Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Hazrat Maseeh ki misaal

Urdu · 18 min

حضرت مسیح کی مثال اسی طرح قرآن میں حضرت مسیح اور ان کے پیروں کا ذکر بار بار آیا ہے۔ قرآن کے اس حصے کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی زندگی میں ایک خصوصی اہم مثال ملتی ہے۔ اس مثال کا تعلق تحریک سے ہے: اسلامی تحریک یا خدا پرستانہ دعوت کو کس طرح چلایا جائے، اور مخالف عناصر سے کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ اس کا ایک خاص نمونہ حضرت مسیح اور ان کے پیروں کے یہاں ملتا ہے۔

قرآن کی سورہ 61 میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان لانے والو! تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون اللہ کے راستے میں میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کیا۔

پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ سورہ نمبر 61 آیت 14۔ قرآن کی اس آیت میں "فَأَيَّدْنَ الَّذِينَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ" کے الفاظ بہت زیادہ قابلِ غور ہیں۔ ان کے جو ترجمے کیے گئے ہیں، ان میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں: "فَاسْقُوَةُ الدَّادِيمِ مُؤْمِنَارَاءِ بَرْدُشْمَنَانِ عِيْشَانِ"۔

پس شودن غالب، شاہ ولی اللہ۔ پھر زور دیا ہم نے ان کو جو یقین لائے تھے ان کے دشمنوں پر۔ پھر ہو رہے غالب، شاہ عبدالقادر۔ پھر قوت دی ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے، پھر ہو رہے غالب، شیخ الہند۔

اس آیت میں قوت یعنی اسٹرینتھ سے کیا مراد ہے، اور دشمنوں پر غلبہ پانے کا مطلب کیا ہے، یہ نہایت اہم سوال ہے۔ مسیحیت کو اپنے ابتدائی زمانے میں فلسطین کے یہودیوں کی طرف سے سخت قسم کی دشمنی کا سابقہ پیش آیا، حتیٰ کہ وہ حضرت مسیح کے قتل کے درپے ہو گئے۔ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت مسیح کے پیروں نے ان کے مقابلے میں جنگی ہتھیار استعمال کیے ہوں، اور اس کے ذریعے انہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی ہو۔ ایسی حالت میں آخر وہ کون سی قوت تھی جو ان کے لیے اپنے دشمنوں کے اوپر فتح و غلبے کا ذریعہ بنی؟

اس کا جواب قرآن میں یہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیروان مسیح کے اندر خصوصی طور پر ایک اخلاقی اور روحانی صفت پیدا کر دی، جو مادی ہتھیار کے بغیر جنگ جیتنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ قرآن میں حضرت مسیح اور ان کے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً سورہ نمبر 57 آیت 27۔ یعنی جن لوگوں نے مسیح کی پیروی کی، ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی۔ اس آیت میں متبعین مسیح کے لیے جس رأفت و رحمت کا ذکر ہے، وہ بعد از اتباع کا واقعہ ہے، نہ کہ قبل از اتباع کا واقعہ۔

یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ پہلے سے رأفت و رحمت کے جذبات لے کر پیدا ہوئے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح کے ذریعے ان کو جو دین سکھایا گیا تھا، اس نے ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ فلسطین میں جب ان کو یہودیوں کی دشمنانہ کارروائیوں کا سامنا پیش آیا، تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کو ٹکراؤ کے بجائے یہ تعلیم دی گئی کہ رأفت و رحمت سے اس کا مقابلہ کرو۔ یہی بات خود انجیل سے بھی معلوم ہوتی ہے، لوقا باب 6۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے پیروں کو جو طاقت دی گئی، وہ رأفت و رحمت کی طاقت تھی۔

اسی پرامن ہتھیار کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں پر اس طرح غالب ہوئے کہ جو لوگ پہلے ان کے غیر یا دشمن بنے ہوئے تھے، وہ دوست بن کر ان کی صف میں شامل ہو گئے۔ اس طرح ان کی عددی قوت اتنی بڑھ گئی کہ خود یہی عددی برتری ان کے غلبے کا ذریعہ بن گئی۔ اس سلسلے میں حضرت مسیح نے اپنے پیروں کو جو تعلیم دی تھی، وہ موجودہ انجیل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ یہ اگرچہ اصل مسیحی تعلیم کا صرف ترجمہ ہے، تاہم اس میں حضرت مسیح کی تعلیم کی روح اب بھی پائی جاتی ہے۔

اس کے بعض حصے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: "میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو، جو تم سے عداوت رکھیں ان کا بھلا کرو، جو تم پر لعنت کریں ان کے لیے برکت چاہو، جو تمہاری تحقیر کریں ان کے لیے دعا کرو، جو تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے، اور جو تمہارا چغا لے اس کو کرتا لینے سے بھی منع نہ کرو"۔ لوقا باب 6۔ یہودی فریسیوں نے یسوع سے پوچھا کہ کیا قیصر کو جزیہ دینا رواں ہے یا نہیں۔ یسوع نے جواب دیا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو، اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔

متی باب 22۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت مسیح اور ان کے متبعین کو فلسطین میں اول دن سے سخت مخالفت اور دشمنی کا سامنا پیش آیا۔ ان کے یہ دشمن یہودی لوگ تھے، جو اس وقت اس علاقے میں طاقتور حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی اس دشمنانہ کارروائیوں میں وہاں کے رومی حکمرانوں کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا۔

اس کے نتیجے میں حضرت مسیح اور ان کے ماننے والوں کے لیے وہاں انتہائی حد تک غیر موافق ماحول پیدا ہو گیا۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ حضرت مسیح کے متبعین نفرت اور تشدد اور ٹکراؤ کے راستے پر چل پڑے۔ وہ شہادت کی جذباتی تقریریں کر کے مسیحیوں کو لڑنے مرنے پر آمادہ کریں۔ مگر اس سخت ترین ماحول میں بھی حضرت مسیح نے ان کو محبت کا پیغام دیا۔

انہوں نے کہا کہ تم اپنے دشمنوں سے نفرت نہ کرو، بلکہ ان سے محبت والا معاملہ کرو۔ دشمن سے محبت کرو کی بات کوئی سادہ بات نہ تھی، بلکہ یہ ایک مکمل طرز فکر اور ایک مکمل پروگرام تھا۔ اس کا مطلب ایک لفظ میں یہ تھا کہ حضرت مسیح نے اپنے پیروں کو نفرت پر مبنی عمل یعنی ہیٹ بیسڈ ایکٹیوزم سے روکا، اور انہیں محبت پر مبنی عمل یعنی لو بیسڈ ایکٹیوزم کے راستے پر ڈال دیا۔ دشمن سے محبت کرو کا مطلب ہے کہ تم دشمن کے خیر خواہ بنو۔

دعوت کی بنیاد یہی خیر خواہی ہے۔ دعوت دراصل محبت انسانی کا اظہار ہے۔ حضرت مسیح نے جب دشمن سے محبت کرنے پر زور دیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ تمام انسانوں سے دعوتی خیر خواہی کرو، حتیٰ کہ اپنے دشمنوں سے بھی۔ تم ہر آدمی کی ہدایت کے حریص بنو، خواہ وہ تمہارا موافق ہو یا مخالف، خواہ وہ تم سے دور ہو یا تم سے قریب۔

تم ہر ایک کو خدا کی رحمت میں داخل کرنے کے لیے سرگرم ہو جاؤ۔ حضرت مسیح کا یہ کہنا کہ جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو دو، کوئی انفیالی تعلیم نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت کے حکمرانوں سے پولیٹیکل ٹکراؤ کرنے سے بچو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارا سارا وقت منفی ٹکراؤ میں گزر جائے۔ اور غیر سیاسی میدان میں مثبت جدوجہد کے جو امکانات ہیں، وہ غیر استعمال شدہ رہ جائیں۔

اسی طرح حضرت مسیح کا یہ کہنا کہ جو تمہارا کرتا مانگے اس کو اپنا چغا بھی دے دو، یہ بھی کوئی بزدلی اور سپردگی کی تعلیم نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی سے کوئی نزاع پیدا ہو تو جلد از جلد اس کو ختم کر دو، خواہ وہ ایک طرفہ ایڈجسٹمنٹ یعنی یونی لیٹرل ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ اس پالیسی کو چند لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسائل سے اعراض کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ Ignore the problems, avail the opportunities اس پالیسی کے تحت حضرت مسیح نے اپنے ساتھیوں کو دعوتی ہجرت کا مشورہ دیا، یعنی وہ لوگ فلسطین سے نکل کر اطراف کے علاقوں میں چلے جائیں اور وہاں پرامن طور پر رہ کر لوگوں کی خدمت کریں اور انہیں مسیحیت کا پیغام پہنچائیں۔

اس واقعے کا ذکر انجیل میں اس طرح آیا ہے: "اور مسیح کے گیارہ شاگرد گلیل کے اس پہاڑ پر گئے جو یسوع نے ان کے لیے مقرر کیا تھا۔ یسوع نے پاس آ کر ان سے باتیں کیں اور کہا کہ تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور ان کو تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تم کو حکم دیا"۔ متی باب 28۔ یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے: "ایک روایت کے مطابق معاہدہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ عرب کے اطراف میں بادشاہوں اور سرداروں کو دعوتی خطوط روانہ کریں۔

اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو مدینے میں جمع کیا اور کہا کہ اے لوگوں! اللہ نے مجھ کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، تو تم لوگ میرے ساتھ اختلاف نہ کرو۔ جس طرح حواریوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ اختلاف کیا، یہ سن کر اصحاب رسول نے کہا کہ اے خدا کے رسول! حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا؟

آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ نے حواریوں کو اسی اسی کام کی طرف بلایا تھا جس کام کی طرف میں تم کو بلا رہا ہوں۔ تو جس کو انہوں نے قریب کے مقام پر بھیجنا چاہا، وہ اس پر راضی رہے، اور جس کو دور کے مقام پر بھیجنا چاہا، تو اس کو یہ بات شاخ ہوئی اور ناگوار گزری۔ تو عیسیٰ نے اللہ سے اس کی شکایت کی، تو جن کو گرانی ہوئی تھی، ان کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے ہر ایک ان لوگوں کی زبان بولنے لگا جن کی طرف ان کو بھیجا جا رہا تھا۔ سیرت ابن ہشام جلد چار صفحہ 279۔

حضرت مسیح کی ہدایت پر آپ کے متبعین کا اس طرح فلسطین سے نکلنا ایک قسم کی داعیانہ ہجرت تھی۔ چنانچہ یہ لوگ اپنے وطن سے نکل کر اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے اور خاموشی کے ساتھ لوگوں کو مسیحیت کا پیغام دینے لگے۔ حضرت مسیح کی ہدایت کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ سیاسی اقتدار سے کسی قسم کا کوئی تعارض نہ کریں۔ اگر کسی سے نزاع پیدا ہو جائے تو اس کو فوراً ہی ایک طرفہ طور پر حل کر لیں۔

وہ لوگوں کے ساتھ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ دوسروں کے ساتھ ان کا یہ سلوک گویا دعوت کی فضا بنانے کے ہم معنی تھا۔ اس موافق فضا میں وہ لوگوں کو مسیحیت کا پیغام دینے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیحیت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلنے لگی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ تھوڑی ہی مدت میں مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیل گئی، مثلاً روم، یونان، شام، مصر، سوڈان، حبش، شمالی افریقہ، جارجیا، ارمینیا، مالابار، مالابار کوسٹ وغیرہ۔ حضرت مسیح کے بعد ابتدائی پانچ صدیوں میں مسیحیت جس طرح دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی، اس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے: ہارنک مشن اینڈ ایکسپینشن اف کرسچینٹی ان دا فرسٹ تھری سینچریز 1902، کینتھ سکاٹ لیٹوریٹی ہسٹری اف دا ایکسپینشن اف کرسچینٹی 1945۔ دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی وفات کے بعد مسیحیت برابر پھیلتی رہی۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق مسیح کے پیروں کے سامنے صرف دو نکاتی پروگرام تھا: محبت اور دعوت۔

ایک طرفہ محبت اور پرامن دعوت کے اسی اصول کو لے کر وہ پھیلتے رہے، یہاں تک کہ وہ یورپ تک پہنچ گئے۔ اس وقت یورپ کے بیشتر حصے میں رومن ایمپائر کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ ابتداءً ان کو رومن ایمپائر کی طرف سے سخت اذیت یعنی پرسیکیوشن کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ انتقام یا ٹکراؤ سے دور رہتے ہوئے اپنا مشنری کام پرامن طور پر کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 337 میں خود رومی حکمران کانسٹنٹین اول یعنی کانسٹنٹین فرسٹ نے مسیحیت کو قبول کر لیا۔

یہ الناس دین ملوکیم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ تھوڑی مدت میں یورپ کی بیشتر آبادی نے مسیحیت کو قبول کر لیا۔ رومی بادشاہ نے 337 میں مسیحیت کو قبول کیا تھا، اور اس کے بعد 610 میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے نبوت ملی۔ اس طرح رومی بادشاہ کی قبولیت مسیحیت کا واقعہ۔

اس طرح رومی بادشاہ کی قبولیت مسیحیت کا واقعہ نبوت محمدی سے تقریباً 375 سال پہلے پیش آیا۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 63۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.