توکل اور اعتماد۔ اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو "توکل علی اللہ" کہا جاتا ہے، یعنی ہر حال میں اللہ کے اوپر بھروسہ رکھنا، اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہونا۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ "اور تم اللہ پر توکل کرو" اور اللہ کارساز ہونے کے لیے کافی ہے۔ سورہ نمبر 33، آیت 3۔
دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ "تم اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو"۔ سورہ نمبر 5، آیت 23۔ اسی طرح قرآن میں اہلِ حق کی زبان سے کہا گیا ہے کہ "اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر کریں گے" اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ سورہ نمبر 14، آیت 12۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "تم اس طرح رہو، تم اس طرح کہو کہ اللہ میرے لیے کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں"۔ سورہ نمبر 39، آیت 38۔ توکل کا عقیدہ امید اور یقین کا لازوال سرچشمہ ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جہاں تمہاری کوششوں کی حد آ جائے، وہاں ایک اور ہستی تمہاری مدد کے لیے موجود رہتی ہے، جس کی کوئی حد نہیں۔
جہاں معلوم اسباب ختم ہو گئے ہوں، وہاں نامعلوم اسباب کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذریعہ تمہارا ساتھ دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں تم اپنی اطاعت سے کامیاب نہیں ہو سکتے، وہاں تمہارا خدا اپنی لامحدود طاقتوں کے ساتھ تم کو کامیاب بنانے کے لیے موجود ہے۔ توکل کا یہ عقیدہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی اس کا حوصلہ نہ ٹوٹے۔
بظاہر ناامیدی کے طوفان میں بھی وہ اپنی امید کو برقرار رکھے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک شخص کا اسلام کے عقیدے پر کھڑا ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اٹل حوصلے کی زمین پر کھڑا ہونا ہے۔ یہ ناقابلِ شکست عزم کی چٹان پر کھڑا ہونا ہے۔
یہ ایک ایسی برتر امید پر کھڑا ہونا ہے جو طوفانی حالات میں بھی آدمی کو مایوسی سے بچائے رکھے۔ جو اس کو ہر حال میں عزم و ہمت کا پیکر بنائے رہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.