← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Science ke daur me
Urdu · 10 min
سائنس کے دور میں اسی طرح جدید سائنس کے ظہور نے شرک کی دوسری بنیاد کو بھی ختم کر دیا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے یہ افسانہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا کہ فطرت کے مظاہر میں کوئی حقیقی تعداد ہے یا انہیں کوئی ذاتی عظمت حاصل ہے۔ جدید سائنس نے ایک طرف یہ کیا کہ اپنے تجزیے اور تجربے کے ذریعے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ تمام چیزیں ظاہری تعدد کے باوجود اپنے آخری تجزیے میں صرف ایٹم کا مجموعہ ہیں، اور ایٹم برقیاتی لہروں کا مجموعہ ہیں۔ اس دریافت کے بعد فطرت میں تعدد کا افسانہ ختم ہو گیا؛ تمام چیزیں ظاہری فرق کے باوجود اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ثابت ہو گئیں۔
گویا علم کی اگلی ترقی نے مشرکانہ نظریے کو رد کر کے توحید کے نظریے کے لیے ایک ثابت شدہ بنیاد فراہم کر دی۔ اسی کے ساتھ جدید سائنس نے دوسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چیزیں ہیں، وہ سب کی سب بے بس مخلوق ہیں، سب کی سب ایک محکم قانون فطرت میں بندھی ہوئی ہیں۔ انہیں کسی بھی درجے میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اور بات ثابت ہو گئی جو عقیدہ شرک کے سراسر خلاف اور عقیدہ توحید کے سراسر موافق ہے، وہ یہ کہ ساری کائنات اپنے تمام مختلف اجزاء کے ساتھ ایک ہی قانون فطرت کے تحت چل رہی ہے، جس کو سائنسدان اپنی زبان میں واحد ڈوری یعنی سنگل اسٹرنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ خود علم انسانی کی دریافتوں کے مطابق کائنات کا صرف ایک خدا ہے، اس کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی معبود۔ شرک کی اصل توہماتی طرز فکر یعنی سپر اسٹیشس تھنکنگ میں ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے قدیم زمانے کے توہمات یعنی سپر اسٹیشنز کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اس طرح شرک کی جڑیں موجودہ زمانے میں خالص علمی اعتبار سے ختم ہو گئیں۔
اب کوئی سائنٹیفک ذہن یعنی سائنٹیفک مائنڈ شرک کو بطور حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم ابھی تک شرک کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ پہلے زمانے میں انسان یہ عقیدہ قائم کیے ہوئے تھا کہ فلاں فلاں دیوی دیوتا ہیں جو ہوائیں چلاتے ہیں، جو بارش برساتے ہیں، جو پراسرار طور پر ان واقعات کے پیچھے کام کر رہے ہیں جن کو ہم صبح و شام دیکھتے ہیں۔ مگر اب سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب واقعات معلوم فطری قوانین یعنی لاس اف نیچر کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔
وہ کسی پراسرار دیوی یا دیوتا کا کرشمہ نہیں۔ اس طرح قدیم طرز کے شرک کا اب بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایک جاہل اور بے خبر شخص نے جب پہلی بار ایک کار کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے سمجھا کہ یہ کوئی جادوگر ہے جو اپنے لوہے کے کمرے کو جادو کے زور پر دوڑا رہا ہے۔ مگر ایک باخبر انجینئر اس قسم کی بات کو مضحکہ خیز سمجھے گا کیونکہ اس کو یقین ہوگا کہ ایسا کوئی جادو واقع ایسا کوئی جادو واقعے میں موجود ہی نہیں۔
اسی طرح مشرکانہ عقائد یا فرضی معبودوں کا نظام موجودہ زمانے کے ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے پوری طرح مضحکہ خیز بن چکا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بارش کا برسنا یا فصل کا اگنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات تمام تر فطرت کے اصولوں پر مبنی یعنی بیسڈ ہیں۔ قدیم توہماتی دور میں شرک کا عقیدہ قابل قبول ہو سکتا تھا، مگر اب ترقی یافتہ علم کے زمانے میں شرک کا پورا ڈھانچہ عقیدے سے لے کر عمل تک سراسر بے اصل قرار پا چکا ہے۔ ترقی یافتہ زمانے میں شرک کا جو حال ہوا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی اندھیرے کمرے کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے اندر بڑی بڑی سینگوں والا کوئی خطرناک افرید بیٹھا ہوا ہے۔ مگر جب کمرے کو روشن کیا جائے تو معلوم ہو کہ وہاں ایسی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہ تھی۔
سائنس کے ظہور سے پہلے دنیا میں توہماتی خیالات کا غلبہ تھا۔ اس وقت کم فہمی کے تحت لوگ شرک کے فریب میں مبتلا ہو سکتے تھے۔ مگر اب سائنس کی روشنی پھیل جانے کے بعد اس کا امکان ختم ہو گیا ہے کہ شرک دوبارہ لوگوں کے ذہن میں اپنی جگہ بنا سکے۔ تاہم خود توہمات کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوا۔
ذاتی زندگی میں آج بھی ساری دنیا میں کروڑوں لوگ پراسرار قسم کے توہمات میں یقین رکھتے ہیں۔ اہل علم طبقے کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دیوی دیوتاؤں کو تو نہیں مانتی مگر اب بھی وہ خدائے واحد تک نہیں پہنچی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی پچھلی نسلیں اگر دیوی دیوتاؤں میں اٹکی ہوئی تھیں تو اب قانون فطرت کے نام سے انہوں نے ایک اور معبود کو فرض کر لیا ہے اور اس کو اپنے ذہن میں اسی طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح قدیم انسان دیوی دیوتاؤں کو بٹھائے ہوئے تھا۔ اس طرح انسانی تاریخ گردش کرتے ہوئے اب ایک ایسے دور میں پہنچ گئی ہے جبکہ پیغمبروں کی تحریک کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔
آج رد شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو آزادانہ طور پر اور انتہائی موثر انداز میں برپا کیا جا سکتا ہے۔ دور جدید میں سیاسی اور بین الاقوامی فضا میں پوری طرح اس کے موافق ہو چکی ہے۔ دور جدید میں سیاسی اور بین الاقوامی فضا بھی پوری طرح اس کے موافق ہو چکی ہے۔ تمام علمی دلائل اسی کی تائید کر رہے ہیں۔
حتی کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج توحید کی تحریک بلا مقابلہ کامیابی یعنی ان اپوزڈ وکٹری حاصل کرنے کی پوزیشن میں پہنچ گئی ہے۔ اس کے راستے میں اب کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہل توحید نئے عزم و حوصلے کے ساتھ اٹھیں اور دنیا کی تمام قوموں کو نئی طاقت کے ساتھ توحید کی حیات بخش حقیقت سے آشنا کر دیں۔ قدیم زمانے میں انسانی زندگی میں اور انسانی سماج میں بے شمار برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔
ان کے نتیجے میں انسان اپنی فطری عظمت سے محروم ہو گیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے اٹھائی ہوئی تحریک توحید تھی جس نے دنیا کو اس علم ناک دور سے نکالا اور انسانیت کو حقیقی معنی میں ترقی کے دور میں داخل کیا۔ انسان پہلی بار ان سعادتوں سے ہمکنار ہوا جو خدا نے اس کے لیے مقدر کی تھیں۔ مگر خود ساختہ توہمات کے نتیجے میں اس نے اپنے آپ کو ان سے محروم کر رکھا تھا۔
انسانیت تاریکی کے طویل دور سے نکل کر روشنی کے نئے دور میں داخل ہو گئی۔ اب بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان دوبارہ مسائل کے اندھیروں میں گرفتار ہو گیا ہے۔ خوشنما تمدن کے اندر وہ حقیقی خوشی اور سکون سے محروم ہے۔ انسان کی فطری عظمت دوبارہ پستیوں کے نئے کھڈ میں جا گری ہے۔
اب ضرورت ہے کہ توحید کی دعوت کو اثر نوع نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ ایک طرف اس کے نئے دلائل اور نئے اسلوب کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنایا جائے اور دوسری طرف جدید ذرائع اشاعت کو استعمال کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک تاریخی گوئی اپنی ایک تاریخ گوئی میں اس طرح فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ خدا کے دین کا پیغام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہ بچے گا جس کے اندر توحید کا کلمہ پہنچ نہ گیا ہو۔
کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 34۔