یکساں سول کورٹ۔ یکساں سول کورٹ کا تصور آزادی 1947 کے پہلے سے ہندوستان میں چلا آ رہا ہے، مگر اب وہ زیادہ تر دستورِ ہند کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کیونکہ آزادی کے بعد ملک کا جو دستور بنا، اس میں یونیفارم سول کورٹ کے نام سے اس کی بھی ایک باقاعدہ دفعہ شامل کر دی گئی۔ یہ دستور کی دفعہ 44 ہے، جو اس کے رہنما اصولوں کے تحت درج کی گئی ہے۔
کتاب: تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 102۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.