نہرو رپورٹ پورے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ بنانے کا ذہن کافی پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غالباً اس کا اظہار سب سے پہلے 1928 میں نہرو رپورٹ کی صورت میں ہوا۔ نہرو رپورٹ حقیقتاً آزاد ہندوستان کے دستور کا ایک پیشگی ڈرافٹ تھا، جس کو مشہور ماہرِ قانون موتی لال نہرو نے تیار کیا تھا۔ اس دستوری مسودے میں تجویز کیا گیا تھا کہ آزاد ہندوستان میں شادی بیاہ کے معاملات کو یکساں ملکی خانون کے تحت لایا جائے گا۔
اس وقت علماء نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مزید یہ ہوا کہ اس وقت کی برٹش حکومت نے بھی اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس میں ہندوستان کے لیے درجہ مستعمرہ، یعنی ڈومینین اسٹیٹس، کی بات کہی گئی تھی، جو انگریزوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ اس کے بعد دسمبر 1939 میں اس پر غور کرنے کے لیے کانگریس کا ایک اجلاس لاہور میں بلایا گیا۔
اس اجلاس نے اس کے عملی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد نہرو رپورٹ کو رد کر دیا۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 104۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.