Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Hadbandi ka Nizaam

Urdu · 6 min

حد بندی کا نظام کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں حد بندی کا نظام قائم ہے: ہر چیز اپنے متعین دائرے میں رہ کر اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اپنے دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے میں داخل نہیں ہوتی۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: "اور سورج اپنے مستقر پر چلتا ہے"۔ یہ زبردست علم والے کا باندھا ہوا اندازہ ہے۔

اور چاند کے لیے منزلیں مقرر ہیں، یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی ٹہنی۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے، اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ سب ایک ایک دائرے میں چل رہے ہیں۔ سورہ نمبر 36، آیت 38 تا 40۔

ان آیتوں میں اس فلکیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کائنات کے تمام گھومنے والے ستارے اور سیارے، حد درجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار یعنی آربٹ میں گھومتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی حد کو چھوڑ کر دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوتے۔ یہی حد بندی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کے خلاف حدوں کی خلاف ورزی کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔

وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَاُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورہ نمبر 2، آیت 229۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: وَحَدَ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 19725۔ یعنی: اور اللہ نے حدیں قائم کر دی ہیں، تو تم ان حدوں کی خلاف ورزی نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں اس بات کو مثال کے ذریعے اس طرح واضح کیا گیا ہے: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَارَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَىٰ آخِيَّتِهِ مسند احمد، حدیث نمبر 11335۔

یعنی: مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے گھوڑا جو اپنی رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا ہے، پھر وہ اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ایک گھوڑے کی گردن میں 5 میٹر کی رسی ہو، وہ رسی ایک کھونٹے سے بندھی ہوئی ہو، تو گھوڑا اپنی عادت کے مطابق چاروں طرف گھومے گا، مگر وہ رسی کی لمبائی سے زیادہ نہ جا سکے گا۔ رسی اگر 5 میٹر کی ہے تو اس کی حرکت کا دائرہ بھی 5 میٹر تک محدود رہے گا۔

آسمان کے ستارے ایک ان دیکھی رسی میں بندھے ہوئے ہیں، جو انہیں ان کے مقررہ مدار یعنی آربٹ سے باہر نہیں جانے دیتی۔ اسی طرح انسان کو بھی ایک اخلاقی رسی میں بندھا گیا ہے۔ اسی طرح انسان کو بھی ایک اخلاقی رسی میں باندھا گیا ہے۔ یہ رسی صحیح اور غلط کی رسی ہے۔

اس کو صحیح کام کرنا ہے، مگر غلط کام کی طرف قدم نہیں بڑھانا ہے۔ انسان کو انصاف پر قائم رہنا ہے۔ اس کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں۔ اس کو جب بولنا ہے، سچ بولنا ہے۔

جھوٹ بولنا اس کے لیے جائز نہیں۔ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کے لیے سرگرم ہونے کی اجازت ہے، مگر اس کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی قیمت پر اپنے لیے فائدہ حاصل کرے۔ یہ حقیقت ایک لطیفے میں بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ ایک ملک کا واقعہ ہے: اس کو بیرونی اقتدار سے آزادی ملی۔

اس کے بعد وہاں کا ایک شہری سڑک پر نکلا۔ وہ خوشی سے جھومتا ہوا جا رہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر پوچھا کہ تم اس طرح ہاتھ ہلاتے ہوئے کیوں چل رہے ہو؟

آہستگی کے ساتھ کیوں نہیں چلتے؟ شہری نے کہا کہ آج میرے ملک کو آزادی مل چکی ہے، اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ راہگیر نے آہستگی کے ساتھ جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins اس دنیا میں ہر آدمی کو عمل کی آزادی ہے، مگر ایک شخص کو اپنا ہاتھ ہلانے کی آزادی وہیں تک ہے جہاں وہ دوسرے کی ناک سے نہ ٹکرائے۔

جیسے ہی دوسرے شخص کی ناک سے ٹکرانے کی حد شروع ہو، وہیں ہاتھ ہلانے والے کی آزادی کی حد بھی ختم ہو جائے گی۔ کتاب: تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 173۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.