← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Hazrat Yousuf ki misaal
Urdu · 6 min
حضرت یوسف کی مثال: عملی حالات کا تعلق مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حالات کسی ایک پیغمبر پر نہیں گزرتے، اس لیے یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی پیغمبر کی زندگی میں ہر قسم کے حالات کے لیے نمونہ موجود ہو۔ اس سلسلے میں یہاں ایک مثال نقل کی جاتی ہے: موجودہ زمانے میں حکومت کا ایک نیا نظام رائج ہوا ہے جو پچھلے زمانوں میں موجود نہ تھا۔ اس نظام کو ڈیموکریسی کہا جاتا ہے۔
ڈیموکریسی کا نظام قدیم زمانے کی بادشاہت سے بالکل مختلف ہے۔ قدیم بادشاہت میں صرف ایک شخص کو مطلق حاکم کا درجہ حاصل ہوتا تھا، لیکن موجودہ ڈیموکریسی پورے سماج کے مشترک اقتدار کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈیموکریسی کے نظام کو ایک لفظ میں اشتراکِ اقتدار کا نظام، یعنی پاور شیئرنگ سسٹم، کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں دنیا کے بہت سے ملکوں میں ڈیموکریسی کا نظام رائج ہے۔
ان ملکوں میں مسلمان بھی ایک اقلیتی گروہ کے طور پر رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ملکوں کے مسلمان کیا کریں؟ اگر وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس نوعیت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو یہاں ان کو اس کا کوئی عملی نمونہ نہیں ملے گا جس سے وہ اس معاملے میں واضح سیاسی رہنمائی حاصل کر سکیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر دو حالتوں کے نمونے ملتے ہیں: ایک مکی دور کا نمونہ، جہاں آپ صرف داعی کی حیثیت میں کام کرتے رہے، اور دوسرا مدنی دور کا نمونہ، جہاں آپ حاکم کی حیثیت حاصل ہو گئے۔
سیاسی اقتدار میں اشتراک کے لیے کوئی واضح نمونہ نہ آپ کے مکی دور میں ہے اور نہ آپ کے مدنی دور میں۔ قرآن کے مذکورہ حکم، یعنی الانعام، کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس معاملے میں ہم کو ایک واضح رہنمائی مل جائے گی۔ یہ رہنمائی حضرت یوسف کی زندگی میں ہے۔ حضرت یوسف ثابت شدہ طور پر خدا کے ایک پیغمبر تھے۔
مصر میں آپ کے ساتھ کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہاں کے ہم عصر غیر مسلم حکمران اپوفیس نے آپ کو ایک بڑے سرکاری عہدے کی پیشکش کی۔ یہ عہدہ بظاہر وزارتِ زراعت کا عہدہ تھا، مگر یہ تقریباً 4000 سال پہلے کی بات ہے۔ اس زمانے کی اقتصادیات کا انحصار زیادہ تر زراعت پر تھا۔ زندگی کے تمام معاملات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے جڑے ہوئے تھے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس زمانے کے وزیرِ زراعت کی حیثیت عملی طور پر تقریباً وہی تھی جو موجودہ زمانے میں وزیراعظم کی ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مذکورہ مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کو اس عہدے کی پیشکش کی تو بائبل کی روایت کے مطابق اس نے حضرت یوسف سے کہا: "سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکموں پر چلے گی، فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگتر ہوں گا۔ " پیدائش باب 41۔ ڈھانچے کے فرق کے ساتھ یہ صورت عملی طور پر تقریباً وہی تھی جس کو ہم نے اشتراکِ اقتدار یعنی پاور شیئرنگ کا نام دیا ہے۔
قرآن اور بائبل کے مطابق حضرت یوسف نے بادشاہ کی پیشکش کو منظور کر لیا۔ بادشاہ کو قانونی صدرِ مملکت مانتے ہوئے وہ اس کی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار میں شرکت کا اصول ایک ایسا اصول ہے جس کی اصولی تصدیق پیغمبر کے اسوے سے ہوتی ہے۔ اس نظیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کی ڈیموکریسی کے نظام میں شرکت اصولی طور پر بالکل جائز ہے، اور کسی بھی درجے میں اسلام کے خلاف نہیں۔
اگر مسلمان کسی ملک میں ڈیموکریسی کے حالات پائیں تو انہیں اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں شرکت کرنی چاہیے۔ ایسے نظام میں ان کی شرکت پیغمبرانہ اسوے کے مطابق ہوگی، نہ کہ اس کے خلاف۔ سیاست کا معاملہ ایک اجتماعی اور سماجی معاملہ ہے۔ ایسے معاملے میں بعض اوقات قابلِ عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ سماج کے مختلف عناصر کی مجموعی رعایت کی جائے۔
ڈیموکریسی اسی قسم کا ایک عملی نظام ہے، اور حضرت یوسف کا نمونہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اگر حالات کے اعتبار سے ایسے نظام میں شرکت کریں تو ان کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہوگا۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 61۔