Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Sehhatmand muqabala

Urdu · 8 min

صحت مند مقابلہ۔ 1998 تا 99 کے درمیان ہندوستان کی بعض ریاستوں، یعنی گجرات، اڑیساکھ میں، کچھ نچلی ذات کے ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائی ہو گئے۔ اس پر کچھ انتہا پسند ہندو بھڑک اٹھے۔ انہوں نے عیسائیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے عیسائیوں کے سینکڑوں گھروں اور گرجاؤں کو توڑ ڈالا، کئی عیسائیوں کو زندہ جلا کر مار دیا، وغیرہ۔

مذکورہ واقعے پر ایک ردعمل کی مثال یہ تھی۔ دوسرے ردعمل کی مثال وہ ہے جو پروفیسر امرتیہ سین کی زندگی میں ملتی ہے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں ان کو اکنامکس کا نوبل پرائز دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ہندوستان آئے۔

تو مذکورہ قسم کے ہندوؤں نے ان کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا کہ امرتیہ سین کو جو نوبل پرائز دیا گیا ہے، وہ مغربی قوموں کی ایک سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امرتیہ سین کو اپنا ایجنٹ بنائیں اور ان کے ذریعے ہندوستان میں عیسائی کنورژن کی تحریک کو فروغ دیں۔ جب وہ ہندوستان آئے تو یہاں کے ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ کے خلاف جو الزام لگایا گیا ہے، اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے؟ ٹائمز آف انڈیا 29 دسمبر 1998 کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر امرتیہ سین نے اس کا یہ جواب دیا: "I am not expected to respond to something like this.

" کنورژن کے واقعے پر کٹر وادیوں کی مذکورہ منفی روش ہر پہلو سے قابلِ رد ہے۔ وہ اصولی اعتبار سے مکمل طور پر غلط ہے، اور عملی اعتبار سے تباہ کن حد تک بے نتیجہ۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ اس واقعے کو چیلنج کے روپ میں لیا جائے۔ اس معاملے کو اگر چیلنج کے روپ میں لیا جائے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے بعد یہاں دونوں گروہوں کے درمیان صحت مند مقابلہ، یعنی ہیلتھی کمپیٹیشن، جاری ہو جائے گا، جو ہر اعتبار سے ملک و قوم کے لیے مفید ہوگا۔

اس سے پہلے انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اسی قسم کی صورتحال پیش آئی۔ اس وقت ملک میں نفرت کی فضا موجود نہ تھی، اور نہ موجودہ قسم کے غیر سنجیدہ لیڈر اس وقت ہمارے یہاں پائے جاتے تھے۔ چنانچہ دونوں گروہوں کے درمیان خاموش طور پر ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔ دونوں ہی گروہوں میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے اپنے اپنے مذہب کو زیادہ پرکشش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

ایک طرف ہندوؤں میں آروبندو سوامی وویکانند، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر رادھا کرشنن جیسے لوگ اٹھے۔ انہوں نے ہندو مذہب کو جدید اسلوب اور جدید اصطلاحوں میں پیش کیا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر اقبال، سید ابو الاعلی مودودی جیسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کو جدید انداز اور جدید دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔ اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان بلا اعلان ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔

دونوں طرف سے تحریر اور تقریر کے ذریعے مذہب کی ایسی نمائندگی کرنے کی کوشش کی گئی جو جدید ذہن کے لیے قابلِ قبول ہو سکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کنورژن کا مسئلہ زحمت میں رحمت، یعنی بلیسنگ ان ڈس گائز، بن گیا۔ دونوں طرف کے مذہبی افکار میں ترقی ہوئی۔ دونوں کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچا۔

اب موجودہ صورتحال میں بھی ضرورت ہے کہ دوبارہ یہی صحت مند مقابلہ جاری کیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور انسانیت کی قدروں کو بڑھاوا دیا جائے۔ ملک کے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان پرامن ڈائیلاگ ہونے لگے۔ مذہبی تعارف کے لیے آل مذاہب کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔

ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات اور تاریخ پر علمی کتابیں مرتب کر کے شائع کریں۔ مذہب کے دائرے میں بھی وہی آزادانہ ڈسکشن ہونے لگے جو آج بھی سیکولر حلقوں میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ کنورژن کے سوال پر اس قسم کا ردعمل اگر سامنے آئے تو وہ ہر مذہبی گروہ کے لیے غیر معمولی فائدے کا باعث بنے گا۔ مذہبی مسائل زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔

سچائی کی تلاش کا ایک نیا عمل جاری ہو جائے گا۔ چھپی ہوئی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ مذہب کی دنیا کا جمود ٹوٹے گا اور ہر طرف زندہ مذہب کا ماحول قائم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ فطرت کے عام اصول کے مطابق یہ ذہنی بیداری صرف مذہب کے دائرے تک نہیں رہے گی بلکہ وہ بڑھتے بڑھتے عمومی دائرے تک پہنچ جائے گی۔

ایک اعتبار سے جمود و تعطل کا ٹوٹنا، ہر اعتبار سے جمود و تعطل کے ٹوٹنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ مذہب کی بیداری زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں بیداری لانے کا سبب بنے گی۔ یہاں تک کہ پورا ملک اس سے متاثر ہوگا۔ ایک قوم جو آج بظاہر سوئی ہوئی دکھائی دیتی ہے، وہ پوری طرح جاگ اٹھے گی۔

اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوگا کہ ہم نے ایک مسئلے کو چیلنج کے روپ میں لیا اور صحت مند مقابلے کی صورت میں اس کا سامنا کیا۔ کتاب "دین تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 93۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.