Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Islam aur conversion

Urdu · 15 min

اسلام اور کنورژن: اسلام کنورژن کی حمایت کرتا ہے، مگر اسلام کے نزدیک کنورژن رسمی مفہوم میں محض تبدیلیِ مذہب، یعنی پروسلیٹزم، کے ہم معنی نہیں ہے؛ بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ذہنی انقلاب، یعنی intellectual revolution، یا روحانی تغیر، یعنی spiritual transformation، کے نتیجے میں ایک شخص کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ یہ سادہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچے سے نکل کر دوسرے مذہبی ڈھانچے میں جانا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنی تلاش و تحقیق کے ذریعے سچائی کو دریافت کیا، اور پھر اپنے ذاتی فیصلے کے تحت ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 6 ہجری کے آخر میں اس زمانے کے پڑوسی حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے تھے۔ ان خطوط میں ان کو اسلام قبول کرنے کی براہِ راست طور پر دعوت دی گئی تھی۔

مثال کے طور پر آپ نے بازنطینی حکمران ہرقل، یعنی Heraclius I، کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس میں یہ الفاظ لکھے: "اسلم تسلم"۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 2959۔ یعنی اسلام لاؤ، تم سلامتی پاؤ گے۔ اسی طرح مکے میں جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہوتا، وہاں جا کر آپ فرماتے: يا أيها الناس قولوا لا إله إلا الله تفلحوا اے لوگو!

کہو کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں، تم فلاح پاؤ گے۔ مسند احمد، حدیث نمبر 23191۔ یہ بظاہر لوگوں کو مذہب بدلنے کی دعوت تھی، مگر قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقتاً تبدیلیِ فکر کی دعوت تھی، نہ کہ سادہ طور پر محض مذہب بدل لینے کی۔ اسلام کے دورِ اول میں عرب کے کچھ دیہاتی لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے، جبکہ ان کے اندر گہرے قسم کی کرداری تبدیلی نہیں آئی تھی۔

ان کے بارے میں قرآن میں یہ سخت آیت اتری: أَرَأَوْا أَنْ أَمَّنُوا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی۔ اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ سورہ نمبر 49، آیت 14۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کنورژن کا مطلب ایک انسان کی پوری زندگی کی تبدیلی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں صرف مذہب کی تبدیلی۔

اسی طرح قرآن میں یہود و نصاری کے طریقے پر نقد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کہو کہ ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا، اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ سورہ نمبر 2، آیت 138۔ یہود و نصاری کے یہاں مذہب بدلنے کا ایک رسمی طریقہ رائج تھا، جس کو "استباق" یا "بپتسمہ" یعنی baptism کہا جاتا ہے۔

اس رسم میں آدمی کو پانی میں غوطہ دیا جاتا تھا، وہ پانی کے رنگ کو پاکی کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہبی پیشوا کے ذریعے صاف پانی میں غوطہ دینے سے ایک ناپاک آدمی پاک ہو جاتا ہے، اور اس طرح وہ نئے مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کہا گیا کہ جسم کے اوپر ظاہری طور پر پانی ڈالنے سے کوئی شخص پاک نہیں ہوتا، پاکی یہ ہے کہ آدمی کی پوری شخصیت بدل جائے، اس کے اندر اللہ کا رنگ داخل ہو جائے، وہ اپنے قول و عمل میں پوری طرح خدائی طریقے کو اختیار کر لے۔ اس معاملے میں قرآن یہاں تک جاتا ہے کہ وہ رسمی تبدیلیِ مذہب کی سرے سے تصدیق ہی نہیں کرتا۔

قدیم مدینے میں تقریباً 300 آدمی ایسے تھے جو اسلام کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ وہ بظاہر نماز روزہ بھی کرتے تھے، مگر یہ سب کچھ انہوں نے اوپر اوپر طور پر یا منافقانہ طور پر کیا تھا۔ یہ سب کچھ انہوں نے اوپری طور پر یا منافقانہ طور پر کیا تھا۔ ان کی اندرونی حالت ان کے ظاہری اقرار کے موافق نہیں تھی۔

وہ زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے، مگر قلبی کیفیت کے اعتبار سے ان کے اندر اسلام کی سپرٹ موجود نہ تھی۔ ایسے لوگوں کے اسلام کو قرآن میں جھوٹا اسلام کہا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک تم اس کے رسول ہو۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔

سورہ نمبر 62، آیت 1۔ قرآن کے مطابق تبدیلیِ مذہب سے مراد کیا ہے؟ اس کا اندازہ چند آیتوں کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک واقعے کا ذکر ہے جبکہ تقریباً 70 عیسائیوں کے ایک مجمعے میں قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں۔

اس کو سن کر وہ لوگ تڑپ اٹھے اور اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: "اور جب انہوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے، تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ہیں، اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔

اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے، جبکہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے؟ " سورہ نمبر 5، آیت 83 تا 84۔ اسی طرح قرآن میں ایمان لانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں، اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں، اور ان کے لیے عزت کی روزی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک تبدیلیِ مذہب حقیقت میں وہ ہے جو معرفت یعنی realization کے نتیجے میں پیش آئی ہو۔ جبکہ ایک انسان کی تلاش حق اپنی تلاش کا قابلِ یقین جواب پا لے، یہ پانا اس کے لیے اتنا گہرا تجربہ ہو کہ اس کا دل تڑپ اٹھے، اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں، اس کا پورا وجود اس سچائی کے رنگ میں ڈھل جائے، اس کے بعد وہ ایک نیا اور بالکل مختلف انسان بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کنورژن کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کنورژن کے معاملے کو بتانے کے لیے دوسرے زیادہ بامعنی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن جس دعوتی مشن کے تحت اتارا گیا ہے، اس کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: "بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آ چکی ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں، اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے، اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ " سورہ نمبر 5، آیت 15 تا 16۔

اسی طرح جو لوگ قرآن کے مطالعے سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں، ان کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: "جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے، کیا وہ اس کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے؟ نصیحت تو عقل والے لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔ " سورہ نمبر 13، آیت 16۔ اس آیت کے مطابق حقیقی کنورژن وہ ہے جو علم کی سطح پر واقع ہو، جس میں آدمی یہ محسوس کرتا ہو کہ وہ نہ جاننے کے مرحلے سے نکل کر جاننے کے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔

اسی لیے حدیث میں داخلِ اسلام سے پہلے کے دور کو جاہلیت کہا گیا ہے، یعنی بے خبری کا دور۔ اسی طرح قرآن میں مومن اور غیر مومن کے فرق کو موت کے بعد زندگی پانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ "کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی، اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔

" سورہ نمبر 6، آیت 123۔ اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ زمین کی تمثیل کے ذریعے اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین ہری بھری فصل سے لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے دلوں میں استعداد ہے، وہ سچائی کو پا کر جاگ اٹھتے ہیں۔

ارشاد ہوا ہے: "اور جو زمین اچھی ہے، اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے، اور جو زمین خراب ہے، اس کی پیداوار صرف ناقص نکلتی ہے۔ " اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لیے جو شکر کرنے والے ہیں۔ سورہ نمبر 7، آیت 58۔ اس بات کو قرآن میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: "کیا تم نے نہیں دیکھا کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی؟

وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے، اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے، اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

" سورہ نمبر 14، آیت 24 تا 27۔ قرآن کی ان آیتوں میں اس فرق کو بتایا گیا ہے جو سچائی کو پائے ہوئے انسان اور سچائی کو نہ پائے ہوئے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی سچائی کو نہ پائے، وہ گویا ایک ایسی جھاڑی کی مانند ہے جو زمین کے اوپر اگاتی ہو۔ ایسی جھاڑی کچھ دن تک بے فائدہ طور پر زمین کے اوپر رہتی ہے، اور اس کے بعد وہ یا تو خود مٹ جاتی ہے یا اکھاڑ کر پھینک دی جاتی ہے۔

اس کے برعکس ایک مفید اور پھلدار درخت زمین کے اوپر اس طرح اگتا ہے جیسے کہ وہ زمین کے لیے ہے اور زمین اس کے لیے۔ وہ زمین اور فضا سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے خوب ترقی کرتا ہے۔ اس سے لوگوں کو ہر قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر ایک مطلوب اور بامعنی وجود کے طور پر کھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 85۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.