Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Eik Jayeza

Urdu · 7 min

ایک جائزہ: اب مذکورہ اصولوں کی روشنی میں مختلف مذاہب کا ایک مختصر جائزہ لیجیے۔ اس سلسلے میں پہلا معیار تاریخی معیار ہے۔ اس معیار کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام کے واحد استثنا کو چھوڑ کر تمام معروف مذاہب خالص تاریخی معیار پر غیر مستند قرار پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوازم میں رام کو ایک راجہ کا بیٹا بتایا گیا ہے، مگر معلوم تاریخی ریکارڈ میں ایسے کسی راجہ یا راجہ فیملی کا کوئی ثبوت نہیں۔

اسی طرح کرشن کو ایک بڑی جنگ کے کرداروں میں سے ایک کردار مانا گیا ہے، مگر خالص تاریخ کے اعتبار سے ایسی کسی جنگ کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح گوتم بدھ کی طرف کچھ تعلیمات منسوب کی جاتی ہیں، حالانکہ آج تک یہ ثابت نہیں کہ گوتم بدھ کون سی زبان بولتے تھے۔ اسی طرح ویدوں کو ہندوازم کی مقدس کتاب مانا جاتا ہے، مگر ویدوں کی تاریخ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ خالص تاریخی ماخذ کی بنیاد پر کوئی نہیں بتا سکتا کہ وید کب لکھے گئے اور ان کے لکھنے والے کون تھے۔

حضرت مسیح کے پیغمبر ہونے کی اصولی تصدیق قرآن سے معلوم ہوتی ہے، مگر فلسطین اور شام کی باقاعدہ تاریخ میں ان کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ حضرت مسیح کا کچھ ترجمہ شدہ کلام نئے عہد نامہ یعنی انجیل کی صورت میں آج موجود ہے، مگر اس کو معتبر نہیں کہا جا سکتا، حتیٰ کہ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت مسیح نے کس زبان میں کلام کیا تھا۔ کیونکہ اس وقت فلسطین کے علاقے میں کئی زبانیں رائج تھیں، مثلاً رومی اور عبرانی وغیرہ۔ یہی معاملہ اسلام کے سوا تمام مذاہب کا ہے: یہ مذاہب خالص تاریخی طور پر غیر معتبر ہیں۔

اور جو مذہب تاریخی اعتباریت یعنی ہسٹوریکل کریڈیبلٹی نہ رکھتا ہو، وہ خالص علمی اعتبار سے زیرِ بحث آنے کی پوزیشن ہی میں نہیں۔ اب دوسرے معیار کے پہلو سے دیکھیے، یہاں بھی پہلے ہی جیسا معاملہ ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے بڑے مذہبوں میں سے کوئی بھی مذہب اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مثال کے طور پر ہندوازم کی مقدس کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ ستارے انسان کی قسمت پر اثر انداز ہوتے ہیں، مگر سائنسی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

اسی طرح ہندو مذہب کے مقدس بزرگ یُدھشٹر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی سچائی کی بنا پر ان کا رتھ زمین کے اوپر چلتا تھا، اور ایک بار جب وہ جھوٹ بولے تو ان کا رتھ نیچے گر کر زمین پر آ گیا۔ لیکن زمین کا سائنسی مطالعہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ سچ یا جھوٹ زمین کی قوتِ کشش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح اکثر غیر اسلامی مذاہب میں یہ مانا گیا ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں خدا کے وجود کا حصہ ہیں۔ یہ خود خدا ہے جو مختلف اشیاء کی صورت میں اپنا ظہور دکھا رہا ہے۔

تمام چیزیں خدا کے وجود کا انش ہیں، مگر علمی تجزیے سے یہ نظریہ ثابت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کائنات کی مختلف موجودات کا حال یہ ہے کہ ان کو کاٹا جا سکتا ہے، ان کو جلایا جا سکتا ہے، ان کو مختلف صورتوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ اب یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ جو چیزیں خدا کے وجود کا حصہ ہوں، ان کے اوپر اس طرح انسانی عمل جاری ہو سکے۔ تیسرے معیار پر بھی اسلام کے سوا کوئی مذہب پورا نہیں اترتا۔

اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب ناقابلِ عمل اور غیر مفید تعلیمات سے بھرے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جین مذہب اور بدھ مذہب میں سب سے بڑا گناہ جان کو مارنا ہے، اور سب سے بڑی نیکی جان کو بچانا۔ یہاں تک کہ جین مذہب کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ رام اور کرشن نرک میں گئے کیونکہ انہوں نے تلوار اور تیر کمان کے ذریعے جان کو مارا تھا۔ بدھ مذہب اور جین مذہب کا یہ عقیدہ اس معنی میں نہیں ہے کہ ظلم اور زیادتی کے طور پر کسی کو نہ مارا جائے، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق مطلق طور پر ہی جان کو مارنا ناقابلِ معافی گناہ ہے، نہ چھوٹی جان کو اور نہ بڑی جان کو۔

مگر جدید دریافتوں کے بعد یہ نظریہ سراسر ناقابلِ عمل ثابت ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر ہماری زمین میں کئی حصے ایسے ہیں جہاں غیر لحمی خوراک سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں، یا بہت کم قابلِ حصول ہے۔ ایسی حالت میں اس قسم کا مذہب تمام انسانوں کا مذہب نہیں بن سکتا۔ مزید یہ کہ جدید سائنسی انکشافات نے اس قسم کے عقیدے کو سراسر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر جدید مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ زندگی کا تعلق صرف انسان اور حیوان ہی سے نہیں، بلکہ پانی، دودھ، سبزی اور پھل جیسی چیزوں میں بھی بڑے پیمانے پر زندگی پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ہوا میں بھی کثیر تعداد میں زندہ اجسام موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے والے یا گوشت کھانے والے لوگ ہی زندگی کو مارنے کے مجرم نہیں ہیں، بلکہ وہ لوگ بھی ہر لمحہ بے شمار زندگیوں کو ہلاک کر رہے ہیں جو اپنے خیال کے مطابق سبزی خور ہیں۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مذاہب جدید علمی ترقیوں کے معیار پر اپنی صداقت کو باقی رکھنے میں ناکام ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا کوئی قابلِ عمل نقشہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں موجود نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.