← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Do Pahlu
Urdu · 6 min
دو پہلو۔ وہ چیز جس کو ہم نے "کائناتی پیٹرن" کہا ہے، اس کے دو پہلو ہیں: ایک فنی، یعنی ٹیکنیکل پہلو، دوسرا اخلاقی، یعنی ایتھیکل پہلو۔ جہاں تک کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کا تعلق ہے، اس معاملے میں انسان نے عین وہی کیا ہے جو اسے ازروئے واقعہ کرنا چاہیے۔ وہ اس معاملے میں حد درجہ سنجیدہ ہے؛ وہ انتہائی محنت سے اس کو دریافت کرتا ہے، اور اس کی کامل پیروی کرتا ہے۔
کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو سے، وہ ادنیٰ درجے میں بھی انحراف نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ٹیکنیکل پہلو کی کامل پیروی ہی کے ذریعے وہ تمدنی ترقیاں حاصل کر سکتا ہے۔ مگر کائناتی پیٹرن کے اخلاقی پہلو کے بارے میں اس کا رویہ یکسر مختلف ہوتا ہے۔ یہاں وہ پیروی کے بجائے انحراف کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے ایک سادہ سی مثال لیجیے: اس ہال میں ہمارے سامنے دو واقعے نظر آ رہے ہیں۔
ایک بجلی جو ہم کو روشنی دے رہی ہے، دوسرے پنکھا جس سے ہمیں ٹھنڈی ہوا ملتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کی پیروی کر کے حاصل کی گئی ہیں۔ کائنات میں خانونِ قدرت کے تحت پیشگی طور پر ایک امکان موجود ہے، وہ یہ کہ اگر آپ ایک ایسی مشین بنائیں جس کے میگنیٹک فیلڈ، یعنی مقناطیسی میدان، اور موشن، یعنی حرکت، کو یکجا کیا گیا ہو، تو فوراً اس کے اندر الیکٹران متحرک ہو جائیں گے اور وہ چیز پیدا ہو جائے گی جس کو کرنٹ، یعنی بجلی، کہتے ہیں۔ جنریٹر میں اسی طریقے کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس سے بلب روشن ہوتا ہے اور دوسرے کام کیے جاتے ہیں۔
کائناتی پیٹرن کا ایک اور ٹیکنیکل پہلو یہ ہے کہ اگر آپ ایک ایسی مشین بنائیں جس میں میگنیٹک فیلڈ، یعنی مقناطیسی میدان، اور کرنٹ، یعنی بجلی، کو یکجا کیا جائے، تو فوراً اس کے اندر موشن، یعنی حرکت، پیدا ہو جائے گی۔ یہی قدرتی تدبیر ہے جس کے ذریعے حرکت پیدا کر کے پنکھا چلایا جاتا ہے، اور دوسری تمام مشینیں متحرک کی جاتی ہیں۔ یہ کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کی مثال ہے۔ دنیا کے تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی قوم یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ اس پہلو کی صد فیصد پیروی کرتے ہیں۔
وہ، وہ بال برابر بھی اس سے نہیں ہٹتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں نتیجے کا، یا بالفاظِ دیگر صحیح، کارکردگی کا انحصار تمام تر اس پر ہے کہ خارجی خانون کی کامل پیروی کی جائے۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ٹیکنیکل پہلو پایا جاتا ہے۔ یہی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ایک اور متعین پہلو موجود ہے، اس کو بااعتبار نوعیت اخلاقی پہلو، یعنی ایتھیکل پہلو، کہا جا سکتا ہے۔ اس سے میری مراد کائنات میں پیشن گوئی کیے جانے کی قابلیت، یعنی پریڈکٹیبلٹی ہے۔
کائنات مکمل طور پر قابلِ پیشن گوئی کردار، یعنی پریڈکٹیبل کریکٹر، کی حامل ہے۔ مثلاً مذکورہ بالا مثال میں، غیر متغیر طور پر یہ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ جب بھی میگنیٹک فیلڈ اور موشن کو یکجا کیا جائے گا تو لازماً وہاں کرنٹ پیدا ہو جائے گا۔ اسی طرح جب بھی میگنیٹک فیلڈ اور کرنٹ کو یکجا کیا جائے گا تو وہاں لازماً موشن پیدا ہو جائے گا۔ کائنات کا اس طرح قابلِ پیشن گوئی ہونا، گویا اس کا وہ پہلو ہے جس کو انسانی زبان میں اخلاقی، یعنی ایتھیکل پہلو، کہا جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہم یہ تضاد دیکھ رہے ہیں کہ ہماری ٹیکنالوجی نہایت صحت کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے؛ وہ ہمیشہ وہی مطلوب نتیجہ برآمد کرتی ہے جس کی اس سے امید کی گئی ہے۔ اس کے برعکس انسان غیر صحیح بنا ہوا ہے۔ انسان اس مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا جس کی اس سے بجا طور پر امید قائم کی گئی ہو۔ اس تضاد کا واحد سبب یہ ہے کہ انسان نے کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کو تو پوری طرح اپنایا، مگر وہ اس کے اخلاقی پہلو کو اپنانے کے لیے تیار نہ ہو سکا۔
کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔