Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Paighambaron ka mission

Urdu · 8 min

پیغمبروں کا مشن: پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو شرک سے ڈرائیں اور انہیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا، خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعے کو خران میں اس طرح بتایا گیا ہے: "افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ " سورہ نمبر 36، آیت 30۔

خدا کے پیغمبروں کو نظرانداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں، مگر پیغمبروں کا تذکرہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس معاملے میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد استثنا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی، چنانچہ آپ نے پہلی بار رد شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلے سے اٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنا دی۔

رد شرک اور اثبات توحید کی یہ تحریک قدیم زمانے میں کیوں عملی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکی؟ اس کا سبب خاص طور پر دو تھا: ایک، بادشاہت کا نظام؛ دوسرے، توہماتی افکار کا غلبہ۔ یہی دو بنیادی اسباب تھے جو پیغمبروں کے مشن کے خلاف ایک مستقل رکاوٹ بنے رہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے دور میں مشرکانہ بادشاہت کا نظام قائم تھا۔

موجودہ زمانے میں جمہوری سیاست کا اصول رائج ہے: سیاسی لیڈر عوامی ووٹوں کے ذریعے اپنے لیے حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے بادشاہ اس کے برعکس یہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں، ہم خدا کی اولاد ہیں۔ اسی نظریے کے تحت قدیم زمانے میں سورج ونشی اور چندر ونشی کا عقیدہ پیدا ہوا۔ گویا موجودہ زمانے میں حکومت کی بنیاد سیکولر جمہوریت ہے، جبکہ قدیم زمانے میں حکومت کی بنیاد مشرکانہ عقیدے پر ہوتی تھی۔

اسی واقعے کی طرف خران میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى سورہ نمبر 79، آیت 24۔ اس بنا پر یہ بادشاہوں کے عین سیاسی مفاد میں تھا کہ شرک کا عقیدہ دنیا میں قائم رہے۔ چنانچہ ان کی خصوصی سرپرستی کے تحت عبادت گاہ سے لے کر جینے مرنے کی رسموں تک زندگی کا پورا نظام شرک کے اوپر قائم ہو گیا تھا۔ یہ مشرکانہ نظام قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک تمام دنیا میں چھایا رہا۔

بادشاہوں کی سرپرستی کی بنا پر یہ مشرکانہ نظام اتنا زیادہ طاقتور ہو گیا کہ وہ ہمیشہ پیغمبروں کے خلاف ایک موثر رکاوٹ بنا رہا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں پیغمبروں کی تحریک صرف پیغام رسانی کے مرحلے تک محدود رہی، وہ وسیع تر عملی انقلاب کے مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ اس سلسلے میں دوسری رکاوٹ وہ تھی جس کو توہماتی افکار کا دور کہا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانے میں جبکہ جدید قسم کی سائنسی دریافتیں نہیں ہوئی تھیں، انسان فطرت کے مظاہر کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھ پایا تھا۔

وہ دیکھتا تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کی حیران کن چیزیں ہیں: سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور سمندر، زمین اور آسمان، درخت اور حیوانات وغیرہ وغیرہ۔ مظاہر کے اس تعدد کو دیکھ کر انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ ان کے خالق بھی کئی ہیں، یا یہ کہ مختلف مظاہر خود مختلف خداؤں کا ظہور ہیں۔ اس طرح تعدد مظاہر، اس طرح تعدد تعدد مظاہر کی بنا پر تعدد الہ کا نظریہ پیدا ہوا، یہاں تک کہ سورج اور چاند کو ان کے غیر معمولی پن کی بنا پر خدا یا دیوتا سمجھا جانے لگا۔ انسان کے لیے ناقابل یقین ہو گیا کہ جب مخلوقات میں اتنا زیادہ تنوع اور تعدد ہے تو ان سب کا خدا ایک کیسے ہو سکتا ہے؟

اسی حقیقت کی طرف خدا کے پیغمبر حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّارِ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا۔ سورہ ابراہیم، آیت 36۔ یعنی فطرت کے یہ نمایاں مظاہر، یعنی سورج، چاند وغیرہ، نے انسان کو دھوکے میں ڈال دیا۔ لوگ انہی مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے، حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔

مگر اس کے برعکس انہوں نے خود مخلوقات ہی کو خدا سمجھ کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانے میں مذکورہ دونوں افسانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک طرف جمہوری افکار کے ذریعے ساری دنیا میں جو طاقتور سیاسی انقلاب آیا، اس نے قدیم طرز کی مشرکانہ بادشاہت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اب آج کی دنیا میں قدیم طرز کے بادشاہوں کا کہیں وجود نہیں۔

وہ جدید جمہوریت کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ بہہ گئے۔ اس جدید سیاسی انقلاب کے بعد مشرکانہ عقیدہ یا مشرکانہ نظام اس موثر سرپرستی سے محروم ہو گیا جو رد شرک اور اثبات توحید کی دعوت میں طاقتور رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اب یہ امکان پوری طرح کھل گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کو بھرپور طور پر جاری کیا جائے اور اس کو اس طرح چلایا جائے کہ اول سے آخر تک کسی بھی مرحلے میں اس کو کسی مزاحمت کا خطرہ نہ ہو۔ کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.