← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Uniculture nation ya multiculture nation
Urdu · 6 min
یونیکلچر نیشن یا ملٹی کلچر نیشن؟ ہندوستان میں پچھلے 100 سال سے دو مختلف سیاسی گروپ موجود رہے ہیں، اور آج بھی وہ الگ الگ ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک وہ جو سیکولر آئیڈیالوجی پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اور دوسرا وہ جو ہندو آئیڈیالوجی پر ہندوستانی سماج کو ڈھالنا چاہتا ہے۔ دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنایا جانا چاہیے۔
لیکن اگر غیر جانبدارانہ انداز سے دیکھا جائے تو یونیفارم سول کوڈ دونوں ہی کے نظریات کے خلاف ہے۔ اگر وہ اپنے نظریے میں مخلص ہوں تو ہرگز انہیں اس قسم کے تصور کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہب کے معاملے میں اسٹیٹ کا عدم مداخلت، یعنی نان انٹرفیرنس، کی پالیسی اختیار کرنا۔ لوگوں کو اپنے عقیدہ و مذہب کی آزادی دیتے ہوئے صرف مشترک دنیاوی امور کا انتظام و انصرام کرنا۔
یہی سیکولرزم کا عالمی سطح پر متفقہ مفہوم ہے، اور اسی مفہوم کے مطابق دستور ہند کی تشکیل کی گئی ہے۔ کچھ لوگ سیکولرزم کی تشریح اس طرح کرتے ہیں: گویا کہ وہ خود ایک مذہب ہے، اور تمام مروجہ مذاہب کو ختم کر کے نجی دائرے سے لے کر اجتماعی دائرے تک زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دائرے میں لینا چاہتا ہے۔ مگر یہ انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کے انتہا پسند لوگ ہر مذہب اور ہر نظام میں ہوتے ہیں۔
چنانچہ خود اسلام میں ایسے انتہا پسند لوگ موجود ہیں جو اسلام کی ایسی تشریح کرتے ہیں جس میں اسلام سیاست اور جنگ کا مذہب بن جاتا ہے۔ مگر یہ غلو اور تشدد ہے۔ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیکولرزم اور یونیفارم سول کوڈ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
ہندوستان کا سیکولر گروپ اگر واقعتاً سیکولر گروپ ہے تو اس کو یونیفارم سول کوڈ کی بات نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ انفرادی دائرے میں مذہبی آزادی سیکولرزم کا بنیادی اصول ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ہندو آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اس گروہ کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ ہندو آئیڈیالوجی میں عقیدہ رکھتا ہے تو یہ خود اس کے اپنے عقیدے کے خلاف ہوگا کہ وہ ہر طبقہ اور فرقے کو ایک ہی سول کوڈ کے تحت لانے کی کوشش کرے۔ ہندو آئیڈیالوجی کا بنیادی اصول سرو دھرم سم بھاوا ہے، یعنی سب دھرم سچے۔
ہندوازم کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ کثرت میں وحدت، یعنی یونٹی ان ڈائیورسٹی، کو مانتا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقت کے ظاہری فارم مختلف ہوتے ہیں، مگر اندرونی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ گویا ہندوازم کا عقیدہ ہے: انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا۔ سول کوڈ یا کسی بھی کوڈ کا تعلق ظاہری فارم سے نہیں۔
سول کوڈ یا کسی بھی کوڈ کا تعلق ظاہری فارم سے ہے، نہ کہ اندرونی اسپرٹ سے۔ ایسی حالت میں یہ ہندو نقطہ نظر کے خلاف ہوگا کہ مختلف گروپوں کے پرسنل لا کو ختم کر کے سب کے لیے صرف ایک کوڈ جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک، مثلاً برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ، میں ملٹی کلچر نیشن کا اصول رائج ہے۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملک سے لے کر امریکہ جیسے بڑے ملک تک ہر جگہ اسی اصول کو اختیار کر کے ترقی ہو رہی ہے۔
سوویت یونین غالباً واحد ملک ہے جہاں یونیکلچر نیشن بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لیے ہر قسم کی ریاستی طاقت استعمال کی گئی۔ مگر یونیکلچر نیشن تو نہیں بنی، البتہ خود سوویت یونین ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ تاریخ عالم کے یہ تجربات ہماری آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں یکسانیت کا تعلق تاریخ سے ہے، نہ کہ قانون سے۔ اگر کسی سماج میں تاریخی عمل کے ذریعے یکساں کلچر آ جائے تو وہاں یکساں کوڈ بھی بن جائے گا۔ اس سے پہلے ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔