← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Islam ki taleem
Urdu · 6 min
اسلام کی تعلیم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی وہی ہے جو دوسرے پیغمبروں اور حضرت مسیح کی تعلیم تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو عرب کے باہر مختلف ملکوں میں بھیجا تاکہ وہ حاکموں اور سرداروں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں، اس وقت آپ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کی دعوت دی تھی جس کی دعوت میں تم کو دے رہا ہوں۔ دعاہم إلى الذي دعوتكم إليه سیرت ابن ہشام، الجزء الرابع، صفحہ 278۔ قرآن، سورہ نمبر 21، آیت 107 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ اسی طرح قرآن، سورہ نمبر 3، آیت 159 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے دل میں خصوصی طور پر سختی کے بجائے نرمی کا مادہ رکھ دیا۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! تم لوگ دشمن سے مداحی کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ سے عافیت مانگو۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1742۔
اسلامی طریقِ عمل کو اگر ایک نام دینا ہو تو اس کو پرامن عمل، یعنی peaceful activism، کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے کہ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورہ نمبر 4، آیت 128۔ یعنی نزاع کے وقت ٹکراؤ کے بجائے صلح کا طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِيَ عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِيَ عَلَى الْعُنْفِ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4807۔
یعنی اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے، اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ قرآن میں ایک مقام پر فطرت کا ایک اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا، اور کہا کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں؟ " تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔
سورہ نمبر 40، آیت 32 تا 34۔ اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر حق کی طلب فطری طور پر رکھ دی ہے۔ کوئی شخص یا کوئی گروہ اگر حق کے داعیوں کا دشمن بن جائے تو یہ اس کی مصنوعی حالت ہوگی، نہ کہ اس کی حقیقی حالت۔ امکانی طور پر وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح حق کا طالب ہوگا، اگرچہ بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہوگا کہ وہ حق کا دشمن ہے۔
ایسی حالت میں حق کے داعیوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مخالفانہ روش کو نظر انداز کر کے ان سے اعتدال کے ساتھ معاملہ کریں، وہ محبت اور خیرخواہی کے ساتھ ان کو حق کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ وہ حق کو قبول کر لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ظاہری عناد کا پردہ ہٹا دیا جائے، اور پردہ ہٹانے کا یہ کام صرف اسی طرح ہو سکتا ہے، اور پردہ ہٹانے کا یہ کام صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ جوابی عناد کا معاملہ نہ کیا جائے، بلکہ ایک طرفہ محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کیا جائے۔ پیغمبروں کا طریقہ دشمن کو دوست بنانا ہے، نہ کہ دشمن کو دشمن قرار دے کر اس سے کٹ جانا۔
یہی ہمیشہ ہر پیغمبر کی تعلیم رہی ہے، اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کی صرف اصولی تعلیم نہیں دی، بلکہ آپ کی پوری زندگی اس بات کی عملی مثال بن گئی کہ اچھا سلوک کس طرح مخالفین کو بدل دیتا ہے اور دشمنوں کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔