← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Conversion -Eik sehatmand tareekhi amal
Urdu · 16 min
کنورژن ایک صحت مند تاریخی عمل ہے۔ غالباً 1990 میں میں نے ایک ہندوستانی رائٹر کی ایک کتاب پڑھی تھی، اس کا نام "کنورژن کی سیاست" یعنی "Politics of Conversion" تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ اس کتاب سے مجھ کو صرف ایک اختلاف ہے، وہ یہ کہ کتاب کا نام، یعنی ٹائٹل، درست نہیں۔ اس کا صحیح نام ہونا چاہیے "کنورژن کو سیاسی بنانا" یعنی "Politicization of Conversion"۔
یعنی ایک سادہ فطری حقیقت کو سیاسی رنگ دے کر اس میں غیر ضروری طور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا۔ کنورژن کیا ہے؟ عام طور پر کنورژن کو مذہب بدلنے، یعنی پروسلیٹزم، کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، مگر یہ صحیح نہیں۔ کنورژن اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا ایک افاقی قانون ہے۔ وہ ایک صحت مند تاریخی عمل ہے جو ناگزیر طور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کنورژن کو روکنے کی کوشش کرنا گویا تاریخ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے، اور کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے عمل کو روک سکے۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو چیزوں کے ٹکراؤ سے ایک اور چیز کا پیدا ہونا ہے۔
یہ فطرت کا قائم کردہ ایک افاقی قانون ہے جو خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ انسانی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عمل اس کے اندر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کارل مارکس نے اس کو غلط طور پر جدلیاتی مادیت، یعنی Dialectical Materialism، سے تعبیر کیا تھا۔ زیادہ صحیح طور پر یہ "ڈائیلاگ کنورژن پروسیس" ہے، یعنی جب دو فکری نظام کے درمیان بحث و تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے بعد ایک فکری انقلاب برآمد ہوتا ہے۔
ڈائیلاگ کنورژن پر، ڈائیلاگ کنورژن پروسیس کا یہ عمل ہی تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی تہذیبی انقلاب آیا ہے، یا کسی انسانی گروہ نے اٹھ کر کوئی تخلیقی کارنامہ انجام دیا ہے، تو وہ ہمیشہ اسی ڈائیلاگ کنورژن پروسیس ہی کے ذریعے ظہور میں آیا ہے۔ اس عمل کی کوئی ایک صورت نہیں، یعنی یہ مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں پائی جاتی ہیں: ایک مذہبی کنورژن کی صورت میں، اور دوسری سیکولر کنورژن کی صورت میں۔
عربوں کی تاریخ مذہبی کنورژن کی مثال ہے۔ چھٹی صدی عیسوی تک عرب ایک مشرکانہ نظام کے تحت محدود قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے آغاز میں اسلام، یعنی دین توحید، کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دین شرک اور دین توحید کے درمیان زبردست ڈائیلاگ، یعنی بحث و مباحثہ، شروع ہوا۔
یہ ڈائیلاگ مزید شدت اختیار کر کے جاریحانہ تصادم تک پہنچ گیا۔ اس ڈائیلاگ اور تصادم کے نتیجے میں یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی سوچ ابھری۔ بڑھتے بڑھتے وہ ایک عظیم فکری انقلاب بن گئی۔ اس ذہنی انقلاب، یا اس فکرِ نو کی دریافت کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی شخصیت ابھری۔
ایک یورپی مؤرخ کے الفاظ میں، ان میں کا ایک ایک شخص اس طرح انقلابی شخصیت بنا کہ پوری قوم ہیروں کی ایک قوم، یعنی A Nation of Heroes، بن گئی۔ ہیروں کی اس قوم نے صرف 50 سال کے اندر وہ تاریخی واقعہ برپا کیا جس کو ایک مؤرخ نے "Miracle of All Miracles"، معجزات کا معجزہ، قرار دیا ہے۔ بریفالٹ نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید مغربی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہیں آ سکتی تھی۔ "But for the Arabs, the Western civilization would never have arisen at all." دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔
صلیبی جنگوں، یعنی Crusades، کے بعد کئی سو سال کے تاریخی عمل کے دوران یہاں بھی ایک کنورژن ہوا۔ یہ کنورژن مذہبی نہیں تھا، بلکہ ایک قسم کا سیکولر کنورژن تھا۔ چرچ اور سائنس کے درمیان زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلے کی ایک روداد مندرجہ ذیل کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے: "Conflict Between Science and Religion"۔
یہ مقابلہ ڈائیلاگ اور ٹکراؤ کی صورت میں کئی سو سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ یورپی قوموں کے اندر ایک نیا فکری انقلاب آیا جس میں انہوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کیا۔ انہوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کر لیا۔ اس انقلاب کو عام طور پر "نشأت ثانیہ" یعنی Renaissance سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے یورپی قوموں کو اس قابل بنایا کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام دے سکیں۔
وہ تاریخِ انسانی کو روایتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں پہنچا دیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا دماغ لامحدود طاقتوں کا ایک قدرتی خزانہ ہے۔ عام حالات میں یہ دماغ سویا ہوا رہتا ہے۔ یہ صرف خارجی جھٹکے ہیں جو اس کو بیدار کرتے ہیں۔
یہ شاک ٹریٹمنٹ کا ایک عمل ہے۔ جتنا بڑا شاک ہوا، اتنا ہی بڑا ذہنی انقلاب انسان کے اندر پیدا ہوگا۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ انسان کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کے علماء "دماغی طوفان" یعنی Brainstorming کہتے ہیں۔ یہ دماغی طوفان آدمی کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی، ایک نیا کنورژن، وجود میں لاتا ہے۔
یہ کنورژن کسی قوم کے افراد کو ایک عام انسان سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔ مذہبی کنورژن اس پورے عمل کا ایک چھوٹا سا جز ہے۔ تاہم جب ڈائیلاگ کنورژن پروسیس چلتا ہے تو اس کو کسی حد تک پابند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ فلاں فلاں قسم کا کنورژن کریں لیکن مذہبی کنورژن نہ کریں۔ یہ ایک لامحدود سیلابی عمل ہے، اور سیلاب جب آتا ہے تو وہ کسی حد بندی کو قبول نہیں کرتا۔ جہاں تک مذہبی کنورژن کا تعلق ہے، وہ صرف غیر مذہب کو قبول کرنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی کنورژن کی دو بڑی قسمیں ہیں: ایک Inner Faith Conversion، دوسری Interfaith Conversion۔
مثال کے طور پر، سوامی ویویکانند پہلے ایک ماڈرن قسم کے نریندر ناتھ تھے، پھر رام کرشنا پریم ہنس سے ان کا ذہنی ٹکراؤ ہوا، جس کے بعد وہ سوامی ویویکانند بن گئے۔ یہ داخلی کنورژن، یعنی Inner Faith Conversion، کی ایک مثال ہے۔ اس طرح اسی زمانے کے ایک اور بنگالی، ڈاکٹر نشی کانچٹوپادھیائے حیدرآباد، کا فکری تصادم مختلف مذاہب سے ہوا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔
انہوں نے پہلے فلسفے کا مطالعہ کیا، اس کے بعد انہوں نے ایک درجن بڑے بڑے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ ایک فکری دریافت تک پہنچے۔ انہوں نے اپنے آبائی مذہب ہندوازم کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔ انہوں نے اپنے اس فکری ارتقاء کی داستان ایک کتاب کی صورت میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہے: "Why I Have Embraced Islam"۔
یہ Interfaith Conversion کی ایک مثال ہے۔ یہ کنورژن کوئی یکطرفہ عمل نہیں ہے۔ یہ دو طرفہ، بلکہ کئی طرفہ طور پر چلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان میں کچھ ہندوؤں نے اپنا مذہب بدل کر مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا ہے، جبکہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو بن گئے۔
آج انگریزی میں نکلنے والا سب سے بڑا ہندو اخبار "India Abroad" ہے، جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا مالک اور ایڈیٹر ایک ہندو کنورٹ ہے۔ انہوں نے مسیحیت کو چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ اور پھر انہوں نے یہ کثیرالاشاعت ہندی اخبار نکالا۔
کسی قوم کو دوبارہ اٹھانے کے لیے عام طور پر تحریکِ احیاء، یعنی Revivalism، پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ یعنی قوم کے ماضی کو یاد دلا کر اس کو دوبارہ زندہ کرنا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی احیائی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ تاریخ میں غالباً کوئی ایک بھی قابلِ ذکر مثال موجود نہیں، جبکہ صرف احیاء ماضی کی تحریک کے ذریعے کوئی قوم دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی ہو۔
اس کی ایک مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستان میں ہندو قوم کو بیدار کرنے کے لیے پچھلے کئی سو سال سے مسلسل احیائی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں بہت بڑی بڑی شخصیتوں کے نام ہیں: راجہ رام موہن رائے، سوامی ویویکانند، آرو وندو، مہاتما گاندھی وغیرہ۔ مگر لمبی مدت کی جدوجہد کے باوجود اس رخ پر ایک فیصد بھی کامیابی نہ ہو سکی۔
بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہوا۔ آزادی کے دور میں پہنچ کر ہندو سماج میں اخلاقی اقدار کا وہ نظام بھی باقی نہ رہا جو پہلے اس کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے ایک جھوٹ بولنے پر یُدھشٹر کا اڑنے والا رتھ زمین پر گر پڑتا تھا۔ مگر آج کے یُدھشٹر صبح و شام جھوٹ بولتے ہیں۔
اس کے باوجود ان کا رتھ نہایت تیزی کے ساتھ بلند فضاؤں میں اڑ رہا ہے۔ ماضی کے برعکس آج کا ہندوستانی سماج صرف ایک کرپشن، یعنی بھرشتاچار کا سماج بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر انقلابی روح کبھی بھی ماضی کی طرف واپسی سے نہیں پیدا ہوتی۔ یہ صرف جدید کی دریافت سے پیدا ہوتی ہے۔
انقلابی شخصیت کا ظہور قدیم کی طرف واپسی سے نہیں ہوتا، بلکہ جدید کی طرف اقدام سے ہوتا ہے۔ اور احیائی تحریک اپنی آخری تعریف کے مطابق صرف قدیم کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ جدید کی دریافت یا جدید کی طرف اقدام کے ہم معنی، بلاشبہ نہیں۔ سوامی ویویکانند نے کہا تھا کہ ہندو قوم ورلڈ لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بالکل درست ہے، مگر یہ انقلابی واقعہ احیائے ماضی جیسی کسی تحریک کے ذریعے ظہور میں نہیں آ سکتا، جیسا کہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسا واقعہ جب بھی پیش آئے گا، وہ جدید کی دریافت یا نئے فکری انقلاب کے ذریعے ہوگا، خواہ یہ فکری انقلاب مذہب کنورژن کی صورت میں ہو یا سیکولر کنورژن کی صورت میں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کنورژن کا یہ واقعہ صرف انفرادی سطح پر نہ ہو، بلکہ عوامی سطح پر ہو۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی قوم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے اور تاریخِ عالم میں اپنا نام روشن کرے۔
خلاصہ یہ کہ کنورژن محدود طور پر مذہبی تبدیلی کا معاملہ نہیں، یہ دریافتِ نو کا معاملہ ہے۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کے لیے، نیز اس کے اندر اخلاقی انقلاب لانے کے لیے، سب سے زیادہ جو چیز مؤثر ہوتی ہے وہ یہی دریافت، یعنی ڈسکوری ہے۔ یہ احساس کہ میں نے ایک ایسی سچائی دریافت کی ہے جو اب تک مجھے معلوم نہ تھی، انسان کی تمام سوئی ہوئی طاقتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی سطح سے اٹھ کر ایک ہیرو انسان بن جاتا ہے۔
اسی قسم کے ہیرو انسان ہیں جو سمندروں میں چھلانگ لگاتے ہیں، جو پہاڑوں کو پھان جاتے ہیں، جو اپنے ہیروانہ کردار کے ذریعے تاریخ کو نئے دور میں داخل کر دیتے ہیں۔ آج انسانی تاریخ دوبارہ ایک تعطل، یعنی ڈیڈ لاک، سے دوچار ہے۔ تاریخ کو دوبارہ انتظار ہے کہ کوئی قوم دریافتِ نو کے تجربے سے گزرے۔ وہ نئی انسانی طاقتوں سے بھرپور ہو کر تاریخِ انسانی کو وہ دھکا دے جو اس کو ایک نئے اور بہتر دور میں پہنچا دے۔
کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 96۔