محبت فاتحِ عالم قرآن کی سورۃ الانعام، سورہ نمبر 85 آیت 90 میں ایک ساتھ تقریباً 20 پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہے؛ ان میں حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی شامل ہیں۔ پیغمبروں کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں یہ آیت ہے کہ «أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهِدَاهُ مُحْتَدِينَ» سورہ نمبر 6 آیت 90۔ یہ وہ پیغمبر ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، تو تم بھی ان کی ہدایت کی اتباع کرو۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے انبیاء بھی امت محمدی کے لیے قابلِ اتباع ہیں۔
یہ بات قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی کہی گئی ہے؛ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ نمبر 42 میں ارشاد ہوا ہے: "اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ تم لوگ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں الگ الگ نہ ہو جاؤ۔ " عشورہ 13۔ معلوم ہوا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کے جو پیغمبر آئے، ان کے ثابت شدہ طریقے امت محمدی کے لیے بھی اسی طرح نمونہ ہیں جس طرح وہ خود ان پیغمبروں کی اپنی امت کے لیے نمونہ تھے۔ دیگر انبیاء کا قابلِ اتباع ہونا قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے، اور علمائے اسلام نے اس کو ایک اصولِ دین کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
ملاحظہ ہو: "الجامع لاحکام القرآن للقرطبی" جلد 7 صفحہ 35۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے انبیاء کے حالات کافی تفصیل سے آئے ہیں۔ یہ حالات محض ایک داستان کے طور پر نہیں ہیں، بلکہ وہ نمونے کے طور پر ہیں۔ چنانچہ جس طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں "اسوہ" کا لفظ آیا ہے سورہ نمبر 33 آیت 21، اسی طرح قرآن میں حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کو بھی اہلِ اسلام کے لیے اسوہ یعنی نمونہ قرار دیا گیا ہے۔
سورہ نمبر 60 آیت 4 تا 6۔ قرآن کا یہ اصول عملی اعتبار سے نہایت اہم ہے، اس لیے کہ انسان کی زندگی بے حد وسیع اور متنوع ہے۔ فرد اور جماعت دونوں کے حالات ہمیشہ بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ہر پیغمبر اور ان کے متبعین کے یہاں ایسی مثالیں ملتی ہیں جو بعد کے لوگوں کے لیے نمونہ بن سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کے مستند حالات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، تاکہ بعد کے زمانے کے خدا پرست لوگ ان سے اپنے حالات میں رہنمائی لے سکیں۔ قرآن میں اگر پچھلے پیغمبروں کے یہ واقعات نہ بتائے جاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ قدیم زمانے کے انبیاء اور ان کے پیروں کے دینی تجربات ہمیشہ کے لیے غیر معلوم رہتے، اور ان سے فائدہ اٹھانا بعد کے اہلِ ایمان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.