Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Nakhushgawari me khushgawar pahlu

Urdu · 4 min

ناخوشگواری میں خوشگوار پہلو۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ سورہ نمبر 2، آیت 216۔ یعنی: ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بھلی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔

اور اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔ انسان ایک ایسی دنیا میں جیتا ہے جہاں اس کے سوا بے شمار دوسرے اسباب ہیں جو رات دن اپنا کام کر رہے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو واقعات پیش آتے ہیں، وہ زیادہ تر انہی خارجی اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو اس کی خواہش یا اس کے اپنے منصوبے کے خلاف ہو۔

اگر آدمی زیادہ باشعور نہ ہو تو ایسے واقعات کو دیکھ کر گھبرا جائے گا۔ وہ اپنے کو ایک مصیبت زدہ یا ناکام انسان سمجھ لے گا۔ قرآن کے مذکورہ بیان میں ایسے انسان کے لیے ایک عظیم رہنمائی ہے۔ یہ رہنمائی انسان کو ایک مستقل سکون عطا کرتی ہے۔

وہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مصیبت کے لمحات میں بھی یہ سوچ کر مطمئن رہے کہ اس مصیبت میں بھی یقیناً راحت کا کوئی پہلو چھپا ہوا ہوگا۔ وہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ مشکل لمحات میں بھی وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنے ناخوشگوار حال میں ایک خوشگوار مستقبل کا منظر پیشگی طور پر دیکھنے لگے۔ ایسا انسان اپنے اس مزاج کی بنا پر ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔

وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت یا اپنے وجود کا کوئی حصہ بے فائدہ طور پر ضائع نہ ہونے دے۔ وہ اس علمناک انجام سے محفوظ رہے کہ ایک ناخوشگوار صورتحال سے متاثر ہو کر وہ اپنے آپ کو ہلاک کر لے، حالانکہ آئندہ آنے والے حالات اس کے لیے ایسی خبریں لائیں جو عین اس کے حق میں ہوں، اور مزید اضافے کے ساتھ ٹھیک وہی ہو جس کو وہ اپنے لیے چاہ رہا تھا۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.