Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Musalmanon se khitaab

Urdu · 3 min

مسلمانوں سے خطاب: آخر میں مسلمانوں سے میں گزارش کروں گا کہ وہ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ 1995 کے معاملے میں ماضی کی اس غلطی کو ہرگز نہ دہرائیں جو سپریم کورٹ کے سابق فیصلہ یعنی 1985 کے معاملے میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ 10 سال پہلے جب شاہ بانو کیس پر عدالتِ عالیہ کا فیصلہ سامنے آیا تو مسلمانوں نے سارے ملک میں احتجاج اور مظاہرے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کا براہِ راست فائدہ ملک کے انتہا پسند ہندو عناصر کو پہنچا۔ اب دوبارہ عناصر انتظار کر رہے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر سڑکوں پر آ جائیں تاکہ وہ مسلم خطرے کا ہوا کھڑا کر کے ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا سکیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں، البتہ اگر مسلمانوں نے دوبارہ مظاہراتی طریقے اختیار کیے تو یقینی طور پر وہ ان کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ یہ دنیا مسابقہ اور مسابقت کی جگہ ہے، یہاں ہر ایک اس انتظار میں رہتا ہے کہ وہ دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ فریق ثانی کو یہ موقع ہمیشہ اس وقت ملتا ہے جبکہ ناخوشگوار صورتحال پیش آنے پر آپ بھڑک اٹھیں اور عاجلانہ اقدام کر بیٹھیں۔ اسی لیے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔

الاحقاف 35: صبر کا طریقہ فریق ثانی سے یہ موقع چھین لیتا ہے کہ وہ آپ کی کمزوریوں کا استحصال کر سکے، جبکہ بے صبری کا طریقہ آپ سے ایسی غلطیاں کراتا ہے کہ آپ نہایت آسانی سے فریق ثانی کے سازشی منصوبوں کا شکار ہو جائیں۔ کسی فریق کے خلاف سازش اگرچہ دوسرے لوگ کرتے ہیں، مگر عملاً سازش کا شکار ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ خود فریق کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سمجھنے میں زیرِ سازش گروہ کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ کتاب تعمیرِ انسانیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 143۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.