کنورژن کی حقیقت: کنورژن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کچھ رسمی الفاظ ادا کرے اور اپنا نام بدل کر ایک کلچرل گروپ کو چھوڑ کر دوسرے کلچرل گروپ میں شامل ہو جائے۔ کنورژن کا مطلب تبدیلیِ مذہب نہیں، بلکہ تبدیلیِ شخصیت ہے۔ کنورژن یہ ہے کہ ایک آدمی تلاشِ حقیقت میں سرگرم ہو، تحقیق و جستجو کے تمام مراحل سے گزرے، اور پھر اس کے نتیجے میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت کا ارتقا ہو۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نئی شخصیت کے ظہور کا نام ہے۔
ایسی ایک شخصیت کا بننا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جب کسی سماج میں بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں تو وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ ظہور میں لاتے ہیں۔ کنورژن درحقیقت ڈسکوری، یعنی دریافت کے نتیجے میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ ایک عظیم ڈسکوری کے بعد آدمی وہی نہیں رہتا جیسا کہ وہ پہلے تھا؛ اب وہ مکمل طور پر ایک نیا انسان ہوتا ہے۔
اسی قسم کی انقلابی تبدیلی کا نام کنورژن ہے۔ یہ تمام تر ذاتی فیصلے کے تحت ہوتا ہے، کسی خارجی لالچ یا دباؤ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کنورژن کا مطلب یہ ہے کہ ایک نہ پایا ہوا انسان پایا ہوا انسان بن جائے۔ ایک بے خبر انسان باخبری کے دور میں پہنچ جائے۔
ایک سویا ہوا انسان اپنے حواس کے ساتھ جاگ اٹھے۔ ایک شخص جو اندھے پن میں جی رہا تھا، وہ بینا بن کر جینے کے قابل ہو جائے۔ ایک شخص جس کو اپنی کوششوں کا مرکز نہیں ملا تھا، اس کو اپنی کوششوں کا ایک معلوم مرکز مل جائے۔ ایک شخص جو محدود دنیا میں جی رہا تھا، وہ لامحدود دنیا میں داخل ہو کر سانس لینے لگے۔
ایک شخص جو صرف اپنے جسم کے دائرے میں جی رہا تھا، وہ اس سے اوپر اٹھ کر فکر کی اعلیٰ سطح پر جینے کا سامان کر لے۔ ایک شخص جو بے مقصد حالت میں بھٹک رہا تھا، اس کو بامقصد زندگی کا راز معلوم ہو جائے۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 92۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.