← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Eslaah ki Taraf
Urdu · 28 min
اصلاح کی طرف: پروفیسر ہیرن مقرر جی ایک فریڈم فائٹر ہیں، اور جواہر لال نہرو 1889 تا 1964 کے زمانے میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ پروفیسر ہیرن مقرر جی ایک بار پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آئے۔ اجلاس سے فارغ ہو کر جب وہ دہلی سے کلکتہ کی کے لیے روانہ ہوئے تو ان پر ایک تجربہ گزرا۔ کلکتہ واپس پہنچ کر انہوں نے سابق وزیراعظم ہند جواہر لال نہرو کے نام ایک خط لکھا، جس میں اس تجربے کا ذکر تھا۔
پروفیسر مقرر جی نے لکھا کہ میری ٹرین جب نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے بہت دور تک جھگگی جھونپڑی کی قطاریں چلی جا رہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے غریب ہندوستانی اگر مجھ سے پوچھیں کہ ملک کی آزادی سے ہم کو کیا ملا، تو میں ان کو کیا جواب دوں گا؟ جواہر لال نہرو نے اس کے جواب میں پروفیسر مقرر جی کو جو خط لکھا، اس کا ایک جملہ یہ تھا: "You are paying the price of being sensitive. " یعنی تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو۔
راقم الحروف کو یہ پسند نہیں کہ ہم حساس نہ ہوں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم حساس ہوں تاکہ ہم تڑپیں، تاکہ ہم ملک کے حالات کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوں، تاکہ ہم اس کے متعلق زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچیں، اور ملک کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کی فکر کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ نئے ہندوستان کا آغاز 1947 سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہ ملک یورپی قوموں کے سیاسی اور اقتصادی استحصال کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ مہاتما گاندھی 1869 تا 1948 نے ہندوستان کو سیاسی بنیاد یعنی پولیٹیکل بیس عطا کی۔
اس کے بعد جواہر لال نہرو 1889 تا 1964 نئے ہندوستان کے وزیراعظم ہوئے، اور انہوں نے ملک کے لیے صنعتی بنیاد یعنی انڈسٹریل بیس فراہم کی۔ اس سے پہلے ہندوستان کی جو حالت تھی، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حکومتی فیصلے کی قوت ملکی باشندوں کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی ترقی کا کام بہت دیر سے شروع ہو سکا۔ ہندوستان میں ریلوے کا آغاز برٹش دور میں 1853 میں ہوا، اور بہت جلد سارے ملک میں ریلوے لائن کا جال بچھا دیا گیا، مگر سڑکوں کی ترقی 70 سال تک رکی رہی۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں: "Little attention was paid to road development until the 1920s, mainly because the government had previously focused its attention on railways. " Volume 9, page 295. 1920 کے بعد سالوں سے پہلے روڈ کی ترقی پر بہت کم توجہ دی جا سکی، خاص طور پر اس وجہ سے کہ برطانوی حکومت نے اس سے پہلے اپنی ساری توجہ ریلوے پر لگا رکھی تھی۔ برطانوی حکومت ریل کی پٹریوں کو لوہے کی زنجیریں سمجھتی تھی۔
اس کا خیال تھا کہ ان زنجیروں کے ذریعے وہ ملک پر اپنے قبضے کو زیادہ دیر تک باقی رکھ سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ریلوے لائنیں بچھانے پر خصوصی توجہ دی، مگر سڑکیں بنانے پر وہ توجہ نہ دے سکی۔ ملک کو سیاسی غلامی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ سڑکوں کی تعمیر کے معاملے میں وہ پیچھے ہو گیا، جو کہ قومی ترقی کے لیے موجودہ زمانے میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ دوسری مثال صنعت کی ہے۔
ہندوستان میں اکثر معدنی ذخیرے یعنی منرل ریسورسز افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ یہاں صنعتی ایندھن یعنی کوئلہ بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کے لوہے یعنی آئرن اور کے ذخائر کا 1/7 حصہ صرف ہندوستان کی زمین کے نیچے موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک کی آزادی سے پہلے اس کی صنعتی ترقی ممکن نہ ہو سکی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہاں ایک بیرونی قوم کا قبضہ تھا۔ وہ ہندوستان کو اپنی صنعتی سامانوں کی منڈی بنائے ہوئے تھے۔ 1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد یہاں باہر کا سامان درآمد کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں، اور ملکی صنعت کو ترقی کے مواقع دیے گئے۔ چنانچہ ہندوستان تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھا، یہاں تک کہ اب وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی اور صنعتی اعتبار سے ملک اب ترقی کے اگلے اسٹیج پر پہنچ رہا ہے۔ ہندوستان کی سیاسی بنیاد اب اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ تیسری دنیا کے ملکوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی صنعتی بنیاد اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ 1985 سے اس نے الیکٹرانک دور میں داخلے کا آغاز کر دیا ہے۔ پہلے ہندوستان کو یہ ڈر رہتا تھا کہ امپورٹ کا راستہ کھولنے سے اس کی اندرونی صنعت برباد ہو جائے گی، اور اب ملک کو اس حد تک اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ امپورٹ کی پابندیاں کم کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ بیرونی صنعتوں کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔
یہ باتیں بلاشبہ اچھی ہیں۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ پچھلے 40 سال میں ملک نے سیاسی اور صنعتی بنیاد حاصل کر لی، مگر ہندوستان کی حقیقی ترقی کے لیے ابھی ایک اور مشکل تر مرحلہ باقی ہے، اور وہ یہ کہ ملک کو اخلاقی بنیاد یعنی مورل بیس عطا کی جائے۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ فیصلہ کن حد تک اہم ہے۔ اگر یہ بنیاد فراہم نہ ہو تو بقیہ میدانوں کی ترقیاں بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گی۔
یہاں ہم سابق وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک اقتباس نقل کریں گے۔ انہوں نے اپنے سوانح نگار مائیکل بریچر مائیکل بریچر کو انٹرویو دیتے ہوئے 1956 میں کہا تھا: "What constitutes a good society? I believe in certain standards; call them moral standards. They are important in any individual and in any social group, and if they fade away, I think that all the material advancement you may have will lead to nothing worthwhile.
How to maintain them, I can't know." نہرو A political biography by Michael Breacher, page 607. وہ کیا چیز ہے جو ایک اچھا سماج بناتی ہے؟ میں کچھ متعین معیاروں میں عقیدہ رکھتا ہوں۔ آپ ان کو اخلاقی معیار کہہ سکتے ہیں۔
وہ ہر شخص اور ہر سماجی گروہ کے لیے اہم ہیں۔ اور اگر وہ باقی نہ رہیں تو میرا خیال ہے کہ آپ نے جو بھی مادی ترقی حاصل کی ہو، وہ بے قیمت ہو کر رہ جائے گی۔ اس اخلاقی معیار کو کس طرح حاصل کیا جائے، اس کا جواب مجھے نہیں معلوم۔ ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم کی ایک تقریر اخبارات میں حسبِ ذیل الفاظ میں آئی ہے: "Prime Minister Rajiv Gandhi today said building factories and dams was useless if the quality of human beings was not good." The Hindustan Times September 12, 1986.
وزیراعظم راجیو گاندھی نے کہا کہ کارخانے اور بند بنانا بے فائدہ ہے اگر انسانوں کے اندر اچھی خصوصیات نہ ہوں۔ مثلاً ملک میں بجلی اور زراعت کی ترقی کے لیے ہمیں ایک ڈیم بنانا ہے۔ اب ایک ضرورت یہ ہے کہ ملک آزاد ہو تاکہ وہ کسی خارجی دباؤ کے بغیر خود اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکے۔ یہ ضرورت ملک کی سیاسی آزادی سے پوری ہو جائے گی۔
دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعمیر کے لیے ضروری ٹیکنالوجی موجود ہو۔ یہ ضرورت ہمارے وہ ٹیکنیکل ماہرین پوری کر دیں گے جو انجینئرنگ کالجوں سے ڈگری لے کر نکل رہے ہیں۔ مگر اچھے ڈیم کی تیاری کے لیے صرف یہی دو چیزیں کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی ہے جو لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے دیانت داری یعنی honesty۔
اگر کام کرنے والے افراد کے اندر دیانت داری کا مادہ نہ ہو تو سیاسی آزادی اور ٹیکنیکل قابلیت کے باوجود وہ ڈیم تیار نہ ہو سکے گا جو فی الواقع ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ دیانت داری نہ ہونے کی صورت میں یہ ہوگا کہ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کر کے ایک ارب روپیہ ٹھیکے داروں اور انجینئروں اور افسروں کے ہاتھ میں دے گی، مگر وہ روپیے کا ایک حصہ اپنی جیب میں رکھنے کی خاطر یہ کریں گے کہ وہ غیر معیاری لوہا استعمال کریں گے۔ وہ ریت اور سیمنٹ کا تناسب غلط کر دیں گے۔ وہ پیسہ بچانے کے لیے ہر چیز میں کمی کرتے رہیں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بظاہر ڈیم تو بن کر تیار ہو جائے گا، مگر لوہے اور سیمنٹ یعنی آر سی سی کی تعمیر کے باوجود وہ مضبوط نہ ہوگا۔ بے پناہ خرچ اور سالوں کی منصوبہ بندی کے بعد ادھر ڈیم بن کر کھڑا ہوگا اور ادھر خبریں آنے لگیں گی کہ اس کا فلاں حصہ ٹوٹ گیا ہے، اس کے فلاں حصے میں شگاف ہو گیا ہے۔ بے پناہ خرچ کے بعد ایک پل بن کر کھڑا ہوگا اور اگلے سال خبر ملے گی کہ وہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ اس مہلک انجام سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ملک میں جس طرح سیاسی انقلاب اور صنعتی انقلاب برپا کیا گیا ہے، اسی طرح ملک میں ایک اخلاقی انقلاب برپا کیا جائے۔
ملک کو جس طرح سیاسی بنیاد اور صنعتی بنیاد فراہم کی گئی ہے، اسی طرح اس کے لیے اخلاقی بنیاد بھی فراہم کی جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اخلاقی بنیاد کیا ہے، اور اس کو ہم کس طرح ملک کے حق میں تعمیر کر سکتے ہیں؟ اخلاقیات یا مورل فلاسفی پر اخلاقیات یا مورل فلاسفی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اب وہ ایک پیچیدہ فن بن گیا ہے، مگر اس کی فنی تفصیلات اور اخلاقی فلاسفہ کے اختلافات سے قطع نظر، یہاں میں صرف اس کے سادہ عملی پہلو کو بیان کروں گا جو کہ اخلاق کے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اخلاق کا حصہ انسانیت کا احترام ہے۔ دوسرے افراد یا گرد و پیش کے انسانی معاشرے کی نسبت سے آدمی کے اوپر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، خواہ باضابطہ طور پر ان کے بارے میں قول و قرار ہوا ہو یا باضابطہ قول و قرار نہ ہوا ہو، ہر حال میں ان کو ادا کرنا ضروری ہے، اور اسی ادائیگی کا نام اخلاق ہے۔ اس تعریف کے مطابق اخلاق ہر آدمی کی جانی پہچانی اور معلوم چیز ہے۔ ہر آدمی فطری طور پر حق اور ناحق کی پہچان رکھتا ہے۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اخلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی اسی جانی ہوئی چیز پر عمل کرنے لگے۔ اسی بنا پر اخلاقیات کے لیے قرآن و حدیث میں معروف اور منکر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسلام کی نظر میں پسندیدہ اخلاق معروف ہے اور ناپسندیدہ اخلاق منکر۔
معروف کے معنی ہیں جانی پہچانی چیز، اور منکر کے معنی ہیں اجنبی چیز۔ اللہ تعالی نے جن چیزوں کو اچھا قرار دیا ہے، وہ وہی چیزیں ہیں جن کے اچھا ہونے کا شعور خود انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ اسی طرح جن چیزوں کو الہی شریعت میں برقرار، اسی طرح جن چیزوں کو الہی شریعت میں برا قرار دیا گیا ہے، وہ وہی چیزیں ہیں جن کو انسانی فطرت پیشگی طور پر برا سمجھتی ہے۔ تاہم معروف و منکر کے یہ احساسات انسانی فطرت میں وجدانی طور پر پیوست ہیں، نہ کہ اس طرح لکھے ہوئے ہیں جس طرح کاغذ کے صفحے پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے۔
الہی شریعت یہاں یہ کرتی ہے کہ وہ معروف و منکر کے احساسات کو الفاظ کی شکل دے دیتی ہے۔ وہ محسوس چیز کو ملفوظ چیز بنا دیتی ہے۔ حدیث میں اخلاق کو نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے۔ حدیث میں اخلاق کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے۔
وہ یہ کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ہر آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دوسروں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ بس اسی کو وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت آ جائے، وہ بااخلاق آدمی ہو گیا۔
اخلاق اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ جو کچھ ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی ہم دوسروں کے لیے بھی پسند کرنے لگیں۔ اخلاق کے اس قدر معلوم اور معروف ہونے کے باوجود، اخلاق ہی وہ چیز ہے جو لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کی ایک قیمت ہے، اور اسی قیمت نے اس کے خریداروں کو اس سے دور کر رکھا ہے۔ لوگ جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں، اس کو کرتے نہیں کیونکہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔
اخلاق کی قیمت کیا ہے؟ ایک لفظ میں اخلاق کی قیمت ہے: قیمت نہ ملنے کے باوجود اخلاق برتنا۔ عام آدمی ہمیشہ مفاد کے تحت عمل کرتا ہے۔ یعنی جہاں ایک عمل کر کے کچھ بدلہ ملے، وہاں وہ عمل کرے گا، اور جہاں عمل کا بدلہ ملنے کی امید نہ ہو، وہاں وہ عمل بھی نہیں کرے گا۔
جس سماج میں اس مزاج کے لوگ ہوں، وہاں کبھی صحیح معنوں میں اخلاقی ماحول نہیں بن سکتا۔ کیونکہ زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی ایک اچھا سلوک کرے تو فوراً اس کو اپنے اچھے سلوک کا بدلہ مل جائے۔ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو بدلے کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرنا جانیں۔ جو لوگ اپنے عمل کا فوراً بدلہ پانا چاہیں، وہ کبھی اعلیٰ کردار کے مالک نہیں بنتے، اور اسی لیے وہ اس دنیا میں کوئی بڑا کام بھی نہیں کر سکتے۔
اخلاقی بنیاد فراہم کرنا، دوسرے لفظوں میں، اس کا نام ہے کہ لوگوں کو کوئی اتنی بڑی چیز دی جا سکے جس کے بعد ہر چیز ان کی نظر میں چھوٹی ہو جائے۔ دوسروں کے ساتھ اخلاق برتنے کے لیے آدمی کو کچھ کھونا پڑتا ہے۔ آدمی کو اگر کوئی اتنی بڑی چیز مل جائے کہ اس کے مقابلے میں ہر دوسری چیز چھوٹی نظر آئے، تو اس کے لیے اخلاق پر قائم رہنا آسان ہو جائے گا۔ آدمی کو اس قابل بنائیں، آدمی کو اس قابل بنائیں کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکے۔
اس کے بعد وہ اپنے آپ بااخلاق ہو جائے گا۔ ایک مغربی ملک کا واقعہ ہے۔ ایک کسٹم افسر نے ایک شخص کو پکڑا جو ایک خلاف قانون چیز ملک کے اندر لے جانا چاہتا تھا۔ آدمی نے کسٹم افسر سے کہا کہ پانچ ہزار ڈالر لے لو اور مجھ کو چھوڑ دو۔
کسٹم افسر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ دس ہزار ڈالر لے لو۔ کسٹم افسر اور زیادہ بگڑ گیا۔ آدمی مزید قیمت بڑھاتا گیا: بیس ہزار ڈالر، پچیس ہزار ڈالر، تیس ہزار ڈالر، پچاس ہزار ڈالر، یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اسی ہزار ڈالر لے لو اور چھوڑ دو۔
آدمی نے جب اسی ہزار ڈالر کہا تو کسٹم افسر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ایک لمحہ وہ رکا اور اس کے بعد چیخ کر بولا: "ظالموں! تم میری قیمت کے قریب پہنچ گئے ہو! " اسی ہزار ڈالر کا لفظ سن کر کسٹم افسر کے اندر ایک نیا خیال پیدا ہو گیا۔
اس نے سوچا کہ سالہا سال تک سروس کرنے کے بعد بھی میں اسی ہزار ڈالر بچا نہیں سکوں گا، اور یہ شخص مجھے ایک منٹ کے اندر اسی ہزار ڈالر دے رہا ہے، پھر میں کیوں نہ اس کو قبول کر لوں؟ پانچ ہزار ڈالر اور دس ہزار ڈالر نے اس کو اندر سے نہیں ہلایا تھا، مگر اسی ہزار ڈالر کی پیشکش نے اس کو اندر سے ہلا دیا۔ اس کے اندر جو اخلاقی بنیاد موجود تھی، وہ متزلزل ہو کر رہ گئی۔ یہی ہر آدمی کا حال ہے۔
ہر آدمی کی قیمت کہیں نہ کہیں لگ جاتی ہے، اور جہاں آدمی کی قیمت لگ جائے، بس وہیں اس کے اندر اخلاقی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اصول کے بجائے مفاد کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو سماجی پوزیشن کی خاطر بااخلاق ہوتے ہیں۔ وہ اپنے عام رویے اور روزمرہ کی ملاقات میں بظاہر اچھے بنے رہتے ہیں تاکہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں۔
مگر یہ اخلاق کے لیے بہت کمزور بنیاد ہے۔ ایسے لوگوں کا اخلاق نہایت وقتی اخلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی ذاتی انٹرسٹ کا موقع پیدا ہوتا ہے، ان کی حد آ جاتی ہے۔ وہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر اخلاقی اصول کو بھول جاتے ہیں۔
ایک شخص سرکاری دفتر میں کلیدی عہدہ یعنی کی پوسٹ پر تھا۔ اس کے یہاں ایک صاحب کی فائل تھی۔ اس کا کیس بالکل جائز کیس تھا، مگر وہ ان کو پریشان کر رہا تھا تاکہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت میں دے۔ یہ صاحب اپنے جاننے والے ایک شخص سے ملے جن کے متعلق ان کو پتہ تھا کہ وہ مذکورہ سرکاری ملازم کے دوست ہیں۔
ان سے اپنی مصیبت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت اچھا، میں اس سے ملوں گا۔ یہ صاحب ایک روز مذکورہ سرکاری ملازم کے یہاں گئے۔ ملازم خندہ پیشانی سے ملا۔
اس نے چائے اور سگریٹ پیش کیا، مگر جب آنے والے نے اس سے اپنی ضرورت بیان کی تو فوراً اس کا چہرہ بدل گیا۔ طرح طرح کی قانونی، طرح طرح کی قانونی مشکافیاں بتا کر اس نے عذر کر دیا۔ وہ مذکورہ شخص کو جان بوجھ کر صرف اس لیے پریشان کر رہا تھا کہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت کے طور پر دے۔ ایسی حالت میں رقم لیے بغیر وہ فائل کیسے واپس کر دیتا؟
مذکورہ سرکاری افسر ابتداء بااخلاق تھا، مگر جب فائل کا مسئلہ طے کرنے کی بات آئی تو اس کے اخلاق کی حد آ گئی۔ وہ صرف اس وقت تک بااخلاق تھا جب تک اس کے ذاتی مفاد پر زد نہ پڑ رہی ہو۔ جب ذاتی مفاد خطرے میں آ جائے تو پھر اس کے نزدیک اخلاق کی کوئی قیمت نہ تھی۔ مغربی ملکوں میں بظاہر اس قسم کی بد اخلاقی نہیں ہے۔
وہاں دفتروں میں بغیر رشوت کے کام ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام دیتے ہیں۔ پولیس کا آدمی کسی کو ناجائز کام کرتے ہوئے پکڑ لے تو اس آدمی کو معلوم ہے کہ وہ پولیس والوں کی جیب میں نوٹ ڈال کر ان کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ روزمرہ کی زندگی میں جو بدعنوانیاں یعنی کرپشن ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں، وہ مغربی ملکوں میں عام طور پر دکھائی نہیں دیتی۔
تاہم یہ اخلاق قومی مفاد کی بنیاد پر بنا ہے، اس لیے اس کی بھی حد آ جاتی ہے۔ مثلاً مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ دودھ میں پانی ملایا جائے، نقلی سامان تیار کر کے بازار بھر دیے جائیں۔ ایک تاجر نمونے کے طور پر اچھا مال دکھائے اور اس کے بعد خراب مال پیک کر کے آپ کو بھیج دے۔ دفتروں میں اپنا جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہ ہو سکے۔
مگر مغربی انسان کے اس اخلاق کی اس وقت حد آ جاتی ہے جب کہ اس کا اخلاق قومی مفاد سے ٹکرانے لگے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے یہاں سب سے زیادہ جس صنعت کو ترقی ہوئی ہے، وہ جنگی صنعت ہے۔ ان ملکوں کے پاس تیار شدہ جنگی سامان کے انبار جمع ہو گئے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انتہائی مہلک ہیں۔
وہ خدا کی دنیا کو جہنم بنا دینے والی ہیں۔ مگر ان کا قومی مفاد چاہتا ہے کہ وہ فروخت ہوں تاکہ ان پر جو بے پناہ لاگت آئی ہے، وہ نفع کے ساتھ انہیں واپس ملے۔ اگر حالات بالکل معمول پر ہوں، ہر طرف امن و سکون ہو تو کوئی بھی ان کے مہلک ہتھیاروں کو نہیں خریدے گا۔ اس لیے یہ ترقی یافتہ قومیں یہ کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر تناؤ کے حالات پیدا کرتی ہیں۔
ان کے رہنما اپنے تخریبی منصوبوں کے ذریعے ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑاتے ہیں۔ وہ ہر علاقے میں زبردستی ایک اسرائیل کھڑا کرتے ہیں۔ وہ ہر علاقے میں زبردستی ایک اسرائیلی کھڑا کرتے ہیں تاکہ قوموں کے اندر خطرے کی نفسیات پیدا ہو۔ وہ ہر علاقے میں زبردستی ایک اسرائیل کھڑا کرتے ہیں تاکہ قوموں کے اندر خطرے کی نفسیات پیدا ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ان کے ہتھیار خریدیں۔
اپنے معاشرے میں ذاتی سلوک کے معاملے میں ان قوموں کے افراد بااخلاق ہیں، مگر جب ان کی قوم کے مفاد کا معاملہ آ جائے تو وہاں ان کی حد آ جاتی ہے۔ قومی مفاد کے معاملے میں وہ ان سب چیزوں کو جائز کر لیتے ہیں جن کو وہ ذاتی مفاد کے معاملے میں ناجائز کیے ہوئے تھے۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو اس کے لیے سب سے بڑی یعنی سپریم حیثیت رکھتی ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا ذاتی مفاد اس کے لیے سپریم ہوتا ہے۔
کچھ ترقی یافتہ معاشروں میں ان کا قومی مفاد ان کے لیے سپریم ہے۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز اخلاق کی صحیح بنیاد نہیں۔ کیونکہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آ جائے گی جب کہ اس کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا رہا ہو۔ اسی طرح قومی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آ جاتی ہے جب کہ اپنی قوم کا مفاد اور دوسری قوم کا مفاد یکساں نہ رہے۔
اپنا قومی مفاد اگر اس میں ہو کہ لوگ جنگی سامان خرید کر قتل و غارت کا میدان گرم کریں تو وہ جنگی سامان بنائے گا اور اس کو دوسری قوموں کے ہاتھ فروخت کرے گا، خواہ اس کی قومی تجارت کا فروغ دوسری قوموں کی ہلاکت کی قیمت پر کیوں نہ ہو رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی ایک ہی صحیح بنیاد ہے اور وہ خدائے برتر کا عقیدہ ہے جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ خدا تمام دوسری چیزوں سے بڑا ہے۔ وہ سب سے زیادہ سپریم ہے۔
جو شخص خدا کو پالے، اس نے سب سے بڑی چیز کو پا لیا۔ ایسے آدمی کی کبھی حد نہیں آئے گی۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز چھوٹی ہوگی۔ خدا کو پا کر وہ آخری سب سے بڑی چیز کو پالے گا۔
اس کے بعد ہر دوسری چیز کی قربانی اس کے لیے آسان ہو جائے گی۔ وہ ہر دوسری چیز کا کھونا برداشت کر لے گا کیونکہ اس کو یقین ہوگا کہ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس ایک چیز موجود ہے جو تمام چیزوں سے زیادہ بڑی ہے اور وہ اس کا خدا ہے۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 146۔