Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Qanaat eik nemat

Urdu · 4 min

قناعت ایک نعمت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ». مسند احمد، حدیث نمبر 6572۔ یعنی: وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدرِ ضرورت روزی ملی، اور اللہ کی توفیق سے وہ اس پر قانع رہا جو اللہ نے اس کو دیا تھا۔

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان اونچ نیچ رہتی ہے۔ اس بنا پر اکثر انسان سکون سے محروم زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو دیکھتے رہتے ہیں جن کو ان سے زیادہ ملا ہوا ہے۔ اس طرح وہ مسلسل طور پر ایک قسم کی حسرت کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں، اور اسی حال میں مر جاتے ہیں۔

اس کا حل اسلام میں قناعت بتایا گیا ہے۔ قناعت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ملے ہوئے پر مطمئن رہے، اور نہ ملے ہوئے کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کرے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا میں ہر ایک کو وہی ملتا ہے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ جس آدمی کو کم ملا، وہ بھی خدا کے حکم سے تھا، اور جس کو زیادہ ملا، وہ بھی خدا کے حکم سے تھا۔

یہ عقیدہ آدمی کو ابدی سکون عطا کرتا ہے۔ وہ اس یقین میں جینے لگتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا، وہ اتفاقاً نہیں تھا، بلکہ یہ عین وہی ہے جو خود اس کی بہتری کے لیے اس کو ملنا چاہیے تھا۔ اگر ایک شخص کو بظاہر دنیا کا رزق کم ملا ہے، تو یہ اس کے حق میں خدا کی ایک عظیم مہربانی ہے۔ اس طرح خدا چاہتا ہے کہ وہ شخص ظاہری ساز و سامان میں زیادہ مصروف نہ ہو سکے۔

وہ خارجی ظواہر سے بلند ہو کر معنوی حقائق میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہو۔ مادی چیزوں میں کم پر راضی ہونے کا نام قناعت ہے۔ اسی طرح مادی چیزوں میں زیادہ کا طالب بننے کا نام حرص ہے۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی قناعت کی روش پر قائم ہو، اس پر ہر قسم کے علمی دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔

اس پر ہر قسم کے علمی دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ اس پر معرفت اور روحانیت کی بارشیں ہوں گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی حرص و ہوس کا طریقہ اختیار کرے، وہ ظواہر کی محدود دنیا میں گم ہو کر رہ جائے گا۔ حقائق کی وسیع تر دنیا اس کی دسترس سے باہر ہوگی۔

وہ ایک خوشنما حیوان کی طرح زندگی گزارے گا۔ وہ انسانیت کا اعلیٰ درجہ پانے سے محروم رہے گا۔ کم پر قناعت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔

جو آدمی مادی چیزوں میں کم پر راضی ہو جائے، وہ گویا غیر مادی چیزوں میں اپنے آپ کو زیادہ کا مستحق بنا رہا ہے۔ وہ غیر اہم چیزوں میں پیچھے کی سیٹ کو قبول کر کے زیادہ اہم چیزوں میں آگے کی سیٹ پر اپنے لیے زیادہ بہتر جگہ حاصل کر رہا ہے۔ کتاب «تعمیرِ انسانیت» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.