Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Izafa-e-abadi ka hawwa

Urdu · 8 min

اضافۂ آبادی کا ہوا۔ متعدد سینئر شہریوں نے یہ بات کہی کہ شادی بیاہ کا معاملہ انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اگر کوئی کمیونٹی چاہتی ہے کہ اسی نجی معاملے میں وہ اپنے روایتی طریقے پر قائم رہے، تو اس میں دوسری کمیونٹی والوں کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت؟ اس واضح نامعقولیت کے باوجود، کچھ انتہا پسند پولیٹیکل عناصر کیوں یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اتنا زیادہ شور و غل کر رہے ہیں؟

حتیٰ کہ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں ان کا اصل انتخابی ایشو، یعنی مین پول تھیم، یونیفارم سول کوٹ کا مسئلہ ہوگا۔ The Hindustan Times, 17 July 1995. جبکہ یقینی طور پر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سول کوٹ کی بنیاد پر خانون بنانے کا عملاً کوئی امکان نہیں۔ اس جوش و خروش کا سبب خود یونیفارم سول کوٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔

یہ عناصر انتہائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اگلی صدی کے نصف اول میں یہ واقعہ ہونے والا ہے کہ مسلمان یہاں اکثریت میں ہو جائیں اور ہندو خود اپنے ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے انہوں نے ایک پرفریب نظریہ وضع کیا ہے۔ وہ اکثریتی فرقے کے عوام سے کہتے ہیں کہ دیکھو، آزادی کے بعد بننے والی گورنمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ 1955 کے ذریعے ہندوؤں کو تو قانونی طور پر پابند کر دیا کہ وہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں، مگر مسلمانوں کا جو پرسنل لا ایکٹ 1860 ہے، اس کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ 4 بیویاں رکھے۔ ہندو کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے، مگر مسلمان کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔

اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو کے مقابلے میں مسلمان 4 گنا زیادہ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں کی آبادی اگر 1، 2، 3، 4 کی رفتار سے بڑھے گی تو مسلمانوں کی تعداد 4، 8، 16، 32 کی رفتار سے بڑھتی چلی جائے گی۔ اپنے سیاسی حریف کی اس طرح بھیانک تصویر دکھا کر یہ لوگ ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔ وہ ہندو عوام سے کہہ رہے ہیں کہ اس ہندو-ورودھی سرکار کے خلاف ووٹ دے کر اس کو باہر پھینک دو۔

Throughout this anti-Hindu government. یہ پروپیگنڈا بلاشبہ آخری حد تک بے بنیاد ہے۔ مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔ میری عمر 73 سال ہو چکی ہے، مگر اس پوری مدت میں میرے علم میں کوئی ایک بھی ہندوستانی مسلمان نہیں آیا جس نے 4 شادیاں کر رکھی ہوں۔

حتیٰ کہ ایسا کرنا ممکن بھی نہیں، کیونکہ تمام مسلمان 4 شادیاں اس وقت کر سکتے ہیں جبکہ ان کے یہاں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد 4 گنا زیادہ ہو، یا ان کے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو جہاں وہ زیادہ عورتیں پیدا کر سکیں۔ مگر موجودہ مسلم سماج میں نہ تو عورتیں زیادہ ہیں اور نہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔ ایسی حالت میں ان کے لیے کیوں کر ممکن ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص 4، 4 بیویاں رکھے؟ مسٹر بلراج پوری کا ایک پیراگراف اس سلسلے میں نقل کرنے کے قابل ہے: "اس خدشے کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازواج کے حق میں خانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعے سے ثابت نہیں ہوتا۔

" اس خدشے کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازواج کے حق میں خانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعے سے ثابت نہیں ہوتا۔ عورت کی حیثیت کے بارے میں نیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، تعدد ازواج فی الحقیقت دوسرے فرقوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر کم ہے۔ اس کا دوسرا مقدمہ کہ تعدد ازواج مسلمانوں کی آبادی کو زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھائے گا، منطقی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے قابل عورتوں کی تعداد چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے، اگر کچھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو بہت سے مردوں کو بیویاں ہی نہیں ملیں گی۔

کسی فرقے میں غیر شادی شدہ مردوں کی کثیر تعداد کسی بھی طرح اس فرقے کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔ واضح طور پر 4 آدمی 4 بیویوں کے ساتھ زیادہ بچے پیدا کریں گے، بمقابلہ اس کے کہ ایک ہی مرد کے ساتھ 4 بیویاں ہوں۔ اس طرح تعدد ازواج کا طریقہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو گھٹانے والا ہے، نہ کہ اس کو بڑھانے والا۔ Indian Express, 6 July 1995.

تقریباً یقینی ہے کہ مذکورہ انتہا پسند سیاسی عناصر اگلے الیکشن میں ہندو ووٹروں سے کہیں گے کہ دیکھو، دستور کی دفعہ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود مسلمان یکساں سول کوڈ بنانے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ ایسا قانون بنانے کے مخالف اس لیے ہیں کہ اس کے بعد انہیں 4 شادیوں کی اجازت نہیں رہے گی، اور اس طرح وہ اپنی آبادی بڑھانے اور ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بارے میں اپنے منصوبے کی تکمیل نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ہمیں ووٹ دے کر ہم کو اقتدار تک پہنچاؤ، تاکہ ہم اس خطرے کو دفع کر سکیں۔ مگر اس پروپیگنڈے کا بے بنیاد ہونا ہی اس کے لیے کافی ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب نہ ہو۔

ملک کا سب سے بڑا اخبار ٹائمز آف انڈیا ہر روز اپنے پہلے صفحے پر اس خانونِ فطرت کا اعلان کرتا ہے کہ سچائی غالب آتی ہے، یعنی "Let truth prevail"۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.