مستقبل کی قیادت ایک تاریخی قانون، مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بھی 1889 میں لندن میں پیدا ہوا اور 1975 میں یارکشائر میں اس کی وفات ہوئی۔ 35 سال کے لمبے مطالعے کے بعد اس نے اپنی کتاب "مطالعۂ تاریخ" یعنی "A Study of History" لکھی۔ یہ کتاب 12 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، اس کی آخری جلد 1961 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کی 26 معلوم تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے، اور قوموں کے عروج و زوال کا ایک مربوط فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔
آرنلڈ ٹوائن بھی اپنے تاریخی مطالعے کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی نئی تہذیب ظہور میں آتی ہے تو اس کے پیچھے کسی اقلیتی گروہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ دراصل اقلیت ہی ہے جو ان فطری اور تاریخی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہے جو کسی نئے تہذیبی انقلاب کو ظہور میں لانے کے لیے ضروری ہے۔ اس قسم کا تخلیقی انقلاب کبھی کسی اکثریتی گروہ کے ذریعے وجود میں نہیں آیا۔ آرنلڈ ٹوائن بی کے اس تاریخی فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی تہذیب کا ابتدائی مرحلہ ماحول کے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے۔
یہ ماحول نہ تو اتنا سخت ہو جو ترقیاتی عمل کو ابھرنے نہ دے، اور نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقی روح کو معطل کر دے۔ تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دے کر غیر فعال اکثریت کو قیادت فراہم کرتی ہے۔ چیلنج کا جواب دینے کے اس عمل کو مزید تقویت اقلیت کے پیش کردہ حل کی عمومی قبولیت سے ملتی ہے، جو اس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too severe to stifle progress nor too favorable to inhibit creativity, which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority.
The mechanism of challenge-response is complemented by the general acceptance of and loyalty to the minority's solutions. اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک میں جو گروہ اقلیت میں ہو، اس کو عین قانونِ فطرت کے تحت اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا پیش آتا ہے۔ یہ صورتحال ایک طرف اقلیتی گروہ کی صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو فعال بناتی ہے، دوسری طرف اکثریتی گروہ چیلنج سے محفوظ ہونے کی بنا پر غیر فعال ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کو وہ مہمیز نہیں ملتی جو اس کی صلاحیتوں کو بیدار کرے۔
یہ صورتحال مکمل طور پر اقلیتی گروہ کے حق میں ہوتی ہے۔ اب اگر اقلیتی گروہ اتنا کمزور نہ ہو کہ حالات کے دباؤ کے تحت وہ کچل کر رہ جائے، تو یہی وہ تاریخی گروہ بن جاتا ہے جو نئی تہذیب پیدا کرے اور انسانیت کو ایک نئے اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 250۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.