Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Dastur ki dafa 44

Urdu · 4 min

دستور کی دفعہ 44۔ یہ ساری باتیں دستور کی دفعہ 44 کے حوالے سے کہی جا رہی ہیں۔ یہ دفعہ دستورِ ہند کے چوتھے حصے میں ہے۔ یہ حصہ اسٹیٹ پالیسی کے لیے رہنما اصول، یعنی ڈائریکٹو پرنسپلز، کی حیثیت سے دستور میں داخل کیا گیا ہے۔

اس کی دفعہ 37 میں یہ صراحت ہے کہ اس حصے میں جو دفعات درج کی گئی ہیں، وہ کسی بھی عدالت کے ذریعے قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ اس کا تعلق تمام تر حکومت اور ریاست سے ہے۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کے ججوں کا بار بار دفعہ 44 کے حوالے سے یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ چھیڑنا، ایک ایسے مسئلے میں دخل دینا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ جنرل جنرل جنرل جنرل جنرل جنرل جنرل جنرل نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے دیپ پنیر 15 مئی 1995 کو اپنی حد سے گزر کر پارلیمنٹ کی حد میں داخل ہونا قرار دیا۔

It is a judicial trespass on parliament's jurisdiction. اسی پس منظر میں دی ہندوستان ٹائمز 12 مئی 1995 نے اپنے ایڈیٹوریل میں فیصلے پر تبصرے کا آغاز اس جملے سے کیا تھا کہ "ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں بار بار رجحان ظاہر کیا ہے کہ وہ ایسے مقامات میں گھس پڑتی ہے جہاں داخل ہونے سے فرشتے بھی گھبراتے ہیں"۔ India's Supreme Court in recent years has displayed a penchant for rushing into terrain that angels fear to tread. خود دستور کے مطابق یونیفارم سول کوڈ کو ایکٹ ایکٹ کی صورت دینے کا تعلق تمام تر حکومت سے ہے، اور حکومت کا حال یہ ہے کہ 1956 میں اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے صاف طور پر کہا تھا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اس کو تکمیل تک پہنچاؤں"۔

I do not think that at the present moment the time is ripe in India for me to try to push it through. یہی بات اس کے بعد اندرا گاندھی نے بھی کہی، اور اب موجودہ پرائم منسٹر پی وی نرسیمہ راؤ نے بھی یہی بات کہہ دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، نئی دہلی، 28 جولائی 1995، صفحہ 7۔ اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو عملاً یونیفارم سول کوڈ لانا ہے، وہ تو اس سے بے تعلقی ظاہر کرتے ہیں، اور جن لوگوں کے اختیار میں سرے سے اس کا معاملہ نہیں، وہ اس کے حق میں پرجوش تقریریں کر رہے ہیں۔

اس قسم کی لفظی کارروائی صرف وقت کا ضیاع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ کتاب تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 106۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.