← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Chand Nikaat
Urdu · 13 min
چند نکات: نمبر 1، مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک مذہب کے اعتقادات اور دوسرے مذہب کے اعتقادات میں ایسے بنیادی فرق موجود ہیں جو اس دعوے کی کھلی تردید کرتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ خدا، پیغمبر، الہام، زندگی اور موت—ہر ایک کے بارے میں مختلف مذاہب میں الگ الگ تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ "تمام مذاہب ایک ہیں" ایک ایسی بات ہے جس کو خود مذاہب کبھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ نمبر 2، مذاہب کے درمیان اختلاف ہونا کوئی برائی نہیں، بلکہ یہ ایک خوبی کی بات ہے۔
اس دنیا میں ذہنی اور فکری ترقیاں اختلافات کے ذریعے ہی وجود میں آتی ہیں۔ جب ایک معاملے میں دو رائیں سامنے آتی ہیں تو فطری طور پر دونوں کی طرف سے مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان افکار کا ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس بحث و تکرار کے ذریعے نئے نظریات سامنے آتے ہیں، یہاں تک کہ اصل حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔
علم کی پوری تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ اختلاف ہی کے ذریعے تمام فکری ترقیاں ظہور میں آئیں۔ مثال کے طور پر شمسی نظام کے بارے میں قدیم زمانے میں دو مختلف نظریے پیش کیے گئے۔ ارسٹاکس نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ دوسرا نظریہ ٹالمی کا تھا، جس نے کہا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔
اگر یہ مان لیا جاتا کہ یہ دونوں ہی نظریے درست ہیں—دونوں ایک ہی مشترک حقیقت کا اظہار ہیں—تو نظام فلکی کے بارے میں اصل حقیقت واضح ہو کر کبھی سامنے نہ آتی۔ مگر اہل علم کے درمیان دونوں نظریات پر بحثیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ آخر کار ایک نظریے کا درست ہونا واضح طور پر سامنے آ گیا۔ اختلاف، سچائی تک پہنچنے کا زینہ بن گیا۔ علم کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ رائےوں کا اختلاف ہمیشہ ذہنی ترقی کا سبب بنتا ہے۔
مذہب کا معاملہ بھی عین یہی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں، تو اس کے بعد مذہب کے دائرے میں بحث اور ڈائیلاگ کا دروازہ بند ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ مذہبی افکار میں ترقی کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند پڑا رہے گا۔ انسان اس حقیقت کی دریافت سے محروم رہ جائے گا جس کی دریافت کے بغیر انسانیت کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ نمبر 3، "تمام مذاہب سچے ہیں" کا نظریہ خود مذہب کی ضد ہے۔
مذہب یقین کا سرچشمہ ہے۔ کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے کہ اس کو ایک ایسی سچائی ملی ہوئی ہو جس کے برحق ہونے پر وہ کامل یقین کر سکے۔ جو اس کے لیے اعتماد و توکل کا آخری سہارا ہو۔ جو اس کو اس احساس سے سرشار رکھے کہ اس نے اس حقیقت کو پا لیا ہے جس کی طلب وہ اپنی فطرت کی گہرائیوں میں محسوس کر رہا تھا۔
لیکن جب یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان مذہب پر یقین سے محروم ہو جائے گا۔ یقین فطری طور پر وحدت چاہتا ہے، نہ کہ تعدد. ایسی حالت میں ہر مذہب کو سچا ماننے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی بھی مذہب آدمی کے لیے یقین اور اعتماد کا سرچشمہ نہ بن سکے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفه" سورہ نمبر 33 آیت 4۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدائشی ساخت کے مطابق کوئی ایک ہی چیز کسی کے لیے کامل معنوں میں مرکز توجہ یا مرکز محبت بن سکتی ہے، نہ کہ کئی چیزیں۔ کوئی شخص اگر آپ سے یہ مطالبہ کرے کہ آپ دنیا کی ہر خاتون سے اپنی ماں کی طرح محبت کریں، تو یہ ایک غیر فطری اور ناممکن بات ہوگی۔ فطرت کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ماں سے محبت رکھے اور اس کے علاوہ جو عورتیں ہیں، ان کا وہ مکمل احترام کرے۔ ایسی حالت میں صحیح اور فطری بات صرف یہ ہے کہ آدمی جس مذہب میں سچائی دیکھے، اس کو وہ اپنے یقین اور اعتماد کا مرکز بنائے، اور بقیہ مذاہب سے یکساں طور پر احترام کا معاملہ کرے۔
مہاتما گاندھی اس نظریے کے ایک بڑے حامی تھے کہ "تمام مذاہب سچے ہیں"۔ چنانچہ وہ کہا کرتے تھے کہ "رام رحیم ایک ہے"۔ مگر واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو صرف ایک کے اوپر گہرا یقین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1948 میں جب ان کو گولی ماری گئی تو موت سے پہلے جو لفظ ان کی زبان سے نکلا، وہ "ہے رام ہے رحیم" نہیں تھا، بلکہ صرف "ہے رام" تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ "تمام مذاہب سچے ہیں" کا نظریہ آدمی کو سچائی تو نہیں دے گا، البتہ وہ اس کو دو میں سے ایک خرابی میں مبتلا کر دے گا۔ اس کو یا تو کسی بھی مذہب پر گہرا یقین نہ ہوگا، یا وہ ایسا کرے گا کہ حقیقی طور پر تو وہ صرف ایک مذہب کو مان رہا ہوگا، البتہ مصلحت کی خاطر وہ اپنی زبان سے لفظی طور پر یہ کہے گا کہ "تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں"۔ نمبر 4، اس سلسلے میں صحیح نظریہ یہ ہے کہ مذاہب میں اختلاف کو مان کر بحث اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے، البتہ انسان کی سطح پر ہر ایک کو قابل احترام سمجھا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ اس اصول کی تائید کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں تھے، ایک روز آپ نے دیکھا کہ قریب کے راستے سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ لوگ ایک میت اٹھائے ہوئے اس کو قبرستان کی طرف لے جا رہے تھے۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔
آپ کے ایک ساتھی نے کہا کہ "اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا، نہ کہ کسی مسلمان کا جنازہ"۔ آپ نے فرمایا: "کیا وہ انسان نہ تھا؟ " لَيْسَتْ نَفْسًا صحیح البخاری، حدیث نمبر 1250۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ معلوم ہے کہ آپ یہودی مذہب سے اختلاف رکھتے تھے۔
اس کے باوجود آپ نے یہودی کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا، اور انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا۔ یہی اس معاملے میں صحیح فارمولا ہے۔ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں مذہب کے درمیان مباحثہ اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جو فکری ارتقاء کی لازمی شرط ہے، اور دوسری طرف انسان کی سطح پر تمام افراد کو انسان کے روپ میں دیکھنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ سماجی اتحاد اور معاشرتی ہم آہنگی پوری طرح باقی رہتی ہے، جو بہتر سماجی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ نمبر 5، یہ عقیدہ کہ تمام مذاہب یکساں ہیں، باہمی ٹکراؤ کے خلاف کوئی لازمی چک نہیں۔
دنیا کی بے شمار لڑائیاں ایک ہی عقیدہ اور مذہب کے ماننے والوں کے درمیان ہوئیں۔ مثلاً قدیم ہندوستان میں مہابھارت کی لڑائی، جو دو ہم مذہب گروہوں کے درمیان ہوئی۔ یورپ کی پہلی اور دوسری عالمی جنگ، جس کے دونوں فریق ایک ہی مذہب کے ماننے والے تھے۔ افغانستان کی موجودہ جنگ، جس میں ایک مذہب کے ماننے والے دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف خونی جنگ لڑ رہے ہیں، وغیرہ۔
لڑائی کا تعلق کچھ اور اسباب سے ہے، نہ کہ مذہب اور عقیدے کے اختلاف سے۔ نمبر 6، یہ بے حد سادگی کی بات ہے کہ مختلف مذاہب کو ایک بتا کر یہ سمجھا جائے کہ انسانوں کے درمیان اختلاف ختم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق و اختلاف خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بالفرض اگر مذہب کا اختلاف ختم کر دیا جائے، تب بھی ہزاروں دوسرے اختلافات انسانوں کے درمیان موجود رہیں گے، جو ان کو ٹکرانے کے لیے کافی ہوں گے۔
فرق و اختلاف جب خود فطرت ہی کا ایک حصہ ہو، تو کوئی بھی انسان اس کو ختم کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ مذہب کے علاوہ زندگی کے جو دوسرے شعبے ہیں، ان میں ہر جگہ لوگوں کے درمیان باہمی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ باپ بیٹے اور میاں بیوی کے درمیان بھی زندگی کا پورا نظام اختلاف کو گوارا کرنے کے اصول پر چل رہا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانے کے اصول پر۔ ایسی حالت میں آسان ترین بات یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں بھی اسی عام اصول کو مان لیا جائے جو دوسرے انسانی شعبوں میں ہمیشہ سے جاری ہے، یعنی اختلاف کے باوجود اتحاد، اختلاف کے باوجود عزت و احترام۔
یہ نظریہ کہ تمام مذاہب یکساں طور پر برحق ہیں، غیر واقعی بھی ہے اور بے فائدہ بھی۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تمام انسان قابل احترام ہیں۔ مختلف مذاہب میں بلاشبہ اختلاف ہے، اور اس اختلاف کے بارے میں پرامن ڈائیلاگ بھی جاری رہنا چاہیے۔ مگر جہاں تک حامل مذہب یا دوسرے لفظوں میں انسان کا معاملہ ہے، وہ ہر حال میں عزت و احترام کا مستحق ہے۔
ہر انسان یکساں طور پر خدا کی مخلوق ہے۔ ہر انسان بحیثیت انسان برابر کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی واحد فارمولا ہے جو دو مختلف عناصر، یعنی مذہب اور حامل مذہب، کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے، اور انسانیت کو وہ امن دے سکتا ہے جو بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی اتحاد کا صحیح فارمولا یہ نہیں کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔
اس کے بجائے انسانوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرنے کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو۔ Follow one and respect all کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 74۔