سپریم کورٹ کا فیصلہ: 1985 سے یکساں سول کورٹ کے مسئلے نے نئی قانونی اہمیت اختیار کر لی، جبکہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس کے حق میں اپنی رائے دینا شروع کر دیا۔ اس معاملے میں عدالتی بحث کا آغاز سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مسٹر وائی وی چندرا چوڑ کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ 1985 میں انہوں نے محمد احمد شاہ بانو کیس میں اپنا مشہور فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے میں اصل زیرِ بحث معاملے سے تجاوز کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہنے کی بھی ضرورت محسوس کی کہ دستور کی دفعہ 44 کے تحت قانون بنانا وقت کا تقاضا ہے، اور یہ کہ ایک کامن سول کورٹ قومی یکتا کو لانے میں مددگار ہوگا۔
A common civil court will help the cause of national integration. اس کے بعد اسی 1985 میں سپریم کورٹ نے جسٹس چن نیپارڈّی نے ایک کیس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ایک اور مثال ہے جو اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ایکساں سول کورٹ ہماری فوری اور ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ The present case is yet another which focuses on the immediate and compulsive need for a uniform civil code. یہی بات زیادہ مفصل اور تاکیدی انداز میں سپریم کورٹ کی دو رکنی ڈویژن بینچ نے مئی 1995 میں اپنے متفقہ فیصلے میں کہی ہے۔
اس کے ممبران جسٹس کلدیپ سنگھ اور جسٹس آر ایم سہائے تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دستور کی دفعہ 44 کے مطابق یونیفارم پرسنل لا یونیفارم پرسنل لا کو نافذ کرنا قومی استحکام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ کسی بھی وجہ سے ملک میں یونیفارم پرسنل لا کے نفاذ میں تاخیر کی جائے۔ To introduce a uniform personal law is a decisive step towards national consolidation.
There is no justification whatsoever in delaying. Indefinitely, the introduction of a uniform personal law in the country. Page 22. کتاب تعمیرِ انسانیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.