Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Taleem ki ahmiat

Urdu · 7 min

تعلیم کی اہمیت: دستورِ ہند کے رہنما اصولوں کے تحت جو دفعات درج ہیں، ان میں سے ایک اس کی دفعہ 45 ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ ریاست یہ کوشش کرے گی کہ دستور کے نفاذ کے بعد 10 سال کی مدت میں وہ تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کر دے، یہاں تک کہ وہ 14 سال کی عمر تک پہنچ جائیں۔ The state shall endeavor to provide within a period of 10 years from the commencement of this Constitution for free and compulsory education for all children until they complete the age of 14 years. غالباً بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں کے تحت درج شدہ دفعات میں سب سے زیادہ اہم ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی یہی دفعہ سب سے زیادہ غیر اہم بنی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ حکومت سے باز پرس کرے کہ 10 سال کی مقرر مدت گزارنے کے باوجود اس دفعہ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ دستورِ ہند کا نفاذ 26 نومبر 1949 کو ہوا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر 1959 میں 10 سال کی یہ مقرر مدت پوری ہو گئی، مگر ملک کے تمام نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا نشانہ کسی بھی درجے میں حاصل نہ ہو سکا۔ تعلیم کی اہمیت قومی تعمیر کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلے میں کامن سول کورٹ کا معاملہ صرف ایک نان ایشو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا واحد نکاتی نشانہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم ملک کی آبادی کو 70% تعلیم یافتہ بنائیں۔

اس کے سوا جس چیز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، وہ اصل قابلِ لحاظ چیز سے توجہ کو ہٹانے، یعنی shift of emphasis، کے ہم معنی ہوگا۔ اور اس طرح توجہ کو اہم سے ہٹا کر غیر اہم میں الجھا دینا ایک قومی جرم ہے، نہ کہ قومی خدمت۔ تعلیم کا تعلق اصلًا سروس سے نہیں ہے؛ تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ شعور کی تربیت کرتی ہے، وہ آدمی کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ سماج یا قوم میں جتنے بھی مثبت اور مفید واقعات ہوتے ہیں، وہ سب انہی لوگوں کی دین ہوتی ہیں جو صحیح طرزِ فکر کے حامل ہوں۔

صحیح طرزِ فکر آدمی کے اندر دور اندیشی پیدا کرتا ہے؛ وہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ اختلافات سے کس طرح نپٹے۔ وہ آدمی کے اندر وہ بالغ نظری پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر سکے۔ اس سے آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جانتا ہے۔ وہ ظاہر سے گزر کر اندرونی حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے۔

صحیح طرزِ فکر سے صحیح عمل ظہور میں آتا ہے، اور صحیح عمل ہی کسی فرد یا گروہ کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ سماج میں ایک جہتی اور اتحاد کی فضا بنانے کے لیے اصل ضرورت یہ نہیں ہے کہ لوگوں کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک ہو، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگ صحیح طرزِ فکر کے حامل ہوں۔ صحیح طرزِ فکر کیا ہے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے ہوگا: سوامی وویکانند 1863-1902 کو ایک کرسچن بھائی نے اپنے مکان پر بلایا۔ کرسچن نے سوامی جی کو جانچنے کے لیے یہ کیا کہ اپنے ملاقات کے کمرے میں ایک میز پر نیچے اور اوپر بہت سی مذہبی کتابیں رکھ دیں۔

سب سے نیچے ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن رکھی، اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور سب سے اوپر اپنی مذہبی کتاب بائبل۔ سوامی وویکانند جب کمرے میں داخل ہوئے تو کرسچن میزبان نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے، اس کے بارے میں آپ کا تبصرہ کیا ہے؟ سوامی جی کتابوں کی مذکورہ ترتیب کو دیکھ کر مسکرائے اور کہا، "فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے۔ " سوامی جی اگر اس معاملے کو وقار یعنی prestige کا ایشو بناتے تو وہ بگڑ جاتے۔

وہ کہتے کہ کیا تم نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے یہاں بلایا تھا؟ اب دونوں میں تکرار شروع ہو جاتی۔ عین ممکن ہے کہ یہ تکرار بڑھ کر اس نوبت تک پہنچتی کہ امن قائم کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑتا۔ لیکن سوامی جی نے اس کو وقار کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کو اعراض کا مسئلہ بنا دیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو معاملہ دونوں کو لڑائی تک پہنچاتا، وہ دونوں کے درمیان مسکراہٹ کے تبادلے پر ختم ہو گیا۔ یہ قابلِ قدر واقعہ کیوں کر پیش آیا؟ کیا اس لیے کہ سوامی وویکانند اور مذکورہ کرسچن کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک تھا؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں تھا، کیونکہ ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا عیسائی۔

اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں شادی بیاہ کا طریقہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سوامی وویکانند ایک ایسے آدمی تھے جن کی اعلیٰ تعلیم نے ان کو حد درجہ باشعور بنا دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح کس واقعے کو منفی رخ دینے کے بجائے کس طرح کسی واقعے کو منفی رخ دینے کے بجائے اس کو مثبت رخ دیا جا سکتا ہے۔ وہ سوچنے کا آرٹ جانتے تھے، وہ زندگی کی سائنس سے واقفیت رکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ کس طرح اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہا جا سکتا ہے۔

اس کا راز سوامی جی کی شعوری بیداری تھا، نہ کہ کسی قسم کا مشترک سول کوڈ۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.