← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Eik Mulhid ka Eteraaf
Urdu · 6 min
ایک ملحد کا اعتراف: برٹرینڈ رسل خدا کو نہیں مانتا، وہ انسانی معاملات کی تنظیم کے لیے انسانی قانون کو کافی سمجھتا ہے، مگر اسے یقین نہیں کہ ایسا ممکن ہے۔ وہ اس وقت اپنے کو لاجواب محسوس کرتا ہے جبکہ ایک خدا پرست آدمی اس سے کہے کہ میں انسانی حاکم کی پکڑ سے بچ سکتا ہوں، مگر میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اپنے آپ کو خدائی حاکم کی سزا سے بچا لوں۔ I might escape the human magistrate, but I could not escape punishment at the hands of the divine magistrate. برٹرینڈ رسل نے جان لاک 1632-1704 کے خیالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مذہبی عقیدے کے مطابق خدا نے کچھ خاص اخلاقی قوانین مقرر کیے ہیں، جو لوگ ان قوانین کی پیروی کریں وہ جنت میں جائیں گے، اور جو لوگ ان قوانین کو توڑیں وہ اپنے عقیدے کے مطابق اپنے لیے یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے۔
محتاط قسم کے خوشی کے متلاشی لوگ اس بنا پر نیک اور بااخلاق بن جائیں گے، گناہ آدمی کو جہنم میں لے جائے گا۔ اس عقیدے میں زوال آنے کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ یہ بات مزید مشکل ہو گئی ہے کہ نیک زندگی اختیار کرنے کے حق میں ایسی دلیل لائی جائے جس کا آدمی خود لحاظ کر سکے۔ بنتھم، جو کہ ایک آزاد خیال مفکر تھا، اس نے انسانی قانون ساز کو وہ جگہ دی جو مذہبی عقیدے کے مطابق خدا کی جگہ تھی۔ اس کے نزدیک یہ قوانین اور سماجی حالات کا کام تھا کہ وہ فرد اور عوام کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرے، تاکہ ہر شخص اپنی ذاتی خوشی تلاش کرتے ہوئے اجتماعی خوشی کو برقرار رکھنے پر مجبور ہو۔
مگر یہ اس سے کم اطمینان بخش ہے جتنا کہ جنت اور دوزخ کے عقیدے کے تحت ذاتی مفادات اور عوامی مفادات میں ہم آہنگی کا پیدا ہونا۔ اس لیے بھی کہ انسانی قانون ساز ہمیشہ دانشمند یا نیک نہیں ہوتا، اور اس لیے بھی کہ انسانی حکومتیں ہمہ بین اور ہمہ داں نہیں ہیں۔ God has laid down certain moral rules; those who follow them go to heaven, and those who break them risk going to hell. The prudent pleasure seeker will therefore be virtuous, with the decree of the belief that sin leads to hell.
It has become more difficult to make a purely self-regarding argument in favor of a virtuous life. Who was free thinker, substitute the human lawgiver in place of God, it was the business of laws and social institutions to make a harmony between public and private interests, so that each man, in pursuing his own happiness, should be compelled to minister to the general happiness. But this is less satisfactory than the reconciliation of public and private interests affected by means of heaven and hell, both because lawgivers are not always wise and virtuous, and because human governments are not omniscient. Bertrand Russell: A History of Western Philosophy, page 592-593.
کتاب: تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 156۔