Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Linen aur Ataturk

Urdu · 4 min

لینن اور اتاترک؟ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ، ہر چیز سوچ سوچ کی سطح پر ختم ہوتی ہے، اور سوچ ہی کی سطح پر دوبارہ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے ایک تقابلی مثال لیجیے: یہ تقابلی مثال لینن، 1870 تا 1924، اور اتاترک، 1881 تا 1938 کی ہے؛ دونوں تقریباً ہم زمانہ تھے، دونوں کو یکساں طور پر اقتدار ملا۔ مگر لینن کا نام کامیابی کی علامت ہے، اور اتاترک کا نام ناکامی کی علامت۔

کمال اتاترک کو ترکی میں 1919 میں اقتدار ملا، اور 1938 عیسوی تک، یعنی 19 سال، جاری رہا۔ کمال اتاترک نے چاہا کہ ترکی اور یورپ کی دوئی کو مٹا دے، اور ترقی کے نقشے پر دونوں کو یکساں مقام دے دے۔ اس کا راز اس نے کلچرل یکسانی میں دریافت کیا: اس نے ریاستی قوت کے ذریعے کوشش کی کہ ترکی کے لوگ یورپ والوں کی طرح ہیٹ اور پتلون پہنیں، وہ اہلِ یورپ کے آداب اختیار کریں۔ حتیٰ کہ کمال اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدل کر اس کو یورپی رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا، جو اس سے پہلے عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، وغیرہ۔

کمال اتاترک نے ان اصطلاحات کو بزور پورے ترکی میں نافذ کر دیا، مگر ان اصلاحات کے نفاذ پر تقریباً 70 سال گزرنے کے بعد بھی ترکی بدستور ایک مریض اور پسماندہ ملک ہے۔ یورپ کے نقشے میں وہ ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس مثال لینن کی ہے: لینن کو روس میں 1917 میں اقتدار ملا، اور 1924 تک، یعنی 7 سال، جاری رہا۔ حالات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے جانا کہ موجودہ زمانے کی اصل طاقت سائنس ہے۔

اس نے پہلا کام یہ کیا کہ روس میں بڑے پیمانے پر ایک دارالترجمہ قائم کیا، جس کے کارکنوں کی تعداد بعد کے مرحلے میں 100000 تک پہنچ گئی۔ اس نے حکم دیا کہ جرمن، فرنچ، انگلش وغیرہ زبانوں سے تمام سائنسی کتابوں کا ترجمہ روسی زبان میں کیا جائے۔ یہ کام اعلیٰ پیمانے پر شروع ہو گیا اور برابر جاری رہا۔ یہ صحیح رخ پر صحیح اقدام تھا، چنانچہ روس کو اس کا یہ فائدہ ملا کہ وہ آج دو سپر پاور میں سے ایک سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ ہے تدبیر کا فرق۔ کمال اتاترک نے ترکی اور یورپ کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹانا چاہا، مگر دونوں کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹا دینے کے بعد بھی اس کو کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس لینن نے روس اور یورپ کے درمیان علم و شعور کے فرق کو مٹانے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ جب یہ فرق مٹا تو روس دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت بن چکا تھا۔

یہ مثال بتاتی ہے کہ ہمیں غیر متعلق کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ ہماری کارروائیوں کی تکمیل کے بعد بھی اصل مسئلہ وہیں باقی رہے گا جہاں وہ آج ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 159۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.