Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Insan ki talash

Urdu · 7 min

انسان کی تلاش۔ انسانی تاریخ ایک مسلسل تلاش کا نام ہے۔ انسان کی تاریخ جتنی قدیم ہے، اتنی ہی قدیم اس کی تلاش بھی ہے۔ مگر بے شمار علمی اور تمدنی ترقیوں کے باوجود، ابھی تک انسان اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔

انسانیت کا قافلہ بدستور تلاش کے صحرا میں حیران و سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت کی یہ تلاش سب سے پہلے فلسفیوں نے باقاعدہ صورت میں شروع کی۔ ہزاروں بڑے بڑے دماغوں نے اپنی پوری زندگی اسی تلاش میں ختم کر دی، مگر وہ کسی قابلِ اعتماد جواب تک نہ پہنچ سکے۔ انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل، وفات 1970، نے بیسویں صدی کا اعلیٰ ترقی یافتہ زمانہ پایا۔

وہ تقریباً 100 سال تک زندہ رہا۔ اس نے اپنی ساری عمر علوم کے مطالعے میں گزار دی۔ اس کے باوجود، وہ اس حال میں مرا کہ وہ دنیا کو کوئی فلسفۂ حیات نہ دے سکا۔ چنانچہ برٹرینڈ رسل کو بے فلسفہ فلسفی، یعنی فلاسفر آف نو فلاسفی، کہا جاتا ہے۔

تاہم یہ صرف برٹرینڈ رسل کی بات نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے تمام فلسفیوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فلسفی انسان کو اس کی تلاش کا کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر پچھلے 5000 سال میں فلسفہ اپنی تلاش کا جواب پانے میں ناکام رہا ہے، تو اگلے 5000 سال میں وہ اس کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ تلاش کی مدت کا نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ تلاش کی مدت کا نہیں ہے، بلکہ تلاش کے معاملے میں فلسفے کی نااہلی کا ہے۔ حقائق کی دنیا اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان اپنے محدود ذہن کے تحت اس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ ایک مغربی مفکر نے بجا طور پر کہا ہے کہ "علم میں ہر اضافہ صرف اپنی بے علمی میں اضافے کے ہم معنی ہے"۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں۔

We are knowing more and more about less and less. فلسفے کے بعد اس معاملے میں دوسرا نام سائنس کا آتا ہے۔ مگر سائنس نے آغاز ہی میں اس معاملے میں اپنے عجز کا اعتراف کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی معروف ترقیاں تمام تر اسی اعترافِ عجز کا نتیجہ ہیں۔

فلسفہ یہ کوشش کر رہا تھا کہ وہ چیزوں کا علم، یعنی نالج آف تھنگز، اور سچائیوں کا علم، یعنی نالج آف ٹروتھس، دونوں کو بیک وقت دریافت کرے۔ مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا کہ سچائی کے علم تک پہنچنا انسان کے لیے اپنی ناکافی استعداد کی بنا پر ممکن ہی نہیں۔ اسی بات کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف علمِ قلیل دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل 58۔

چنانچہ عملی نقطۂ نظر کو اختیار کرتے ہوئے، سائنس نے اپنی کوششوں کو صرف چیزوں کے علم تک محدود کر دیا۔ اس تقسیم کی بنا پر سائنس کو جزوی کامیابی تو ملی، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حقیقت کی تلاش کے معاملے میں سائنس کوئی مفید علمی ذریعہ نہیں ہے، اور نہ وہ کبھی اس کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فلسفہ اور سائنس کے بعد دوسرا جو ذریعہ باقی رہتا ہے، وہ مذہب ہے۔ فلسفہ اور سائنس کے برعکس، مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حقیقت کا علم ہے، اور لوگوں کو اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

دنیا میں تقریباً ایک درجن بڑے مذاہب ہیں، اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے۔ مگر مسلمہ اصول کے مطابق، کسی مذہب یا فکری نظام کو صرف دعوے کی بنیاد پر نہیں مانا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ مسلمہ علمی اصول پر ان کے دعوے کو جانچا جائے، اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ اب غور کیجیے کہ اس جانچ کا علمی اصول کیا ہو سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ مذاہب کی واقعیت کو جانچنے کے لیے تین بنیادی اصول یہ ہو سکتے ہیں۔ نمبر ایک: زیرِ بحث مذہب کے حق میں تاریخی خرائین کیا ہیں؟ کیا تاریخ کے مسلمہ معیار پر اس کے وجود کی اعتباریت ثابت ہوتی ہے؟ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ صرف غیر ثابت شدہ مفروضات پر مبنی ہے، یا وہ اپنے ساتھ کوئی حقیقی تاریخ رکھتا ہے؟

نمبر دو: مذہب کے دائرے سے باہر علوم کا جو ارتقا ہوا ہے، وہ اس کی تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے یا وہ اس کی تردید کر رہا ہے؟ ثابت شدہ علوم اس کے موافق ہیں یا اس کے خلاف؟ نمبر تین: اس کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے لیے کیا ایسی کوئی اسکیم ہے جو ابدی طور پر قابلِ عمل ہو، اور جس کی افادیت کا عملی ثبوت بھی موجود ہو؟ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.