خلاصۂ کلام: حضرت مسیح کا ایک قول انجیل میں اس طرح نقل کیا گیا ہے: "یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔ " متی، باب 10۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ" ۔ صحیح بخاری، صحیح البخاری، حدیث نمبر 396۔
مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی قول مطلق معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ مقید معنوں میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تمام اقوال یا احکام صرف وقتی صورتحال کے اعتبار سے ہوتے ہیں، یعنی وہ صورتحال جبکہ فریقِ ثانی کی یکطرفہ جارحیت کی بنا پر دفاع کی ناگزیر ضرورت پیش آ گئی ہو۔ جہاں تک اصل پیغمبرانہ مشن کا تعلق ہے، وہ ہر پیغمبر کے یہاں ایک ہی رہا ہے، اور وہ ہے نُصح یعنی خیرخواہی، اور امن کے ساتھ لوگوں کو خدا کی طرف بلانا۔ پیغمبرانہ مشن ہر حال میں اسی اصول پر جاری رہتا ہے: وہ کسی بھی حال میں اپنی طرف سے تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔
حتیٰ کہ اگر فریقِ ثانی تشدد اور جارحیت پر آمادہ ہو جائے، تب بھی پیغمبرانہ طریقۂ کار کا تقاضا ہے کہ اعراض کے ذریعے آخر وقت تک اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ پیغمبر کا اصل کام انسان کو ہدایت دے کر اس کو صالح زندگی گزارنے کا موقع دینا ہے، نہ کہ اس کو قتل کر کے اس کا خاتمہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے مشن میں امن کی حیثیت اصولِ عام کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا کی۔ کتاب تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.