اتحادِ انسانیت: ایک مغربی فلسفی نے کہا ہے کہ انسانیت کی تاریخ لڑائی جھگڑے کے رجسٹر سے کچھ ہی کم ہے۔ مزید یہ کہ دنیا کی اکثر لڑائیاں مذہب کے نام پر پیش آئیں۔ اس کو دیکھ کر بہت سے مفکرین نے یہ رائے قائم کر لی کہ انسانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ مذہب ہے۔ کارل مارکس جیسے بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ انسانیت کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہب کا خاتمہ کر دیا جائے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کی رائے محض ایک دیوانگی ہے، نہ کہ کوئی واقعی رائے۔
دوسری قسم کے مفکرین وہ ہیں جنہوں نے اس مسئلے کا حل یہ بتایا کہ مذہب کے نام پر جھگڑے غیر ضروری ہیں، کیونکہ تمام مذاہب ایک ہیں؛ ہر مذہب یکساں طور پر سچا ہے۔ مختلف مذاہب مختلف راستے ہیں جو ایک ہی مشترک منزل کی طرف جاتے ہیں۔ اس نظریے کو کسی نے تعدد کے درمیان وحدت، یعنی unity in diversity سے تعبیر کیا، اور کسی نے اس کو توحدِ حقیقت، یعنی oneness of reality کا نام دیا۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ اگر مذاہب کے بارے میں اس اشتراکی نقطۂ نظر کو مان لیا جائے تو اس کے بعد تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور انسانی سماج میں مکمل امن قائم ہو جائے گا۔
مگر یہ حل نادرست بھی ہے اور بے فائدہ بھی، اور اسی کے ساتھ ناقابلِ عمل بھی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ مذاہب کے درمیان یکسانیت تلاش کرنے کا نہیں ہے، بلکہ حاملینِ مذاہب یا انسانوں کے درمیان یکسانیت تلاش کرنے کا ہے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 74۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.