تکلیف میں راحت: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما يصيب المؤمن من وصبٍ ولا نصبٍ ولا همٍ ولا حزنٍ ولا أذَنٍ ولا غمٍ، حتى الشوكة يشاكها إلا كفَّر الله من خطاياه». صحیح البخاری، حدیث نمبر 5641۔ یعنی: جب بھی کسی مسلم پر کوئی تھکان، یا درد، یا رنج، یا حزن، یا تکلیف، یا غم پہنچتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ ضرور ان مصیبتوں کو اس کی خطاؤں کے لیے کفارہ بنا دیتا ہے۔ یہاں مسلم سے مراد وہ انسان ہے جس کو حقیقت کی پہچان ہو گئی ہو، جو چیزوں کو اس کے صحیح رخ سے دیکھنے کے قابل ہو جائے، جو خدا کی خدائی کو دریافت کر لے، اور اسی کے ساتھ انسان کی انسانیت کو بھی۔
ایسا انسان اپنی حقیقت شناسی کی بنا پر وہ انسان بن جاتا ہے جو ہر آنے والی صورتحال کا صحیح جواب، یعنی رسپانس، دے سکے۔ ایسے انسان پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی سوچ کو جگانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایسے تجربات کے درمیان وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت کے وقت فریاد اور شکایت کرنے کے بجائے وہ قادرِ مطلق خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔
ان تجربات کے درمیان وہ اپنی حیثیتِ واقعی کا ادراک کر لیتا ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسلم وہ ہے جو زندگی کے تلخ تجربات کو منفی معنوں میں لینے کے بجائے ان کو مثبت معنوں میں لے سکے۔ مسلم انسان کی یہ صفت اس کے لیے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کا محرک بن جاتی ہے۔ دنیا کی ہر ٹھوکر اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے معاملے پر از سرِ نو غور کرے، وہ اپنا احتساب آپ کرنے لگے۔
اصلاحِ خویش کے اس عمل کا دینی نام کفارہ ہے۔ اسلام کا یہ اصول انسان کے لیے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو بار بار مختلف قسم کی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ آدمی اگر باشعور نہ ہو تو دنیا کی مصیبت اس کے لیے صرف مصیبت یا تکلیف ہوگی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
مگر جو انسان صاحبِ معرفت ہو، جس کے ایمان نے اس کو باشعور بنا دیا ہو، وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی تکلیف کو بھی راحت بنا سکے۔ اپنے 'نہیں' کو 'ہے' میں تبدیل کر سکے، وہ کھونے کو بھی اپنے لیے 'پانا' بنا لے۔ اسلام کا یہ تصور انسان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ وہ تکلیف کے احساس کو بھی راحت کے احساس میں بدل دیتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کبھی گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ ہر مصیبت کے موقع پر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت نے میری زندگی کی کسی غلطی کو میرے اعمال کے ریکارڈ سے مٹا دیا، مجھے قصوروار انسان کے مقام سے اٹھا کر بے قصور انسان کی صف میں پہنچا دیا۔ کتاب 'تعمیرِ انسانیت'، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 50۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.