← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Wahdat ka raaz
Urdu · 7 min
وحدت کا راز۔ 5 اپریل 1998 کو میں رِشی کیش میں تھا، اُس وقت یہاں ایک پروگرام کے تحت مختلف ملکوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے ہوئے تھے۔ اُس موقع پر ایک مجلس میں چند تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ایک مفید گفتگو ہوئی، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ انسانی سماج میں باہمی رواداری یعنی tolerance اور احترام یعنی respect کا ماحول کس طرح پیدا کیا جائے۔
انہوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ لوگوں کے اندر وحدتِ حقیقت یعنی oneness of reality کا عقیدہ بٹھایا جائے۔ اُن لوگوں کا کہنا تھا کہ سچائی ایک ہے، مگر اُس کے راستے مختلف ہیں۔ آدمی جس مذہبی طریقے پر بھی چلے، آخر کار وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔ یہ ایک قدیم نظریہ ہے۔
اس کے ثبوت کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، سب کی سب تمثیل پر مبنی ہیں۔ مثلاً مذکورہ مجلس میں ایک ہندو اسکالر نے کہا کہ اگر آپ ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک ہی راستہ دکھائی دے گا جو پہاڑی کے اوپر جا رہا ہوگا۔ لیکن اگر آپ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جائیں اور اُس کے چاروں طرف دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ پہاڑ کے ہر طرف راستے ہیں، اور وہ سب الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بلندی پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ استدلال صرف ایک تمثیل پر مبنی ہے، اور تمثیلی استدلال خالص علمی اعتبار سے کوئی وزن نہیں رکھتا۔
اس کو نہایت آسانی کے ساتھ دوسری تمثیل سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً بمبئی یا دہلی جیسے ریلوے اسٹیشن پر کوئی شخص کھڑا ہو تو اُس کو سینکڑوں گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں گی، مگر یہ سمجھنا یقینی طور پر درست نہ ہوگا کہ اُن میں سے ہر گاڑی ایک ہی آخری اسٹیشن کی طرف جا رہی ہے۔ مذکورہ تمثیل میں تمام راستے اگر ایک ہی منزل کی طرف جا رہے تھے، تو اس قسم کی دوسری تمثیل میں ہر راستہ الگ الگ منزل کی طرف چلا جا رہا تھا، چلا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی سماج میں احترام اور رواداری کا ماحول پیدا کرنے کے مسئلے سے مذکورہ نظریے کا کوئی تعلق نہیں۔
حتیٰ کہ اگر تمام لوگ اس عقیدے کو مان لیں، تب بھی وہ مطلوب سماجی مقصد کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ایک مذہب کو ماننے والے گروہ کے درمیان باہمی طور پر ہر زمانے میں لڑائیاں جاری رہی ہیں، اور آج بھی جاری ہیں۔ پھر جو نظریۂ اتحاد ایک مذہب کے درمیان کارآمد نہ ہو سکا، وہ مختلف مذاہب کے درمیان کس طرح کارآمد بن جائے گا؟ وحدتِ دین سماجی اتحاد پیدا کرتا ہے۔
یہ نظریہ بظاہر یہ فرض کرتا ہے کہ وحدتِ دین کے اصول کو ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔ اب اس کا عملی تجربہ کرنا ہے، حالانکہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نہایت اعلیٰ سطح پر اس نظریے کا تجربہ کیا گیا، مگر وہ سراسر ناکام ثابت ہوگا۔ مگر وہ سراسر ناکام ثابت ہوا۔
شہنشاہ اکبر کی حکومتی طاقت، ڈاکٹر بھگوان داس کا انسائیکلوپیڈیاوی علم، اور مہاتما گاندھی کی مقبول لیڈرشپ، اس قسم کے بہت سے بڑے بڑے تجربے ناکامی کی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج ہمارے سامنے جو اصل مسئلہ ہے، وہ وحدتِ دین کے نظریے کے تجربے کا نہیں ہے، بلکہ اُس کے لمبے تجربے کے باوجود مطلوب نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو چیز مفقود ہے، وہ نظریے کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ نظریے کے موجود ہوتے ہوئے نتیجے کا حاصل نہ ہونا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں اس نظریے کے سوا ایک اور حل تلاش کرنا ہے، نہ کہ اسی ناکام تجربے کو مزید دہرانا۔
اس مسئلے کا زیادہ صحیح اور قابلِ عمل حل وہ ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن نے جو تصور دیا ہے، وہ یہ ہے کہ تمام انسان نفسِ واحدہ سے پیدا کیے گئے ہیں۔ سورہ نمبر 4 آیت 1۔ یعنی تمام انسانوں کی اصل ایک ہے، تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔
اس لحاظ سے تمام انسان آپس میں بہن بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب کے سب آپس میں blood sisters یعنی خونی بہن اور blood brothers یعنی خونی بھائی ہیں۔ اس تصور کے مطابق سماج میں اتحاد و احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بنیاد وحدتِ انسانیت ہے۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ ظاہری اختلاف کے باوجود سب کے سب اصلًا ایک انسانی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
دوسرے اعتبارات سے بظاہر مختلف ہونے کے باوجود، وہ انسانی اعتبار سے ایک ہیں۔ انسانی سماج میں اتحاد کا راز وحدتِ ادیان کے عقیدے میں نہیں ہے، بلکہ وحدتِ انسان کے عقیدے میں ہے۔ یعنی مذہب تو جدا جدا ہیں، مگر انسان سب کے سب یکساں سماجی درجہ رکھتے ہیں۔ سماج میں اتحاد و احترام پیدا کرنے کے لیے یہی واحد فارمولا ہے جو قابلِ عمل ہے، اور اسی کے ساتھ فطرت کے مطابق بھی۔
کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔