← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Hayatiyati Ukhuvvat
Urdu · 11 min
حیاتیاتی اخوت، وحدتِ انسانیت یا وحدتِ بنی آدم کی حقیقت، جس کا اعلان پیغمبرِ اسلام نے 1400 سال پہلے کیا تھا، اب وہ جدید تحقیقات کے نتیجے میں ایک سائنسی واقعے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں مولیکیول حیاتیات، یعنی Molecular Biology، نے بہت ترقی کی ہے؛ ڈی این اے کے ذریعے گہرے نسلی رازوں کو دریافت کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ چنانچہ امریکہ میں جین کے ماہرین، جینیٹیسسٹس کی ایک ٹیم نے یہ کام اپنے ذمے لیا کہ وہ انسان کے مشترک جدِ اعلیٰ، یعنی Common Ancestor، کو دریافت کریں گے۔ ڈی این اے کے طریقۂ کار میں ابتدائی باپ، یعنی Great Grandfather، کو دریافت کرنا زیادہ مشکل تھا؛ انہوں نے Great Grandmother، یعنی ابتدائی ماں، کا پتہ لگانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر دی۔
ان حیاتیاتی سائنس دانوں نے مختلف علاقوں کی 147 حاملہ خواتین کو تیار کیا کہ وہ غیر مولود بچے کے مادے، یعنی Placenta، میں انہیں بطور عطیہ دیں۔ اس مادے پر وہ سالہا سال تک امریکہ کی ایئر کنڈیشنڈ لیبارٹریوں میں تحقیق کرتے رہے، جو برکلے میں واقع تھیں۔ انہوں نے ان سے جسمانی نسیج، Today Tissue، کے نمونے نکالے اور ان پر طرح طرح سے تجربات کیے۔ آخر کار انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے پہلی خاتون، یعنی First Woman، یا مذہبی اصطلاح میں حوا، یعنی Eve, کو دریافت کر لیا ہے۔
سائنس دانوں کے نزدیک یہ خاتون 200,000 سال پہلے زمین پر آباد تھی۔ وہ تمام انسانوں کی مشترک ماں ہے، وہ ہم سب کی تقریباً 10,000ویں دادی ہے۔ تحقیقات نے بتایا ہے کہ وہ تمام ظاہری فرق، جن کی بنیاد پر نسلی اختلاف یا اونچی نسل اور نیچی نسل کے نظریات بنائے گئے تھے، وہ محض وقتی اور سطحی تھے۔ مثال کے طور پر، جلد کا رنگ محض آب و ہوا سے مطابقت کا نتیجہ ہوتا ہے؛ افریقہ میں کالا رنگ سورج سے بچاؤ کے لیے، یورپ میں سفید الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کرنے کے لیے، جو کہ وٹامن ڈی کی پیدائش میں مددگار ہیں۔
جلد کا رنگ صرف چند ہزار سال کے عمل سے بدل جاتا ہے۔ Skin color, for instance, is a minor adaptation to climate block in Africa for protection from the sun; white in Europe to absorb ultraviolet radiation that helps produce vitamin D. It takes only a few thousand years of evolution for skin color to change. پیج 42۔
سائنس دانوں نے اپنے نتائج تحقیق کے مطابق اعلان کیا ہے کہ تمام بچوں کے ڈی این اے آخر کار ایک عورت تک جا پہنچتے ہیں۔ پہلی نظر میں یہ ناقابلِ قیاس دکھائی دے سکتا ہے کہ تمام انسانوں کا حیاتیاتی ذریعہ ایک واحد عورت تھی، مگر یہ قانونِ اتفاق کے تحت حاصل ہونے والا ایک نہایت ثابت شدہ نتیجہ ہے۔ All the babies' DNA could be traced back, ultimately, to one woman. At first glance it may seem inconceivable that the source of all mitochondrial DNA was a single woman, but it's a well-established outcome of the laws of probability.
پیج 42۔ برکلے کے حیاتیاتی سائنس دانوں، یعنی جینیٹیسسٹس کی مذکورہ ٹیم کے علاوہ، ایموری یونیورسٹی کی ٹیم نے بھی اس سلسلے میں کام کیا ہے۔ اس ٹیم کے سربراہ پروفیسر ڈاگلس والس تھے۔ اس ٹیم نے مزید یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ پہلی خاتون، یعنی حوا، ممکن ہے ایشیا کے کسی حصے میں رہتی ہو۔
Eve might have lived in Asia. پیج 42۔ یہ نتیجہ انہوں نے جنینی شہادت، یعنی Genetic Evidence، کی بنیاد پر نکالا ہے، جو مختلف براعظموں کے ساتھ 700 آدمیوں کے خون کی خصوصی جانچ کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق خالص سائنسی سطح پر یہ ثابت کر رہی ہے کہ تمام انسانی نسل، ظاہری فرق کے باوجود، ایک عظیم خاندان، یعنی Great Family، کی حیثیت رکھتی ہے۔
صفحہ 43 تا 44۔ اسی نوعیت کی تحقیقات انگلینڈ اور فرانس وغیرہ میں بھی ہو رہی ہیں۔ ان تحقیقات پر امریکہ کے کئی سائنسی جرنل میں مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں دو مقالات کا خلاصہ نیویارک، امریکہ کے انگریزی ہفتہ روزہ نیوز ویک، 11 جنوری 1988 میں 7 صفحات پر شائع ہوا ہے۔
ان تحقیقات کے مطابق جنینی شہادت، یعنی Genetic Evidence، نے اس قدیم خیال کی تردید کر دی ہے کہ انسانی نسل مختلف الگ الگ شاخوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ تمام اولادِ آدم ایک ہی مشترک انسانی برادری کا حصہ ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ نے کہا: "This idea is tremendously important; it makes us realize that all human beings, despite external appearance, are really members of a single entity that had a very recent origin in one place. " There is a kind of biological brotherhood that's much more profound than we ever realized.
پیج 39۔ یہ تصور حیرت ناک حد تک اہم ہے۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ تمام انسان، خارجی ظواہر میں فرق کے باوجود، حقیقتاً ایک ہی واحد نسل کے افراد ہیں، جو کہ بہت قریبی عہد میں ایک مقام پر شروع ہوئی تھی۔ یہاں ایک قسم کی حیاتیاتی اخوت ہے، جو کہ اس سے بہت زیادہ گہری ہے جو اب تک ہم نے سمجھا تھا۔
وہ اخوت جو حیاتیاتی واقعے کے طور پر پہلے سے پائی جا رہی ہے، اس کو سماجی سطح پر اختیار کر لینا، یہی انسانی اتحاد اور انسانی یکجہتی کا واحد راز ہے۔ یہ اتحاد اور یکجہتی کا وہ فطری نسخہ ہے جس کا اشارہ خود ہماری پیدائشی بناوٹ میں موجود ہے۔ اس تحقیق نے ایک طرف ان تمام نظریات کو باطل ثابت کر دیا ہے جو رنگ اور نسل کے فرق کی بنا پر انسانیت کو مختلف گروہوں میں بانٹے ہوئے تھے، دوسری طرف اس نے بتا دیا ہے کہ انسانوں کے درمیان یکجہتی قائم کرنے کی فطری تدبیر کیا ہے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 169۔