Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Musawat nahi adjustment

Urdu · 4 min

مساوات نہیں، ایڈجسٹمنٹ۔ 1954 میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے اسپیشل میرج ایکٹ منظور کیا تھا، اس کے مطابق مرد اور عورت کسی مذہبی رسم کی ادائیگی کے بغیر مخصوص کورٹ میں جاتے ہیں، اور ایک مجسٹریٹ کے سامنے اقرار کر کے— اور ایک مجسٹریٹ کے سامنے اقرار کر کے ایک دوسرے کے قانونی میاں اور بیوی بن جاتے ہیں۔ کامن سول کوڈ اگر سیکولر اصول پر بنایا جائے تو وہ موجودہ اسپیشل میرج ایکٹ ہی کی ایک توسیع ہوگی۔ میں نے دہلی میں تحقیق کی کہ یہاں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ ایکٹ کے تحت اپنی شادی کی ہے۔

کافی تلاش و تحقیق کے بعد مجھے صرف 2 آدمی ملے، ایک ہندو اور ایک مسلمان۔ یہ دونوں کسی مذہبی رسم کے بغیر سادہ طور پر کورٹ میں گئے اور وہاں اپنا نکاح رجسٹر کرا لیا، مگر چند ہی سال کے بعد دونوں شادیاں ٹوٹ گئیں اور اب مرد و عورت دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس علیحدگی کا سبب ایگو ازم تھا؛ دونوں میں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار ہو جاتی۔ یہ تکرار بڑھتے بڑھتے مستقل علیحدگی تک پہنچ گئی۔

مساوات مرد و زن کا جذبہ مساوات مرد و زن کا جدید نظریہ کاغذ پر بہت اچھا لگتا ہے، مگر زندگی میں سب سے زیادہ جس چیز کی اہمیت ہے وہ ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ مساوات۔ مساوات کا تصور حقوق طلبی کا مزاج بناتا ہے، اور ایڈجسٹمنٹ کا تصور حقوق کی ادائیگی کا۔ یہی وجہ ہے کہ مساواتی ذہن کے مرد و عورت اکثر لڑ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، اور ایڈجسٹمنٹ کا ذہن رکھنے والے کامیاب گھر کی تعمیر کرتے ہیں۔ میں نے جاپان کے بارے میں ایک کتاب پڑھی، اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپانی عورت اور مرد کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ "میں کسی کے ماتحت ہوں"، یعنی I am under someone۔

اپنے اس احساس کی بنا پر جاپانی انسان ہمیشہ فریق ثانی سے ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی عورت سب سے زیادہ بری بیوی ہے، اور جاپانی عورت سب سے زیادہ اچھی بیوی۔ اس کا راز یہی ہے۔ امریکی عورت پر سب سے زیادہ جو خیال مسلط ہوتا ہے وہ برابری کا تصور ہے۔

اس کے برعکس جاپانی عورت برابری اور نابرابری کی بحث سے اوپر اٹھ کر صرف یہ احساس لیے ہوتی ہے کہ مجھے موافقت کے اصول پر زندگی گزارنا ہے۔ اسی لیے ازدواجی زندگی میں امریکی عورت ناکام رہتی ہے اور جاپانی عورت کامیاب۔ اچھا خاندان بنانے کے لیے ہمیں سب سے زیادہ ایڈجسٹمنٹ پر زور دینا ہے، نہ کہ مغربی تصور کے مطابق مساوات پر۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.