اصل ضرورت نیشنل کریکٹر۔ انڈیا کو ایک متحد اور پرامن اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اصل میں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نیشنل کریکٹر ہے۔ ملک میں جتنی بھی کمیاں ہیں یا جو بگاڑ بھی یہاں نظر آتا ہے، ان سب کا اصل سبب صرف ایک ہے: وہ یہ کہ آزادی کے بعد ملک کے لوگوں میں نیشنل کریکٹر پیدا نہ کیا جا سکا۔ نیشنل سوچ شخصی سوچ کی ضد ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذاتی مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے قومی مفاد کو اہمیت دے۔ جہاں کہیں دونوں تقاضوں میں ٹکراؤ ہو، تو وہ شخصی مفاد کو پسِ پشت ڈال دے اور قومی مفاد والے طریقے کو اختیار کر لے۔ باہر کا کوئی ملک پیسہ دے کر آپ کو خریدنا چاہے، تو اپنے ملک کی محبت آپ کو اس سے روک دے۔ ٹیکس نہ دینے میں آپ کو ذاتی فائدہ ہو رہا ہو، تب بھی آپ ٹیکس دیں، کیونکہ اس سے قوم کو فائدہ ہوگا۔
ملاوٹی چیزیں سپلائی کرنے میں آپ کا ذاتی نفع بڑھتا ہو، مگر آپ ایسا نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔ ذاتی شکایت کے باوجود آپ قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، اور اقتصادی پہیے کو روکنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس میں ملک کی تباہی ہے۔ الیکشن میں اگر آپ ہار جائیں تو دل سے اپنی ہار کو مان لیں، کیونکہ ہار نہ ماننے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کا پورا سیاسی نظام بگڑ جاتا ہے۔ اگر آپ ذمہ داری کے عہدے پر ہیں تو اپنے مالی فائدے کے لیے اسکینڈل اور اسکیم میں ملوث نہ ہوں، کیونکہ ایسا کرنے سے ملک کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اگر آپ کو ایک بار حکومت مل جائے تو یہ نہ چاہیں کہ میں ہی ہمیشہ حکومت کی گدی پر بیٹھا رہوں، کیونکہ اس قسم کی سیاسی خودغرضی ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تباہی اور بربادی کے آخری کنارے پہنچا دیتی ہے۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو اپنے الیکشنی مفاد کے لیے ایک گروہ کے اندر دوسرے گروہ کے خلاف نفرت اور خوف کے جذبات نہ پیدا کریں، کیونکہ اس سے آپ کا ووٹ بینک تو بنے گا لیکن ملک کا بینک دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا، وغیرہ۔ اسی کا نام سچی دیش بھکتی ہے، اور یہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے، مگر یہی چیز آج ہمارے ملک میں موجود نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے لوگ دیش بھکت کے بجائے خیش بھکت ہو گئے ہیں۔
ہر ایک اپنے فائدے کی خاطر ملک کے فائدے کو بھول گیا ہے۔ اسی خیش بھکتی نے ملک کا وہ برا حال کر دیا ہے جس کی آج ہر آدمی شکایت کر رہا ہے۔ دیش بھکتی کامن سول کورٹ جیسی ظاہری کارروائیوں سے کبھی نہیں آئے گی، بلکہ لوگوں کی سوچ کو تعمیری رخ دینے سے آئے گی۔ اس کے لیے ہمیں تمام ذرائع کو استعمال کر کے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا۔
ہمیں تعمیر شعور یا ذہنی بیداری کی ایک طویل اور ہمہ گیر مہم چلانی ہوگی۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی دوسری چیز اس کا بدل نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.