Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Quran ki Rahnumai

Urdu · 4 min

قرآن کی رہنمائی اب میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں ہمیں قرآن سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ یہ رہنمائی ایک لفظ میں یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات جس خانون پر چل رہی ہے، اسی کو انسان بھی اختیار کر لے۔ کائنات واضح طور پر مختلف اور متفرق اجزاء کا مجموعہ ہے۔ اس میں آگ بھی ہے اور پانی بھی۔

اس میں نازک پودے بھی ہیں اور سخت پتھر بھی۔ اس میں دن کی روشنی بھی ہے اور رات کی تاریکی بھی۔ مگر ان تمام اختلافات کے باوجود پوری کائنات ایک ہم آہنگ کل کی طرح عمل کرتی ہے۔ یہ گویا ایک خدائی ماڈل ہے۔

انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اسی ماڈل کو اپنے لیے رہنما بنا لے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور بقیہ کائنات دونوں ایک اکائی کے دو حصے ہیں۔ دونوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ انسان ذاتی شعور اور ذاتی ارادہ رکھتا ہے، جبکہ کائنات کی دوسری چیزیں ذاتی شعور اور ذاتی ارادہ نہیں رکھتیں۔ جامد مادہ قانون فطرت یعنی لاء آف نیچر سے کنٹرول ہوتا ہے، اور جاندار چیزیں اپنے اندر چھپی ہوئی جبلت یعنی انسٹنکٹ سے۔

قرآن کے مطابق کائنات کا جو دین یعنی نظام عمل ہے، وہی انسان کا دین یعنی نظام عمل بھی ہے۔ دونوں کی کامیاب کارکردگی کا راز ایک ہی فطری نقشے میں چھپا ہوا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرَهَمْ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ سورہ نمبر 3 آیت 83۔ یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے؟

دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا سورہ نمبر 7 آیت 85۔ یعنی زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمین میں انسان کو بسایا گیا ہے، وہ ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ اس کے تمام اجزاء صحیح ترین کارکردگی پر قائم ہیں۔

ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ اس نافذ شدہ نظام اصلاح سے مطابقت کر کے زمین پر زندگی گزارے۔ اگر وہ اس نقشے سے مطابقت نہ کرے تو یہ زمین پر فساد برپا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کسی مجموعے کا ایک جز اگر مجموعے سے مطابقت کر کے رہے تو نظام درست رہے گا، اور اگر مجموعے کا کوئی جز اصل مجموعے کے غیر مطابق ہو جائے تو پورا نظام بگڑ جائے گا۔

یہ اصلاحی نقشے میں فساد برپا کرنے کا موجب بن جائے گا۔ اس کو ایک لفظ میں کائناتی پیٹرن کہا جا سکتا ہے۔ جو کائناتی پیٹرن کائنات کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے، وہی انسان کے لیے بھی مفید اور کامیاب ہے۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 163۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.