Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Chand Misalen

Urdu · 5 min

چند مثالیں: ہمارے آس پاس جو واقعات ہیں، ان کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نہایت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ کلچر کا فرق، یا کلچر کی یکسانیت، اضافی چیزیں ہیں؛ ایکتا سے ان کا کوئی لازمی تعلق نہیں۔ چند مثالیں لیجیے: بمبئی میں پارسی اور ہندو ہزار برس سے ایک ساتھ رہتے ہیں؛ آپ جانتے ہیں کہ پارسی سماج ایک بند سماج ہے، وہ لوگ اپنے سے باہر شادی بیاہ کو صحیح نہیں سمجھتے۔ چنانچہ بمبئی کے ہندوؤں اور پارسیوں میں آپس میں شادی بیاہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مثال اس سے مختلف ہو تو وہ ایک نادر استثنا ہے، نہ کہ کوئی عام قاعدہ۔

اس کے باوجود آج تک وہاں کبھی ہندوؤں اور پارسیوں میں لڑائی نہیں ہوئی؛ دونوں کے درمیان معیاری حد تک پرامن تعلقات ہیں۔ اس کے برعکس مثال ہندوؤں اور سکھوں کی ہے؛ آپ جانتے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں میں باہمی شادی کا بے روک ٹوک رواج تھا، مگر انہیں دونوں فرقوں میں— آج پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر لڑائی ہو رہی ہے جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔ یہ سلسلہ بھنڈراں والا پنجاب اور آپریشن بلو سٹار (اپریل 1986) کے وقت سے پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، اور ہر قسم کی کوشش کے باوجود ابھی تک وہ ختم نہ ہو سکا۔ اسی طرح مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمام فرقوں کی زبان ایک ہو جائے تو اس کے بعد لوگوں کے درمیان ایکتا پیدا ہو جائے گی، مگر یہ بھی ایک غیر متعلق اور غیر مفید تجویز ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں کئی زبانیں رائج ہیں؛ ان میں سے 3 زبانوں کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے: فرنچ، جرمن، اٹالین۔ مگر زبانوں کی کثرت کے باوجود ان کے درمیان کامل اتحاد اور ایکتا پایا جاتا ہے۔ بلکہ سوئٹزرلینڈ موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ پرامن ملک ہے۔ اس کے برعکس مثال پاکستان کی ہے؛ وہاں باقاعدہ طور پر صرف ایک سرکاری زبان ہے، یعنی اردو۔

اس کے باوجود پاکستان میں اتنے زیادہ باہمی جھگڑے ہیں کہ پاکستان کے قیام پر 40 سال سے زیادہ بیت گئے، مگر آج تک وہاں کا جھگڑا ختم نہیں ہوا۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ایکجہتی اور اتحاد کا تعلق لوگوں کی سوچ سے ہے، نہ کہ ان کے ظاہری رسوم اور آداب سے۔ ملک کے باشندوں میں اگر صحیح سوچ موجود ہو، اور وہ زندگی گزارنے کا راز جانتے ہوں، تو وہ ظاہری فرق کے باوجود مل جل کر رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر ان کی سوچ درست نہ ہو، وہ زندگی کے راز سے واقفیت نہ رکھتے ہوں، تو وہ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہیں گے، خواہ ان کے ظاہری نشانات ایک جیسے کیوں نہ ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات کی درستگی میں اصل اہمیت طرز فکر، یعنی ایٹیٹیوڈ آف مائنڈ کی ہے۔ اگر ہم اس ملک میں یکجہتی اور مفاہمت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کے طرز فکر کو درست کرنا ہوگا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔

یہ واحد راستہ احترام اور رواداری کا راستہ ہے۔ لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ دوسروں کے ساتھ روادارانہ برتاؤ کریں، وہ ہر آدمی کا احترام کریں، خواہ وہ اپنی برادری کا ہو یا اپنے سے باہر کی برادری کا۔ یہی مزاج اتحاد اور ایکجہتی کی اصل بنیاد ہے۔ یہ مزاج جہاں ہوگا وہاں اتحاد ہوگا۔

جہاں یہ مزاج نہ ہو، وہاں کسی اور تدبیر سے اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 161۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.