← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Dastur - Ghair zaruri tiwalat
Urdu · 7 min
دستور، غیر ضروری توالت۔ دستور ایک اعلیٰ قانونی دستاویز ہے۔ دستور کا مقصد اُن بنیادی اصولوں کا تعین ہے جس کی روشنی میں قومی حکومت یا کسی اجتماعی ادارے کو چلایا جا سکے۔ خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے دستور کو مختصر ہونا چاہیے، کیونکہ دستور جتنا لمبا ہوگا اتنا ہی زیادہ اس میں اختلافات پیدا ہوں گے، اور بار بار اس میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔
اس طرح دستور کا احترام ختم ہو جائے گا، حتیٰ کہ توالت اور پیچیدگی کی بنا پر آخر کار ایسا ہوگا کہ صرف کچھ ماہرینِ دستور ہی اس کو جانیں گے۔ عام شہریوں کو اس سے کوئی واقفیت یا دلچسپی باقی نہ رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی شہرت کے ماہرِ دستوریات، یعنی کانسٹیٹیوشنلزم وِسکانسِم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ فلمن سے لے کر انڈیا کے سب سے بڑے ماہرِ دستور مسٹر نانی پالکھیوالا تک، نے مختصر دستور کی حمایت کی ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام ترقی یافتہ قوموں کے دستور نہایت مختصر ہیں، مثلاً غیر ترقی یافتہ ریاست جارجیا کا نظرِ ثانی شدہ دستور 5 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے، جبکہ ترقی یافتہ امریکہ، یعنی یونائیٹڈ اسٹیٹس کا دستور، صرف 7,000 الفاظ پر مبنی ہے۔
اسی طرح جاپان کا دستور انتہائی مختصر ہے، جس کو موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ قوموں کے درمیان نمبر 1 قوم کی حیثیت حاصل ہے۔ جلد 5، صفحہ 85 تا 86۔ انڈیا کا دستور غالباً تمام قومی دستوروں میں سب سے زیادہ لمبا ہے: 12 تفصیلی شیڈول کے علاوہ اصل دستور 395 دفعات پر مشتمل ہے، جبکہ اکثر دفعات کی ذیلی دفعات بھی ہیں۔ اس لمبی دستور سازی کا نہ درست ہونا اسی سے ثابت ہے کہ نومبر 1949 کے بعد سے اب تک اس میں تقریباً 80 ترمیمات ہو چکی ہیں، اور مزید ترمیم کا مطالبہ جاری ہے۔
ان سب کے باوجود یہ جامع دستور ملک کو ترقی کے راستے پر آگے لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر راجندر پرساد انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے صدر 1946 تا 49 تھے۔ یہ دستور اگرچہ اُن ہی کی زیرِ صدارت بنا، اور اس کی تکمیل کے بعد انہوں نے 26 نومبر 1949 کو اس پر اپنا دستخط کیا، تاہم لمبی دستور سازی کے خلاف تھے۔ In his valedictory address to the constituent assembly, Dr.
Rajendra Prasad said that everything cannot be written in the Constitution and hoped for the development of healthy conventions, but these have not been developed and everything has to be written in the Constitution. ڈاکٹر راجندر پرساد نے دستور ساز اسمبلی میں اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور میں ہر چیز لکھی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صحت مند روایات قائم کی جائیں گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس یہ ذہن بن گیا کہ ہر چیز کو دستور میں لکھ دیا جائے۔
ہندوستان ٹائمز، 24 مئی 1995۔ کسی دستور کی غیر ضروری توالت اس میں غیر ضروری دفعات کو شامل کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی دستور میں اس قسم کی کثیر غیر ضروری دفعات شامل ہیں۔ اُنہی میں سے ایک ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں، یعنی ڈائریکٹو پرنسپلز، کی دفعہ 44 ہے، جو مشترک سول کورٹ سے متعلق ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کورٹ حاصل ہو جائے۔ The state shall endeavor to secure for the citizens a uniform civil code throughout the territory of India. دستور کی یہ دفعہ اتنا ہی غیر دستوری ہے جتنا یہ کہنا کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں فہرستِ تعاون، یعنی یونیفارم مینو، وجود میں آ جائے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک کے تمام مرد و عورت اور بوڑھے اور بچے ایک ہی قسم کا کھانا کھائیں اور ایک ہی قسم کا لباس پہنیں، اسی طرح یہ بھی یقینی طور پر ممکن نہیں ہے کہ ایک بڑے ملک کے تمام مرد و عورت ایک ہی ڈھنگ پر شادی کی رسوم ادا کریں، خواہ اس کے لیے باقاعدہ خانون کیوں نہ بنا دیا جائے۔
دستور کا کام قومی پالیسی کے بنیادی اصولوں کو متعین کرنا ہے، نہ کہ نجی معاملات میں لوگوں کے انفرادی ذوق کو مٹا کر غیر ضروری طور پر یکسانیت لانے کی کوشش کرنا۔ تاہم، جب کوئی چیز لکھ کر چھاپ دی جائے تو بہت سے لوگ اس کو واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی حال دستور کی اس دفعہ کا بھی ہوا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس کا حوالہ دے کر مانگ کرتے رہتے ہیں کہ یکساں سول کورٹ کا دور لانے کے لیے پارلیمنٹ ایک قانون بنائے اور اس کو پورے ملک میں رائج کیا جائے۔
کتاب تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 102۔