاب کے راستے سے باہر آنے لگے گی۔ اس کے بعد انسان بے حد کمزور ہو جائے گا۔

اسی سے وہ مہلک بیماری پیدا ہوتی ہے جس کو زایابطیس یعنی ڈائبیٹیز کہا جاتا ہے۔ اگر ایک آدمی زایابطیس کا مریض یعنی ڈائبیٹک ہو جائے، یعنی اس کا جسمانی نظام شکر کو انرجی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دے، تو زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بے کچھ ہو جائے گا۔ اسی طرح جو سماج اس مزاج سے خالی ہو جائے، یعنی اس کے افراد ادنیٰ سلوک کو اعلیٰ سلوک میں ڈھالنے کا ثبوت نہ دے سکیں، ایسا ایک بیمار سماج ہے۔

ایسے سماج کو درست کرنے کی کوئی بھی تدبیر اس کے سوا نہیں کہ اس کے اندر دوبارہ یہ اعلیٰ صلاحیت پیدا کی جائے۔ آج کل ہمارے سماج میں جو بگاڑ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان تہذیبی فرق ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار سے ڈائبیٹک ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ شکر کو انرجی میں تبدیل کر سکیں۔

وہ بے طاقت کو اپنے لیے طاقت بنا لیں۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ ناخوشگوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا جاتا ہے۔

ایک شخص ایسے الفاظ بولتا ہے جس کو سن کر دوسرا شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی ذاتی یا قومی حیثیت پر چوٹ کر رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات سماجی زندگی میں لازماً پیش آتے ہیں، اور پیش آتے رہیں گے۔ ہمارے لیے ممکن نہیں، ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ایسے واقعات کی پیدائش کو روک دیں۔ ہمارے لیے جو چیز ممکن ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات سے منفی اثر نہ لیں۔

ایک تندرست آدمی اپنے اندر داخل ہونے والی شکر کو انرجی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہی تبدیلی کا عمل نفسیاتی طور پر بھی مطلوب ہے۔ اس دنیا میں بہتر سماجی زندگی بنانے کا راز صرف یہ ہے کہ لوگوں کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ ناخوشگوار واقعے کو خوشگوار تاثیر میں تبدیل کر سکیں۔ وہ غصے کے جواب میں معافی پیش کریں، اور برائی کرنے والوں کو اچھے سلوک کا تحفہ دیں۔

موجودہ سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار سے ڈائبیٹک ہو گئے ہیں۔ ان کی اس نفسیاتی بیماری کا علاج کیجیے، اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جو سماج باہمی اختلافات کا گہوارہ بنا ہوا تھا، وہ متنوع قسم کے پودوں اور درختوں کی خوشنما باغ بن گیا ہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 175۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.