Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Conversion - Eik aafaakhi usul

Urdu · 7 min

کنورژن ایک افاقی اصول اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے جس کی طرف خران میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے، وہ یہ کہ کنورژن کا معاملہ محدود طور پر صرف مذہب کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک افاقی اصول ہے: موجودہ کائنات میں تمام ترقیاں اسی کنورژن کے طریقے پر ظہور میں آئی ہیں۔ کائنات اپنی ابتدا میں ایک بند مادے کی صورت میں تھی، پھر اس میں داخلی تغیر ہوا، یہ بند مادہ کھل کر پھیلنا شروع ہوا، یہاں تک کہ موجودہ وسیع کائنات بن گئی۔ سورہ نمبر 21 آیت 30: زمین سوکھی پڑی ہوئی ہوتی ہے، پھر بارش کے ذریعے اس میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں، یہاں تک کہ چٹیل میدان ہری بھری فصلوں اور شاداب درختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ سورہ نمبر 22 آیت 5: اسی طرح کچھ بظاہر غیر زیرو اجزاء ایک مادے کے بطن میں مخصوص تغیرات کے مراحل سے گزرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ایک مکمل قسم کے زیرو وجود کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کا نتیجہ چلتے پھرتے انسان اور چلتے پھرتے حیوان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

سورہ نمبر 6 آیت 96: اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گائے کے پیٹ میں گھاس اور دانہ داخل ہوتا ہے، وہ اس کے اندر ایک قدرتی نظام کے تحت کچھ تغیراتی مراحل سے گزرتا ہے، یہاں تک کہ وہ دودھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو انسان کے لیے ایک نہایت قیمتی غذا ہے۔ سورہ نمبر 16 آیت 66 وغیرہ وغیرہ: اس طرح کے قدرتی مظاہر کی مثال دے کر خران میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ یہ دنیا کنورژن کے عالمی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقیاں ہمیشہ تغیراتی عمل، یعنی پروسیس، سے گزر کر وقوع میں آتی ہیں۔ ایک چیز اپنی ابتدائی حالت میں کچھ ہوتی ہے اور پھر اس پر تغیر و تبدل کا عمل واقع ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں وہ چیز ایک نئی بہتر چیز بن جاتی ہے۔

دو قسم کے بادلوں کے ٹکراؤ سے نائٹروجن کا پیدا ہونا، دو قسم کی گیسوں کے ملنے سے پانی کا وجود میں آنا، خام لوہے کا متغیر ہو کر اسٹیل بن جانا، مختلف قسم کے کیمیکل کی آمیزش سے نئی نئی مفید دھاتوں کا بننا وغیرہ وغیرہ، یہ سب وسیع تر معنوں میں کنورژن کی مثالیں ہیں۔ یہی کنورژن انسانی افکار کی دنیا میں بھی کارفرما ہے۔ اس دنیا میں مسلسل طور پر افکار کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے۔ اسی ٹکراؤ کے عمل سے ایک فکر تبدیل ہو کر دوسرے زیادہ بہتر فکر کی صورت اختیار کرتا ہے۔

مثال کے طور پر دنیا میں سینکڑوں سال تک شمسی نظام کے بارے میں زمین مرکزی نظریہ، یعنی جیوسنٹرک تھیوری، کا غلبہ تھا، پھر فکری تصادم کے نتیجے میں اس میں تغیر شروع ہوا، یہاں تک کہ زمین مرکزی نظریے کو علمی دنیا میں رد کر دیا گیا اور اس کی جگہ آفتاب مرکزی نظریہ، یعنی ہیلیو سینٹرک تھیوری، کو زیادہ صحیح قرار دے کر اس کو قبول کر لیا گیا وغیرہ۔ افکار کی دنیا میں اسی کنورژن کی ایک مثال وہ ہے جس کو مذہبی کنورژن کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہبی کنورژن فطرت کی وسیع تر اسکیم کا صرف ایک جز ہے۔ یہ جز بھی اتنا ہی مطلوب اور ضروری ہے جتنا کہ اس کا کل۔

حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا قائم کردہ ایک عالمگیر قانون ہے۔ مادی دنیا کی تمام ترقیاں اسی کنورژن کے اصول پر ہو رہی ہیں۔ زندہ اشیاء، یعنی انسان اور حیوان کا جسمانی ارتقاء، تمام تر اسی کنورژن کے اصول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح افکار کی دنیا میں ہزاروں سال سے جو ترقیاں ہو رہی ہیں، وہ سب کی سب اسی کنورژن کے اصول کو اختیار کرنے کی بنا پر ہو رہی ہیں۔

یعنی ایک چیز کو حق پا کر پوری طرح اختیار کر لینا۔ اس دنیا کا کوئی بھی ترقیاتی واقعہ اس کنورژن کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے، جو کہ روحانی سچائی کا دوسرا نام ہے۔ وہی مذہب کسی انسان کا مذہب بن سکتا ہے جس کو کسی آدمی نے ذاتی تلاش کے نتیجے میں دریافت کیا ہو۔

مذہب کا نہایت گہرا تعلق یقین سے ہے، اور یقین کا تعلق دریافت، یعنی ڈسکوری، سے ہے۔ دریافت کے بغیر یقین نہیں، اور یقین کے بغیر مذہب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر سچے مذہب کے ماحول میں پیدا ہو، تب بھی وہ صرف آبائی تعلق کی بنا پر اس مذہب کو نہیں پا سکتا۔ مذہب کو بطور ایک یقینی صداقت کے پانا اس کے لیے صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے مطالعے اور غور و فکر کے ذریعے اس کو پائے۔

وہ ایک معلوم چیز کو دوبارہ دریافت، یعنی ری ڈسکور، کرے۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 90۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.