کثرت میں وحدت۔ کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کثرت میں وحدت کا اصول کارفرما ہے، یعنی چیزیں بظاہر مختلف اور متعدد ہیں، مگر جب ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام چیزیں اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ ہر چیز بالآخر ایٹم ہے، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتی ہو۔ یہی کائناتی پیٹرن انسانوں کے اندر بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔
انسان بظاہر دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں، ان میں رنگ اور دوسری چیزوں کے اعتبار سے بہت سے فرق پائے جاتے ہیں، مگر ان کا تاریخی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام نسلیں آخر کار ایک ماں باپ پر جا کر ختم ہوتی ہیں۔ گویا سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کے غیر۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اے لوگوں! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا نکالا، اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت زمین پر پھیلا دیے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً سورہ نمبر 4 آیت 1۔ یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے: كُلُّكُمْ بَنُوٓا آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ مختصر زوائد مسند البزار حدیث نمبر 1747۔ أَلَا كُلُّكُمْ بَنُوٓا آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ وَالنَّاسُ بَنُوٓا آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ سنن الترمذی حدیث نمبر 3956۔ یعنی سن لو کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔
وحدتِ انسانیت کا یہ تصور ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے محبت اور خیرخواہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ پوری انسانی نسل کو ایک خاندان اور ایک برادری کی مانند بنا دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ لِلَّهِ مِنْ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ شُوبُ الْإِيمَانِ لِلْبَيْهَقِينَ حدیث نمبر 7048۔ تمام مخلوق اللہ کی کنبہ ہے۔
پس تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ کائناتی ماڈل کثرت میں وحدت کی صفت رکھتا ہے۔ انسان کو بھی اسی کائناتی ماڈل پر اپنی زندگی کا نقشہ بنانا چاہیے۔ اس کو کئی میں ایک کا نمونہ بن جانا چاہیے۔
کائنات میں جب کثرت میں وحدت، یعنی یونٹی ان ڈائیورسٹی کا اصول کارفرما ہے، تو انسان کے لیے درست نہیں کہ وہ یہاں کثرت کو ایک کرنے، یعنی یونیفیکیشن آف ڈائیورسٹی کے طریقے پر زندگی کا نظام بنانے کی کوشش کرے۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 167۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.